امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:
امام ابنِ تیمیہؒامامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:
[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امام ہونے کی اکیسویں دلیل آیت قرآنی:﴿ہَلْ اَتٰی﴾ ہے ۔ مفسرثعلبی نے متعدد طرق سے روایت کیا ہے کہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما بیمار پڑ گئے۔ تو ان کے نانا اور عام عرب لوگ بیمار پرسی کے لیے آئے۔ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا، ابو الحسن! اپنے بچوں کے لیے نذر مانیے۔ آپ نے تین دن روزہ کی منت مانی۔ اسی طرح ان کی والدہ نے بھی نذر مانی۔اور فضہ نامی ان کی لونڈی نے بھی ایسے ہی نذر مانی۔ چنانچہ بچے تندرست ہو گئے۔آل محمد کے گھر میں تھوڑا یا بہت کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین صاع جو قرض لیے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پیسا اور اس سے پانچ روٹیاں پکائیں ۔ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک روٹی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اور گھر آئے۔ آپ کے سامنے کھانا رکھاگیا تو ایک مسکین آکر کھانا طلب کرنے لگا؛ اس نے کہا : السلام علیکم اے اہل بیت محمد ! مسکین مسلمانوں میں سے ایک مسکین ہوں ؛ مجھے بھی کھانا کھلادو ؛ اللہ تعالیٰ تمہیں جنت کے دستر خوانوں سے کھلائے گا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آواز سن لی ؛ اور مسکین کو کھانا دینے کا حکم دیا۔ چنانچہ کھانا مسکین کو دے دیا؛ اور شب و روز پانی کے سوا کچھ نہ کھایا۔
جب دوسرا روز ہوا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک صاع کھانا پکایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ نماز پڑھ کرگھر تشریف لائے ۔آپ کے سامنے کھانا لاکر رکھا گیا؛ اتنے میں ایک یتیم آکردروازہ پر کھڑا ہوگیا اور کھانا طلب کرنے لگا اس نے کہا: السلام علیکم اے اہل بیت محمد ! ’’ اے محمد کے گھر والو! میں مہاجرین کی اولاد میں سے یتیم ہوں ۔ میرے والد یوم العقبہ کو شہید ہو ئے تھے، مجھے کھانا کھلاؤ، اللہتعالیٰ تمہیں جنت کے دستر خوان پر سے کھانا کھلائے گا۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آواز سن لی ؛ اور اسے کھانا دینے کا حکم دیا۔ تووہ کھانا اسے دیدیا گیا۔اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ [اور ان کے اہل خانہ ]نے دو دن اور دو راتیں پانی کے سوا کچھ نہ کھایا۔
اس طرح جب تیسرا دن ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے تیسرا صاع جو کا پیسا ‘ اور اس سے روٹیاں پکائیں ؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اور گھر آئے۔ آپ کے سامنے کھانا رکھاگیا تو ایک قیدی آکر کھانا طلب کرنے لگا؛ اس نے کہا : کیا آپ ہمیں قیدی بناتے ہیں اور پھر ہمیں بھگاتے ہیں ؛ اور ہمیں کھانا نہیں کھلاتے ۔ میں اسیر محمد ہوں ‘ مجھے کھانا کھلاؤ، اللہتعالیٰ تمہیں جنت کے دستر خوان پر سے کھانا کھلائے گا۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آواز سن لی ؛ اور اسے کھانا دینے کا حکم دیا۔ تووہ کھانا اسے دیدیا گیا۔اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ [اور ان کے اہل خانہ ]نے تین دن اور تین راتیں پانی کے سوا کچھ نہ کھایا۔
چوتھے روز جب آپ نے اپنی نذر پوری کردی ؛ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور حضرت حسین کواپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا ؛اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ۔ بھوک کی شدت سے ایسے کانپ رہے تھے جیسے چھوٹے چوزے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ’’ اے ابو الحسن ! تمہاری اس حالت نے مجھے بہت پریشان کردیا ۔میرے ساتھ میری بیٹی فاطمہ کے گھر چلو ۔‘‘ آپ ان کے پاس چلے گئے۔اس وقت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پنے حجرہ میں تھیں ۔اور بھوک کی شدت کی وجہ سے آپ کا پیٹ پیٹھ سے لگ رہا تھا۔اور آپ کی آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھیں ۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دیکھا تو چلائے: ہائے غوث ! اللہ کی قسم ! کیا اہل بیت محمد ایسے ہی بھوک سے مرجائیں گے ۔ اس وقت جبرائیل نازل ہوئے ‘اور فرمایا: ’’ اے محمد ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپ کے اہل بیت کے بارے میں خوشخبری دی ہے ۔آپ نے پوچھا : اے جبریل کیا لیکر آئے ہو؟ توآپ نے یہ آیت پڑھی:﴿ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ﴾
’’ کیا انسان پر ایسا وقت نہیں آیا ۔‘‘
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گوناگوں اوصاف کے حامل تھے؛ جو آپ سے پہلے کسی اور کو نہیں ملے۔اور نہ ہی کوئی آنے والا یہ اوصاف پاسکے گا؛ تو اس لحاظ سے آپ باقی لوگوں سے افضل ہوئے ۔پس یہ ان کے امام ہونے کی دلیل ہے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]
[جواب]:اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے :
پہلی بات:....ہم شیعہ مصنف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی صحت ثابت کرے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم یہ مطالبہ کر چکے ہیں ۔کسی بات کو صرف واحدی ‘ ثعلبی یا ان جیسے لوگوں کا روایت کرلینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ یہ روایت بھی صحیح اور قابل حجت ہے۔اس پر تمام اہل سنت اور شیعہ کا اتفاق ہے۔ اگر دو فریقین کے مابین احکام و فضائل کے مسائل میں سے کسی ایک مسئلہ پر اختلاف ہوجائے ؛ او ران میں سے ایک کوئی ایسی حدیث پیش کرے جس کی صحت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہو ‘ سوائے اس کے کہ ان جیسے مفسرین نے اسے نقل کیا ہے۔تو یہ اس روایت کے صحیح ہونے کی دلیل نہ ہوگی۔ اور نہ ہی اس سے فریق مخالف پر حجت قائم ہوگی۔ اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔
شیعہ کی عادت ہے کہ ایسی روایت پیش کرتے ہیں جو کسی دوسرے نے نقل کی ہو۔ان میں سے اکثر کو یہ علم نہیں ہوتا کہ کیا یہ روایت صحیح ہے یا ضعیف؟ اور ایسی حکایات اور اسرائیلی روایات نقل کرتے ہیں جن کے متعلق باقی لوگ جانتے ہیں کہ اصل میں یہ پوری کہانی ہی باطل ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ شیعہ کا کام ہی فقط نقل کو نقل کرنا ہے۔یا لوگوں کے اقوال کو آگے چلانا ہے؛ بھلے اس میں بہت ساری چیزیں سرے سے ہی باطل ہوں ۔ بسا اوقات بعض منقولات کی صحت اور ضعف پر کلام کرتے ہیں مگریہ ان کے ہاں کوئی پکا اصول نہیں اور نہ ہی اس کا التزام کرتے ہیں ۔
دوسری بات:....یہ روایت بہ اتفاق محدثین موضوع ہے۔جولوگ اس فن کے امام ہیں وہ اس کے موضوع ہونے میں ذرہ بھر شک و شبہ نہیں کرتے۔اس باب میں ان ہی لوگوں کی بات مانی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ر وایت کسی بھی ایسی قابل اعتبار مستند کتاب حدیث میں موجود نہیں جس کی طرف رجوع کیا جاتا ہو۔یہ روایت نہ ہی صحاح میں منقول ہے ‘ نہ ہی مسانید میں ؛ نہ ہی جوامع میں اور نہ ہی سنن میں ۔اور نہ ہی مصنفین نے اسے فضائل صحابہ کی کتابوں میں نقل کیا ہے۔اگرچہ یہ لوگ ضعیف روایات بھی نقل کردیتے ہیں ۔[مگر اس روایت کا نام و نشان تک نہیں ملتا]۔جیسے کہ امام نسائی کی جمع کردہ کتاب’’خصائص علی‘‘ میں صحیح و ضعیف ہر قسم کی روایتیں فضائل علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جمع کی گئی ہیں ۔ مگر یہ روایت اس میں بھی مذکور نہیں ۔ اسی طرح ابو نعیم کی کتاب الخصائص؛ خیثمہ بن سلیمان اور امام ترمذی نے اپنی ’’الجامع ‘‘میں فضائل علی کی ضعیف احادیث نقل کی ہیں ، مگر ان کتب میں سابق الذکر روایت کا کوئی نشان نہیں ملتا؛ جس سے اس کا موضوع ہونا ظاہر ہوجاتا ہے۔
اصحاب السِّیَر مثلاً ابن اسحاق نے بھی فضائل علی رضی اللہ عنہ پر مشتمل احادیث ضعیفہ ذکر کی ہیں مگر یہ روایت بیان نہیں کی جوکہ بہ اتفاق اہل نقل موضوع ہے۔اس کے موضوع ہونے پر ائمہ اہل نقل؛ ائمہ تفسیر؛ اور ان حضرات کا اتفاق ہے جو سند کے ساتھ روایات نقل کرتے ہیں جیسے ابن جریج؛ سعید بن ابی عروبہ؛ عبدالرزاق ؛ عبد بن حمید؛ احمد؛ اسحق؛ تفسیر بقی بن مخلد؛ ابن جریر الطبری؛ محمد بن اسلم الطوسی؛ ابن ابی حاتم ؛ ابو بکر ابن المنذر؛ اور ان کے علاوہ دیگر اکابر علمائے کرام۔ جنہیں عوام میں مقبولیت حاصل ہے؛ اور ان کی تفاسیر کو اعتماد و قبولیت حاصل ہے۔
تیسری بات:....اس روایت کے جھوٹ ہونے پر بہت سے دلائل موجود ہیں ۔ان میں سے ایک یہ کہ : یہ تاریخ کی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ کا نکاح مدینہ میں ہوا؛ او رغزوہ بدر کے بعد آپ کی رخصتی ہوئی۔جیسا کہ صحیح احادیث میں ثابت ہے۔اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما اس کے بعد پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ پیدائش سن تین اور چار ہجری ہے ۔لوگوں کا اتفاق ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں شادی کی ؛ اور آپ کے بچے مدینہ میں پیدا ہوئے۔ یہ عام اور متواتر علم ہے۔ جسے ہر وہ انسان جانتا ہے جسے علم سے کوئی ادنی شغف بھی ہو۔
[نیز یہ کہ] سورۃ الدہر باتفاق مفسرین مکی ہے۔[اس سے سابق الذکر روایت کا کذب ظاہر ہو گیا]۔کسی ایک مفسر نے بھی یہ نہیں کہا کہ: یہ سورت مدنی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے مابین مشترکہ اصول دین کے بیان کے لحاظ سے بھی یہ سورت مکی سورتوں کے ڈھب پر ہے۔ جیسا کہ ایمان باللہ ؛ آخرت پر ایمان ؛ پیدائش اور بعث کا ذکر [اس سورت کے موضوع ہیں ] ۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم الم تنزیل کے ساتھ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں یہ سورت بھی پڑھا کرتے تھے۔ اس لیے کہ اس دن آدم کی پیدائش ہوئی ‘ اسی دن جنت میں داخل ہوئے ‘ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔‘‘ [البخاری ۲؍۵ ومسلم ۲؍۵۹۹]۔
یہ دونوں سورتیں آسمان و زمین کی پیدائش ‘ آدم کی پیدائش اور ایک گروہ کے جنت میں اور دوسرے گروہ کے جہنم میں جانے کے ذکر کو شامل ہیں ۔ جب یہ سورت ہی مکہ مکرمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شادی سے پہلے نازل ہوئی ہے تو پھر واضح ہوگیا کہ یہ کہنا کہ یہ سورت حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے بیمار ہونے کے بعد نازل ہوئی ‘ سراسر کھلا ہوا جھوٹ ہے ۔
چوتھی بات:....اس حدیث کا سیاق اور اس کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ روایت دجالوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہے ۔ان میں سے پہلا کلمہ ہے کہ: ’’فعادھما جدھما و عامۃ العرب ۔‘‘
’’ان دونوں کے نانااور عام عرب ان کی عیادت کے لیے آئے ۔‘‘
اس لیے کہ عام عرب لوگ مدینہ میں مقیم نہ تھے۔اور نہ ہی کفار عرب ان کے پاس آتے اور ان کی عیادت کرتے تھے۔ پھر اس روایت میں دوسرا کلمہ ہے کہ:
’’ فقالوا: یا ابا الحسن! لو نذرت علی ولدیک....الخ۔‘‘
’’اے ابو الحسن اگر آپ اپنے بیٹوں پر نذر مانیں ۔‘‘ اگر ایسا ہوتا تو پھر آپ عرب لوگوں سے دین نہ لیتے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیتے ۔ اس لیے کہ اگر نذر ماننا اطاعت کا کام تھا ؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ آپ انہیں اس کا حکم دیتے ؛ عام عرب لوگ اس کا نہ کہتے ۔ اور اگر یہ اطاعت کا کام نہیں تھا تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان عام عرب لوگوں کی بات ماننے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔پھر یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیے بغیر عام لوگوں کی بات کیسے مان لی ؟
پانچویں بات:....صحیحین میں ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا ہے اور فرمایاہے :
’’اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا ۔ البتہ بخیل کا مال ضرور نکل جاتا ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الأیمان والنذور۔ باب الوفاء بالنذر، (حدیث:۶۶۹۳)، صحیح مسلم، کتاب النذر۔ باب النھی عن النذر (حدیث :۱۶۳۹)۔]
ایک دوسری روایت میں ہے : ’’ بیشک نذر ابن آدم کو تقدیر کی طرف ہی لوٹاتی ہے ۔ پس وہ نذر پر وہ کچھ دیتا ہے جو کسی دوسری چیز پر نہیں دیتا ۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نذر ماننے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔آپ فرمایا کرتے تھے : نذر کسی خیر کو نہیں لاتی؛ بلکہ نذر ابن آدم کو تقدیر کی طرف ہی لوٹاتی ہے ۔اگر حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما اور ان کے اہل خانہ جیسے لوگ اس جیسی حدیث کو نہیں جان سکے جسے عام مسلمان بھی جانتے ہیں ‘ تو پھریہ ان کے علم پر قدح و تنقید ہے تو ان کا معصوم ہونا کہاں گیا ؟
اگر انہیں اس کا پتہ تھا مگر پھر بھی انہوں نے ایسا کام کیا جس میں نہ ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ؛اور نہ ہی ان کے لیے کوئی فائدہ ۔بلکہ اس سے منع کیا گیا تھا۔اور نہی یا تو تحریم کے لیے ہوتی ہے یا پھر تنزیہ کے لیے۔تو ہر دوطرح سے یہ یا تو ان کے دین پر قدح وارد ہوتی ہے یا پھر عقل اور علم پر ۔
جو انسان اس قسم کے فضائل نقل کرتا ہے ‘حقیقت میں وہ کوراجاہل ہے ۔وہ مدح کے روپ میں ان کی مذمت بیان کرتا ہے ۔ اور انہیں بلندکرنے کے انداز میں نیچے گراتا ہے۔ اور ان کی تعریف کی الفاظ میں مذمت بیان کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اہل بیت میں سے بعض نے ان رافضیوں سے کہا تھا: اے رافضیو! کیا وجہ ہے کہ ہمارے ساتھ تمہاری محبت ہمارے لیے عیب اور عار بنتی جارہی ہے۔ ایک ضرب المثل بیان کی جاتی ہے کہ عقلمند دشمن بیوقوف اور جاہل دوست سے بہتر ہوتا ہے۔‘‘ اللہتعالیٰ نے ایفاء نذر کی تعریف کی ہے، مگر نذر ماننے کو قابل تعریف فعل قرار نہیں دیا۔ جس طرح ظہار( بیوی سے یوں کہنا کہ تو میرے لیے اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ) کوئی قابل تعریف فعل نہیں ہے، مگر کوئی شخص جب ظہار کرتا ہے تو اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہوجاتا ہے ۔ اور جب اس کا مرتکب ہو اور کفارہ ادا کردے تو واجب کی ادائیگی پر یہ ایک ممدوح فعل ہے۔نہ کہ ظہار کا ارتکاب کرنے پر ممدوح ہے ؛ اس لیے کہ ظہار حرام ہے۔ ایسے ہی جب انسان اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور پھر اسے اچھے طریقے سے رخصت کردے ؛ تو طلاق کی وجہ سے واجب ہونے والے فریضہ کی ادائیگی پر وہ ممدوح ٹھہرے گا۔ بذات خود طلاق کوئی اچھی چیزنہیں ہے ‘ بلکہ مکروہ امور میں سے ہے۔ ایسے ہی جو انسان خرید و فروخت کرے اپنے ذمہ کی ادائیگی کرے تو اس عقد خرید وفروخت کی وجہ سے اس پر جو کچھ واجب ہوا تھا اس کی ادائیگی پر وہ قابل تعریف ٹھہریگا۔صرف عقد پر اس کی کوئی تعریف نہیں ہوگی۔ اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔
چھٹی بات:....حضرت علی رضی اللہ عنہ یا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کوئی لونڈی فضہ نامی نہیں تھی۔درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقارب میں سے کسی کے پاس کوئی لونڈی نہیں تھی۔ بلکہ مدینہ بھر میں اس نام کی کوئی کنیز نہ تھی۔اور اہل علم میں سے جن لوگوں نے چھوٹے بڑے ہر قسم کے احوال جمع کیے ہیں ؛ ان میں سے کسی ایک نے ایسی کسی لونڈی کا ذکر تک نہیں کیا ۔
یہ فضہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ’’ ابن عقب‘‘ ایک فرضی نام وضع کیا گیا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا استاد تھا ؛ اور اسے ایک سیب دیا گیا تھا جس میں مستقبل میں پیش آنے والے حوادث کا علم تھا۔[حالانکہ اس نام کا کوئی آدمی نہ تھا]۔اس کے علاوہ بھی اس طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑلی گئی جنہیں جاہل لوگوں میں پھیلایا جارہا ہے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا کوئی استاذ و مدرس نہیں تھا۔ اور صحابہ کرام میں ابن عقب نامی کوئی آدمی نہیں تھا۔
جو جنگی مرثیے ابن عقب کی طرف منسوب ہیں ‘انہیں بہت بعدکے بعض جہال [ودجال] روافض نے نظم کیا ہے۔جو کہ صلاح الدین ایوبی اور نور الدین کے زمانے کے لوگ تھے۔ جس وقت شام کا بہت بڑا حصہ عیسائیوں کے ہاتھوں میں تھا ؛ اور مصربنو عبید کے بقایا ملحدین قرامطی شیعہ کے زیر دست تھا۔ان مرثیوں میں وہ کچھ بیان کیا ہے جو اس وقت کے حساب سے مناسب تھا ؛ ایسی نظم کوئی عام آدمی بھی لکھ سکتا ہے ۔
یہی حال اس فضہ نامی لونڈی کا ہے۔بخاری و مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خادم طلب کیا۔ آپ نے فرمایا کہ:
’’سوتے وقت سو مرتبہ سبحان اللہ و الحمد للہ اور اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔ یہ خادم سے بہتر ہے۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے تب سے یہ وظیفہ ترک نہیں کیا۔ آپ سے پوچھا گیا : صفین کی رات بھی ؟آپ نے فرمایا صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا ۔‘‘ [صحیح بخاری:ج ا:ح1345۔]
اس روایت کے صحیح ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ئی خادم نہیں دیا گیا تھا۔اگر اس کے بعد کہیں سے کوئی خادم آگیا ہو تو ممکن ہے ایسا ہوسکتا ہے ۔ مگر فضہ نام کی کوئی باندی نہیں تھی۔
ساتویں بات:....صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ ایک انصاری گھرانے نے اپنے مہمان کو رات کے کھانے میں ترجیح دی۔انہوں نے اپنے بچوں کو بھی بھوکا سلادیا اور خود میاں بیوی بھی بھوکے پیٹ سو گئے ۔ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ﴾ [الحشر۹]
’’بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو ۔‘‘
نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :
﴿وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ﴾ [الإنسان ۸]
’’اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین یتیم اور قیدیوں کو۔‘‘
یہ آیت اس دوسری آیت کی طرح ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ ﴾ [البقرۃ ۱۷۷]
’’ اوروہ دیتا ہے مال اللہ کی محبت میں قریبی رشتہ داروں کو یتیموں کو اور مساکین کو۔‘‘
صحیح بخاری میں ہے کہ : ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا :یا رسول اللہ! کون سا صدقہ اجر کے اعتبار سے زیادہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر تو صدقہ کرے اس حال میں کہ تندرست ہے، بخیل ہے اور فقر سے ڈرتا ہے اور مال داری کی امید کرتا ہے اور اتنا توقف نہ کر وکہ جان حلق تک آجائے اور پھرکہو کہ اتنا مال فلاں شخص کے لیے ہے اور اتنا مال فلاں شخص کو دے دیا جائے حالانکہ اب تو وہ مال فلاں کا ہو ہی چکا ہے۔‘‘ [البخاری، کتاب الدعوات (ح: ۶۳۱۸)،مسلم، کتاب الذکر والدعاء باب التسبیح....(ح:۲۷۲۷)۔]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﴾ [آل عمران ۹۲]
’’جب تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پا گے۔‘‘
پس جس چیز کو انسان پسند کرتا ہے اس جنس کے تحت صدقہ کرنے کی کئی انواع و اقسام ہیں ۔مگر اپنی انتہائی سخت ضرورت کے باوجود اپنے پر دوسرے کوترجیح دینا؛ یہ صرف محبت میں صدقہ کرنے سے زیادہ افضل اور اجر و ثواب میں بڑھ کر ہے۔ اس لیے کہ ہر ایک صدقہ کرنے والا محبت کرنے والا اور ذاتی ضرورت پر ترجیح دینے والا نہیں ہوسکتا ۔اور نہ ہی ہر صدقہ دینے والے کوخود انتہائی سخت ضرورت ہوتی ہے۔بلکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی پسندیدہ چیز میں سے کچھ صدقہ بھی کرے اور کچھ اپنی ضرورت کے لیے بچا کر بھی رکھ لے۔حالانکہ اس کی محبت انتہائی سخت ضرورت کو نہیں پہنچی ہوتی۔
پس جب اللہ تعالیٰ نے اس رات میں مہمان کو ترجیح دینے پر انصاری گھرانے کی ان الفاظ میں مدح کی ہے ؛ تو پھر اس قصہ میں اہل بیت کا جو ایثار نقل کیا گیا ہے یہ انصاری کے ایثار سے بہت بڑھ کر ہے ؛ اگر ایسا کرنا ہر حال میں قابل مدح ہے تو مناسب تھا کہ اس پر بہت زیادہ مدح کی جاتی اور اگریہ فعل قابل مدح و تعریف نہیں توپھر اسے مناقب میں ذکر نہیں کیا جاسکتا ۔
آٹھویں بات:....یہ ایسا قصہ ہے کہ اس کا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ اس لیے کہ یہ شرعی حکم کے خلاف ہے۔ کیونکہ تین شب و روزتک بچوں کو کھانا نہ کھلانا خلاف شرع ہے۔
[اورہلاکت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :’’پہلے اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ۔‘‘] [صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب لا صدقۃ الا عن ظھر غنی (حدیث: ۱۴۲۶، ۱۴۲۷)۔]
تین دن تک انہیں مسلسل بھوکا رکھنے سے بدنی و عقلی کمزوری کے ساتھ صحت کی خرابی اور دین میں فساد کا سبب بن سکتی ہے ۔ یہ اس انصاری کے قصہ کی طرح ہر گز نہیں ہے جس میں انہوں نے بچوں کو صرف ایک رات کے لیے بھوکا سلایا تھا۔ اس لیے کہ بچے اتنا تو برداشت کرسکتے ہیں ؛ مگر تین دن اور تین رات تک ایسا نہیں کرسکتے۔
نویں بات:....پھر اس یتیم بچے کا قصہ جس کا یہ قول ہے کہ:’’ میرے والد یوم العقبہ شہید ہو گئے تھے ۔ ‘‘صاف اور کھلا ہوا جھوٹ ہے، اس لیے کہ عقبہ کی رات صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی گئی تھی لڑائی نہیں ہوئی تھی۔بلکہ اس رات انصار نے بیعت کی تھی ۔ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے۔اس وقت تک جہاد کا حکم نازل ہی نہیں ہوا تھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ روایت تو جھوٹی ہے ‘ یہ معاملہ اپنی جگہ پر ؛ مگر اس قصہ کو نقل کرنے والا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے انتہائی بیگانہ اور جاہل انسان ہے ۔[اسے یہ بھی پتہ نہیں کہ عقبہ کی رات کیا ہوا تھا ] اس کے بجائے اگر یوں کہہ دیتا کہ ’’ احد کے دن میرے والد شہید ہوگئے تھے ‘‘ تو پھر بھی کوئی بات بنتی تھی۔
دسویں بات:....نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شہداء کے یتیم بچوں کی کفالت فرمایا کرتے تھے ۔ اسی لیے جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے خادم مانگا تو آپ نے فرمایا : ’’ میں شہدائے بدر کے بچوں کو چھوڑ کر تمہیں نہیں دے سکتا ۔‘‘
اب اگر کوئی یہ کہے کہ : وہ شہداء مجاہدین کے یتیموں میں سے تھا ؛ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کفالت نہیں کیا کرتے تھے تو یہ انتہائی بڑا جھوٹ اور دروغ گوئی ہوگی۔
گیارھویں بات:....مدینہ میں قیدی بھیک نہیں مانگا کرتے تھے۔ بلکہ مسلمان ہر طرح ان کی ضروریات کی کفالت کیا کرتے تھے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ایک قیدی مدینہ میں بھیک مانگا کرتا تھا، صحابہ کرام پر جھوٹ اور ان کی شان میں قدح ہے۔ قیدیوں کی بڑی تعداد بدر کے دن آئی تھی۔یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے پہلے کا واقعہ ہے ۔اس کے بعد تو قیدی انتہائی کم تعداد میں ہوا کرتے تھے۔
بارھویں بات:....اگر مان لیا جائے کہ یہ قصہ صحیح ہے۔اور اس کا شمار فضائل میں ہوتا ہے۔ تو پھر بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس قصہ والالوگوں میں سب سے افضل ہو۔اورنہ ہی یہ لازم آتا ہے کہ باقی لوگوں کو چھوڑ کر آپ ہی امام ہوں ۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سب لوگوں کی نسبت غرباء کو زیادہ کھانا کھلایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ۔ باب مناقب جعفر بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ (ح:۳۷۰۸) ] یہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شان میں فرمایا تھا:’’ آپ کی سیرت و صورت میرے جیسی ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الصلح ، باب کیف یکتب ھذا ما صالح فلان....(حدیث: ۲۶۹۹) مطولاً۔ ]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مساکین اور فقراء کے ساتھ لطف و احسان کے سلسلہ میں کوئی شخص حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر نہیں چلا۔ [سنن ترمذی، باب مناقب جعفر بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۳۷۶۴) ، ومستدرک حاکم(۳؍۲۱۱) بمعناہ۔] اس کے علاوہ بھی آپ کے فضائل ہیں ‘ تاہم ان فضائل کی بنا پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ یا دوسرے صحابہ کی نسبت افضل نہیں تھے۔ چہ جائے کہ ان فضائل کی بنا پر کوئی ان کے لیے امامت کا دعوی کرنے لگے۔
تیرھویں بات :یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انفاق فی سبیل اللہ عام طور سے معروف اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھا۔بیشک بھوکے کو کھانا کھلانا بھی صدقات کی جنس میں سے ہے۔ قیامت تک کوئی بھی انسان صدقہ کرسکتا ہے ۔ بلکہ تمام امت کے لوگ بھوکوں اور مساکین کو کھانا کھلاتے ہیں ‘ خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ۔ بھلے بعض لوگ اس سے تقرب الی اللہ نہ بھی چاہتے ہوں ۔جبکہ مسلمانوں کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا قول نقل فرماتے ہیں :
﴿اِِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآئً وَّلَا شُکُوْرًا ﴾ [الإنسان ۹]
’’ہم تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری۔‘‘
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انفاق انتہائی رشک کے قابل ہے ۔آپ اسلام کے ابتدائی دور میں اہل ایمان غلاموں کو آزاد کرانے ؛ قیدیوں کو چھڑانے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ۔ کفار آپ کو اس پر اذیت دیتے ‘ اور آپ کے قتل کے درپے رہتے۔آپ نے اپنے مال سے سات غلام خرید کر آزاد کیے جنہیں اللہ کی راہ میں عذاب دیا جاتا تھا۔انہی میں سے ایک بلال بھی ہیں ۔حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ابو بکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں ‘ اور آپ نے ہمارے سردار کو آزاد کیا ہے۔‘‘اس سے مراد حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہوا کرتے تھے ۔
اہل ایمان محتاجین اور اسلام کی نصرت کے لیے آپ کا انفاق فی سبیل اللہ ایک علیحدہ باب ہے۔آپ اس وقت اس راہ میں خرچ کرتے تھے جب تمام روئے ارض کے باسی اسلام کے دشمن تھے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے انفاق جیساانفاق آج کل ممکن ہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ میرے صحابہ کو برا نہ کہو مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی شخض احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو صحابہ کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ [صحیح بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم باب قول النبی رضی اللّٰہ عنہم ، ’’لوکنت متخذا خلیلاً‘‘ (ح :۳۶۷۳)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب تحریم سب الصحابۃ (ح:۲۵۴۱)۔]
اس طرح کا انفاق آپ کے ساتھ ہی خاص ہے۔ باقی رہ گیا مطلق طور پر بھوکوں کو کھانا کھلانا ؛ یہ مشترکہ قدر ہے ؛ قیامت تک اس پر عمل کیا جانا ممکن ہے۔