امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امام ہونے کی اکیسویں دلیل آیت قرآنی:﴿ہَلْ اَتٰی﴾ ہے ۔ مفسرثعلبی نے متعدد طرق سے روایت کیا ہے کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما بیمار پڑ گئے۔ تو ان کے نانا اور عام عرب لوگ بیمار پرسی کے لیے آئے۔ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا، ابو الحسن! اپنے بچوں کے لیے نذر مانیے۔ آپ نے تین دن روزہ کی منت مانی۔ اسی طرح ان کی والدہ نے بھی نذر مانی۔اور فضہ نامی ان کی لونڈی نے بھی ایسے ہی نذر مانی۔ چنانچہ بچے تندرست ہو گئے۔آل محمد کے گھر میں تھوڑا یا بہت کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین صاع جو قرض لیے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پیسا اور اس سے پانچ روٹیاں پکائیں ۔ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک روٹی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اور گھر آئے۔ آپ کے سامنے کھانا رکھاگیا تو ایک مسکین آکر کھانا طلب کرنے لگا؛ اس نے کہا : السلام علیکم اے اہل بیت محمد ! مسکین مسلمانوں میں سے ایک مسکین ہوں ؛ مجھے بھی کھانا کھلادو ؛ اللہ تعالیٰ تمہیں جنت کے دستر خوانوں سے کھلائے گا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آواز سن لی ؛ اور مسکین کو کھانا دینے کا حکم دیا۔ چنانچہ کھانا مسکین کو دے دیا؛ اور شب و روز پانی کے سوا کچھ نہ کھایا۔

جب دوسرا روز ہوا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک صاع کھانا پکایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ نماز پڑھ کرگھر تشریف لائے ۔آپ کے سامنے کھانا لاکر رکھا گیا؛ اتنے میں ایک یتیم آکردروازہ پر کھڑا ہوگیا اور کھانا طلب کرنے لگا اس نے کہا: السلام علیکم اے اہل بیت محمد ! ’’ اے محمد کے گھر والو! میں مہاجرین کی اولاد میں سے یتیم ہوں ۔ میرے والد یوم العقبہ کو شہید ہو ئے تھے، مجھے کھانا کھلاؤ، اللہتعالیٰ تمہیں جنت کے دستر خوان پر سے کھانا کھلائے گا۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آواز سن لی ؛ اور اسے کھانا دینے کا حکم دیا۔ تووہ کھانا اسے دیدیا گیا۔اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ [اور ان کے اہل خانہ ]نے دو دن اور دو راتیں پانی کے سوا کچھ نہ کھایا۔

اس طرح جب تیسرا دن ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے تیسرا صاع جو کا پیسا ‘ اور اس سے روٹیاں پکائیں ؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اور گھر آئے۔ آپ کے سامنے کھانا رکھاگیا تو ایک قیدی آکر کھانا طلب کرنے لگا؛ اس نے کہا : کیا آپ ہمیں قیدی بناتے ہیں اور پھر ہمیں بھگاتے ہیں ؛ اور ہمیں کھانا نہیں کھلاتے ۔ میں اسیر محمد ہوں ‘ مجھے کھانا کھلاؤ، اللہتعالیٰ تمہیں جنت کے دستر خوان پر سے کھانا کھلائے گا۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آواز سن لی ؛ اور اسے کھانا دینے کا حکم دیا۔ تووہ کھانا اسے دیدیا گیا۔اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ [اور ان کے اہل خانہ ]نے تین دن اور تین راتیں پانی کے سوا کچھ نہ کھایا۔

چوتھے روز جب آپ نے اپنی نذر پوری کردی ؛ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور حضرت حسین کواپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا ؛اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ۔ بھوک کی شدت سے ایسے کانپ رہے تھے جیسے چھوٹے چوزے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ’’ اے ابو الحسن ! تمہاری اس حالت نے مجھے بہت پریشان کردیا ۔میرے ساتھ میری بیٹی فاطمہ کے گھر چلو ۔‘‘ آپ ان کے پاس چلے گئے۔اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پنے حجرہ میں تھیں ۔اور بھوک کی شدت کی وجہ سے آپ کا پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا۔اور آپ کی آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھیں ۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دیکھا تو چلائے: ہائے غوث ! اللہ کی قسم ! کیا اہل بیت محمد ایسے ہی بھوک سے مرجائیں گے ۔ اس وقت جبرائیل نازل ہوئے ‘اور فرمایا: ’’ اے محمد ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کے اہل بیت کے بارے میں خوشخبری دی ہے ۔آپ نے پوچھا : اے جبریل کیا لیکر آئے ہو؟ توآپ نے یہ آیت پڑھی:﴿ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ﴾ 

’’ کیا انسان پر ایسا وقت نہیں آیا ۔‘‘

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گوناگوں اوصاف کے حامل تھے؛ جو آپ سے پہلے کسی اور کو نہیں ملے۔اور نہ ہی کوئی آنے والا یہ اوصاف پاسکے گا؛ تو اس لحاظ سے آپ باقی لوگوں سے افضل ہوئے ۔پس یہ ان کے امام ہونے کی دلیل ہے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]

[جواب]:اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے : 

پہلی بات:....ہم شیعہ مصنف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی صحت ثابت کرے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم یہ مطالبہ کر چکے ہیں ۔کسی بات کو صرف واحدی ‘ ثعلبی یا ان جیسے لوگوں کا روایت کرلینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ روایت بھی صحیح اور قابل حجت ہے۔اس پر تمام اہل سنت اور شیعہ کا اتفاق ہے۔ اگر دو فریقین کے مابین احکام و فضائل کے مسائل میں سے کسی ایک مسئلہ پر اختلاف ہوجائے ؛ او ران میں سے ایک کوئی ایسی حدیث پیش کرے جس کی صحت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہو ‘ سوائے اس کے کہ ان جیسے مفسرین نے اسے نقل کیا ہے۔تو یہ اس روایت کے صحیح ہونے کی دلیل نہ ہوگی۔ اور نہ ہی اس سے فریق مخالف پر حجت قائم ہوگی۔ اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔

شیعہ کی عادت ہے کہ ایسی روایت پیش کرتے ہیں جو کسی دوسرے نے نقل کی ہو۔ان میں سے اکثر کو یہ علم نہیں ہوتا کہ کیا یہ روایت صحیح ہے یا ضعیف؟ اور ایسی حکایات اور اسرائیلی روایات نقل کرتے ہیں جن کے متعلق باقی لوگ جانتے ہیں کہ اصل میں یہ پوری کہانی ہی باطل ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ شیعہ کا کام ہی فقط نقل کو نقل کرنا ہے۔یا لوگوں کے اقوال کو آگے چلانا ہے؛ بھلے اس میں بہت ساری چیزیں سرے سے ہی باطل ہوں ۔ بسا اوقات بعض منقولات کی صحت اور ضعف پر کلام کرتے ہیں مگریہ ان کے ہاں کوئی پکا اصول نہیں اور نہ ہی اس کا التزام کرتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 5