امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

جو انسان اس قسم کے فضائل نقل کرتا ہے ‘حقیقت میں وہ کوراجاہل ہے ۔وہ مدح کے روپ میں ان کی مذمت بیان کرتا ہے ۔ اور انہیں بلندکرنے کے انداز میں نیچے گراتا ہے۔ اور ان کی تعریف کی الفاظ میں مذمت بیان کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اہل بیت میں سے بعض نے ان رافضیوں سے کہا تھا: اے رافضیو! کیا وجہ ہے کہ ہمارے ساتھ تمہاری محبت ہمارے لیے عیب اور عار بنتی جارہی ہے۔ ایک ضرب المثل بیان کی جاتی ہے کہ عقلمند دشمن بیوقوف اور جاہل دوست سے بہتر ہوتا ہے۔‘‘ اللہتعالیٰ نے ایفاء نذر کی تعریف کی ہے، مگر نذر ماننے کو قابل تعریف فعل قرار نہیں دیا۔ جس طرح ظہار( بیوی سے یوں کہنا کہ تو میرے لیے اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ) کوئی قابل تعریف فعل نہیں ہے، مگر کوئی شخص جب ظہار کرتا ہے تو اس پر ظہار کا کفارہ واجب ہوجاتا ہے ۔ اور جب اس کا مرتکب ہو اور کفارہ ادا کردے تو واجب کی ادائیگی پر یہ ایک ممدوح فعل ہے۔نہ کہ ظہار کا ارتکاب کرنے پر ممدوح ہے ؛ اس لیے کہ ظہار حرام ہے۔ ایسے ہی جب انسان اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور پھر اسے اچھے طریقے سے رخصت کردے ؛ تو طلاق کی وجہ سے واجب ہونے والے فریضہ کی ادائیگی پر وہ ممدوح ٹھہرے گا۔ بذات خود طلاق کوئی اچھی چیزنہیں ہے ‘ بلکہ مکروہ امور میں سے ہے۔ ایسے ہی جو انسان خرید و فروخت کرے اپنے ذمہ کی ادائیگی کرے تو اس عقد خرید وفروخت کی وجہ سے اس پر جو کچھ واجب ہوا تھا اس کی ادائیگی پر وہ قابل تعریف ٹھہریگا۔صرف عقد پر اس کی کوئی تعریف نہیں ہوگی۔ اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں ۔

چھٹی بات:....حضرت علی رضی اللہ عنہ یا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کوئی لونڈی فضہ نامی نہیں تھی۔درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقارب میں سے کسی کے پاس کوئی لونڈی نہیں تھی۔ بلکہ مدینہ بھر میں اس نام کی کوئی کنیز نہ تھی۔اور اہل علم میں سے جن لوگوں نے چھوٹے بڑے ہر قسم کے احوال جمع کیے ہیں ؛ ان میں سے کسی ایک نے ایسی کسی لونڈی کا ذکر تک نہیں کیا ۔

یہ فضہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے ’’ ابن عقب‘‘ ایک فرضی نام وضع کیا گیا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا استاد تھا ؛ اور اسے ایک سیب دیا گیا تھا جس میں مستقبل میں پیش آنے والے حوادث کا علم تھا۔[حالانکہ اس نام کا کوئی آدمی نہ تھا]۔اس کے علاوہ بھی اس طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑلی گئی جنہیں جاہل لوگوں میں پھیلایا جارہا ہے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا کوئی استاذ و مدرس نہیں تھا۔ اور صحابہ کرام میں ابن عقب نامی کوئی آدمی نہیں تھا۔

جو جنگی مرثیے ابن عقب کی طرف منسوب ہیں ‘انہیں بہت بعدکے بعض جہال [ودجال] روافض نے نظم کیا ہے۔جو کہ صلاح الدین ایوبی اور نور الدین کے زمانے کے لوگ تھے۔ جس وقت شام کا بہت بڑا حصہ عیسائیوں کے ہاتھوں میں تھا ؛ اور مصربنو عبید کے بقایا ملحدین قرامطی شیعہ کے زیر دست تھا۔ان مرثیوں میں وہ کچھ بیان کیا ہے جو اس وقت کے حساب سے مناسب تھا ؛ ایسی نظم کوئی عام آدمی بھی لکھ سکتا ہے ۔

یہی حال اس فضہ نامی لونڈی کا ہے۔بخاری و مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خادم طلب کیا۔ آپ نے فرمایا کہ:

’’سوتے وقت سو مرتبہ سبحان اللہ و الحمد للہ اور اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔ یہ خادم سے بہتر ہے۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے تب سے یہ وظیفہ ترک نہیں کیا۔ آپ سے پوچھا گیا : صفین کی رات بھی ؟آپ نے فرمایا صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا ۔‘‘ [صحیح بخاری:ج ا:ح1345۔]

اس روایت کے صحیح ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ئی خادم نہیں دیا گیا تھا۔اگر اس کے بعد کہیں سے کوئی خادم آگیا ہو تو ممکن ہے ایسا ہوسکتا ہے ۔ مگر فضہ نام کی کوئی باندی نہیں تھی۔

ساتویں بات:....صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ ایک انصاری گھرانے نے اپنے مہمان کو رات کے کھانے میں ترجیح دی۔انہوں نے اپنے بچوں کو بھی بھوکا سلادیا اور خود میاں بیوی بھی بھوکے پیٹ سو گئے ۔ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

﴿وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ﴾ [الحشر۹]

’’بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ﴾ [الإنسان ۸]

’’اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین یتیم اور قیدیوں کو۔‘‘

یہ آیت اس دوسری آیت کی طرح ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ ﴾ [البقرۃ ۱۷۷]

’’ اوروہ دیتا ہے مال اللہ کی محبت میں قریبی رشتہ داروں کو یتیموں کو اور مساکین کو۔‘‘

صحیح بخاری میں ہے کہ : ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا :یا رسول اللہ! کون سا صدقہ اجر کے اعتبار سے زیادہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر تو صدقہ کرے اس حال میں کہ تندرست ہے، بخیل ہے اور فقر سے ڈرتا ہے اور مال داری کی امید کرتا ہے اور اتنا توقف نہ کر وکہ جان حلق تک آجائے اور پھرکہو کہ اتنا مال فلاں شخص کے لیے ہے اور اتنا مال فلاں شخص کو دے دیا جائے حالانکہ اب تو وہ مال فلاں کا ہو ہی چکا ہے۔‘‘ [البخاری، کتاب الدعوات (ح: ۶۳۱۸)،مسلم، کتاب الذکر والدعاء باب التسبیح....(ح:۲۷۲۷)۔]

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﴾ [آل عمران ۹۲]

’’جب تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پا گے۔‘‘

صفحہ 3 از 5