امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

دوسری بات:....یہ روایت بہ اتفاق محدثین موضوع ہے۔جولوگ اس فن کے امام ہیں وہ اس کے موضوع ہونے میں ذرہ بھر شک و شبہ نہیں کرتے۔اس باب میں ان ہی لوگوں کی بات مانی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ر وایت کسی بھی ایسی قابل اعتبار مستند کتاب حدیث میں موجود نہیں جس کی طرف رجوع کیا جاتا ہو۔یہ روایت نہ ہی صحاح میں منقول ہے ‘ نہ ہی مسانید میں ؛ نہ ہی جوامع میں اور نہ ہی سنن میں ۔اور نہ ہی مصنفین نے اسے فضائل صحابہ کی کتابوں میں نقل کیا ہے۔اگرچہ یہ لوگ ضعیف روایات بھی نقل کردیتے ہیں ۔[مگر اس روایت کا نام و نشان تک نہیں ملتا]۔جیسے کہ امام نسائی کی جمع کردہ کتاب’’خصائص علی‘‘ میں صحیح و ضعیف ہر قسم کی روایتیں فضائل علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جمع کی گئی ہیں ۔ مگر یہ روایت اس میں بھی مذکور نہیں ۔ اسی طرح ابو نعیم کی کتاب الخصائص؛ خیثمہ بن سلیمان اور امام ترمذی نے اپنی ’’الجامع ‘‘میں فضائل علی کی ضعیف احادیث نقل کی ہیں ، مگر ان کتب میں سابق الذکر روایت کا کوئی نشان نہیں ملتا؛ جس سے اس کا موضوع ہونا ظاہر ہوجاتا ہے۔

اصحاب السِّیَر مثلاً ابن اسحاق نے بھی فضائل علی رضی اللہ عنہ پر مشتمل احادیث ضعیفہ ذکر کی ہیں مگر یہ روایت بیان نہیں کی جوکہ بہ اتفاق اہل نقل موضوع ہے۔اس کے موضوع ہونے پر ائمہ اہل نقل؛ ائمہ تفسیر؛ اور ان حضرات کا اتفاق ہے جو سند کے ساتھ روایات نقل کرتے ہیں جیسے ابن جریج؛ سعید بن ابی عروبہ؛ عبدالرزاق ؛ عبد بن حمید؛ احمد؛ اسحق؛ تفسیر بقی بن مخلد؛ ابن جریر الطبری؛ محمد بن اسلم الطوسی؛ ابن ابی حاتم ؛ ابو بکر ابن المنذر؛ اور ان کے علاوہ دیگر اکابر علمائے کرام۔ جنہیں عوام میں مقبولیت حاصل ہے؛ اور ان کی تفاسیر کو اعتماد و قبولیت حاصل ہے۔

تیسری بات:....اس روایت کے جھوٹ ہونے پر بہت سے دلائل موجود ہیں ۔ان میں سے ایک یہ کہ : یہ تاریخ کی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ کا نکاح مدینہ میں ہوا؛ او رغزوہ بدر کے بعد آپ کی رخصتی ہوئی۔جیسا کہ صحیح احادیث میں ثابت ہے۔اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما اس کے بعد پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ پیدائش سن تین اور چار ہجری ہے ۔لوگوں کا اتفاق ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں شادی کی ؛ اور آپ کے بچے مدینہ میں پیدا ہوئے۔ یہ عام اور متواتر علم ہے۔ جسے ہر وہ انسان جانتا ہے جسے علم سے کوئی ادنی شغف بھی ہو۔

[نیز یہ کہ] سورۃ الدہر باتفاق مفسرین مکی ہے۔[اس سے سابق الذکر روایت کا کذب ظاہر ہو گیا]۔کسی ایک مفسر نے بھی یہ نہیں کہا کہ: یہ سورت مدنی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے مابین مشترکہ اصول دین کے بیان کے لحاظ سے بھی یہ سورت مکی سورتوں کے ڈھب پر ہے۔ جیسا کہ ایمان باللہ ؛ آخرت پر ایمان ؛ پیدائش اور بعث کا ذکر [اس سورت کے موضوع ہیں ] ۔اسی لیے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم الم تنزیل کے ساتھ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں یہ سورت بھی پڑھا کرتے تھے۔ اس لیے کہ اس دن آدم کی پیدائش ہوئی ‘ اسی دن جنت میں داخل ہوئے ‘ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔‘‘ [البخاری ۲؍۵ ومسلم ۲؍۵۹۹]۔

یہ دونوں سورتیں آسمان و زمین کی پیدائش ‘ آدم کی پیدائش اور ایک گروہ کے جنت میں اور دوسرے گروہ کے جہنم میں جانے کے ذکر کو شامل ہیں ۔ جب یہ سورت ہی مکہ مکرمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شادی سے پہلے نازل ہوئی ہے تو پھر واضح ہوگیا کہ یہ کہنا کہ یہ سورت حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے بیمار ہونے کے بعد نازل ہوئی ‘ سراسر کھلا ہوا جھوٹ ہے ۔

چوتھی بات:....اس حدیث کا سیاق اور اس کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ روایت دجالوں نے اپنی طرف سے گھڑی ہوئی ہے ۔ان میں سے پہلا کلمہ ہے کہ: ’’فعادھما جدھما و عامۃ العرب ۔‘‘

’’ان دونوں کے نانااور عام عرب ان کی عیادت کے لیے آئے ۔‘‘

اس لیے کہ عام عرب لوگ مدینہ میں مقیم نہ تھے۔اور نہ ہی کفار عرب ان کے پاس آتے اور ان کی عیادت کرتے تھے۔ پھر اس روایت میں دوسرا کلمہ ہے کہ:

’’ فقالوا: یا ابا الحسن! لو نذرت علی ولدیک....الخ۔‘‘

’’اے ابو الحسن اگر آپ اپنے بیٹوں پر نذر مانیں ۔‘‘ اگر ایسا ہوتا تو پھر آپ عرب لوگوں سے دین نہ لیتے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیتے ۔ اس لیے کہ اگر نذر ماننا اطاعت کا کام تھا ؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ آپ انہیں اس کا حکم دیتے ؛ عام عرب لوگ اس کا نہ کہتے ۔ اور اگر یہ اطاعت کا کام نہیں تھا تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان عام عرب لوگوں کی بات ماننے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔پھر یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیے بغیر عام لوگوں کی بات کیسے مان لی ؟

پانچویں بات:....صحیحین میں ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا ہے اور فرمایاہے :

’’اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا ۔ البتہ بخیل کا مال ضرور نکل جاتا ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الأیمان والنذور۔ باب الوفاء بالنذر، (حدیث:۶۶۹۳)، صحیح مسلم، کتاب النذر۔ باب النھی عن النذر (حدیث :۱۶۳۹)۔]

ایک دوسری روایت میں ہے : ’’ بیشک نذر ابن آدم کو تقدیر کی طرف ہی لوٹاتی ہے ۔ پس وہ نذر پر وہ کچھ دیتا ہے جو کسی دوسری چیز پر نہیں دیتا ۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نذر ماننے سے منع فرمایا کرتے تھے ۔آپ فرمایا کرتے تھے : نذر کسی خیر کو نہیں لاتی؛ بلکہ نذر ابن آدم کو تقدیر کی طرف ہی لوٹاتی ہے ۔اگر حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما اور ان کے اہل خانہ جیسے لوگ اس جیسی حدیث کو نہیں جان سکے جسے عام مسلمان بھی جانتے ہیں ‘ تو پھریہ ان کے علم پر قدح و تنقید ہے تو ان کا معصوم ہونا کہاں گیا ؟

اگر انہیں اس کا پتہ تھا مگر پھر بھی انہوں نے ایسا کام کیا جس میں نہ ہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ؛اور نہ ہی ان کے لیے کوئی فائدہ ۔بلکہ اس سے منع کیا گیا تھا۔اور نہی یا تو تحریم کے لیے ہوتی ہے یا پھر تنزیہ کے لیے۔تو ہر دوطرح سے یہ یا تو ان کے دین پر قدح وارد ہوتی ہے یا پھر عقل اور علم پر ۔

صفحہ 2 از 5