امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

پس جس چیز کو انسان پسند کرتا ہے اس جنس کے تحت صدقہ کرنے کی کئی انواع و اقسام ہیں ۔مگر اپنی انتہائی سخت ضرورت کے باوجود اپنے پر دوسرے کوترجیح دینا؛ یہ صرف محبت میں صدقہ کرنے سے زیادہ افضل اور اجر و ثواب میں بڑھ کر ہے۔ اس لیے کہ ہر ایک صدقہ کرنے والا محبت کرنے والا اور ذاتی ضرورت پر ترجیح دینے والا نہیں ہوسکتا ۔اور نہ ہی ہر صدقہ دینے والے کوخود انتہائی سخت ضرورت ہوتی ہے۔بلکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی پسندیدہ چیز میں سے کچھ صدقہ بھی کرے اور کچھ اپنی ضرورت کے لیے بچا کر بھی رکھ لے۔حالانکہ اس کی محبت انتہائی سخت ضرورت کو نہیں پہنچی ہوتی۔

پس جب اللہ تعالیٰ نے اس رات میں مہمان کو ترجیح دینے پر انصاری گھرانے کی ان الفاظ میں مدح کی ہے ؛ تو پھر اس قصہ میں اہل بیت کا جو ایثار نقل کیا گیا ہے یہ انصاری کے ایثار سے بہت بڑھ کر ہے ؛ اگر ایسا کرنا ہر حال میں قابل مدح ہے تو مناسب تھا کہ اس پر بہت زیادہ مدح کی جاتی اور اگریہ فعل قابل مدح و تعریف نہیں توپھر اسے مناقب میں ذکر نہیں کیا جاسکتا ۔

آٹھویں بات:....یہ ایسا قصہ ہے کہ اس کا حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ اس لیے کہ یہ شرعی حکم کے خلاف ہے۔ کیونکہ تین شب و روزتک بچوں کو کھانا نہ کھلانا خلاف شرع ہے۔

[اورہلاکت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :’’پہلے اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ۔‘‘] [صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب لا صدقۃ الا عن ظھر غنی (حدیث: ۱۴۲۶، ۱۴۲۷)۔]

تین دن تک انہیں مسلسل بھوکا رکھنے سے بدنی و عقلی کمزوری کے ساتھ صحت کی خرابی اور دین میں فساد کا سبب بن سکتی ہے ۔ یہ اس انصاری کے قصہ کی طرح ہر گز نہیں ہے جس میں انہوں نے بچوں کو صرف ایک رات کے لیے بھوکا سلایا تھا۔ اس لیے کہ بچے اتنا تو برداشت کرسکتے ہیں ؛ مگر تین دن اور تین رات تک ایسا نہیں کرسکتے۔

نویں بات:....پھر اس یتیم بچے کا قصہ جس کا یہ قول ہے کہ:’’ میرے والد یوم العقبہ شہید ہو گئے تھے ۔ ‘‘صاف اور کھلا ہوا جھوٹ ہے، اس لیے کہ عقبہ کی رات صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی گئی تھی لڑائی نہیں ہوئی تھی۔بلکہ اس رات انصار نے بیعت کی تھی ۔ یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے۔اس وقت تک جہاد کا حکم نازل ہی نہیں ہوا تھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ روایت تو جھوٹی ہے ‘ یہ معاملہ اپنی جگہ پر ؛ مگر اس قصہ کو نقل کرنے والا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال سے انتہائی بیگانہ اور جاہل انسان ہے ۔[اسے یہ بھی پتہ نہیں کہ عقبہ کی رات کیا ہوا تھا ] اس کے بجائے اگر یوں کہہ دیتا کہ ’’ احد کے دن میرے والد شہید ہوگئے تھے ‘‘ تو پھر بھی کوئی بات بنتی تھی۔

دسویں بات:....نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شہداء کے یتیم بچوں کی کفالت فرمایا کرتے تھے ۔ اسی لیے جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے خادم مانگا تو آپ نے فرمایا : ’’ میں شہدائے بدر کے بچوں کو چھوڑ کر تمہیں نہیں دے سکتا ۔‘‘

اب اگر کوئی یہ کہے کہ : وہ شہداء مجاہدین کے یتیموں میں سے تھا ؛ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کفالت نہیں کیا کرتے تھے تو یہ انتہائی بڑا جھوٹ اور دروغ گوئی ہوگی۔

گیارھویں بات:....مدینہ میں قیدی بھیک نہیں مانگا کرتے تھے۔ بلکہ مسلمان ہر طرح ان کی ضروریات کی کفالت کیا کرتے تھے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ایک قیدی مدینہ میں بھیک مانگا کرتا تھا، صحابہ کرام پر جھوٹ اور ان کی شان میں قدح ہے۔ قیدیوں کی بڑی تعداد بدر کے دن آئی تھی۔یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے پہلے کا واقعہ ہے ۔اس کے بعد تو قیدی انتہائی کم تعداد میں ہوا کرتے تھے۔

بارھویں بات:....اگر مان لیا جائے کہ یہ قصہ صحیح ہے۔اور اس کا شمار فضائل میں ہوتا ہے۔ تو پھر بھی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس قصہ والالوگوں میں سب سے افضل ہو۔اورنہ ہی یہ لازم آتا ہے کہ باقی لوگوں کو چھوڑ کر آپ ہی امام ہوں ۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سب لوگوں کی نسبت غرباء کو زیادہ کھانا کھلایا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ۔ باب مناقب جعفر بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ (ح:۳۷۰۸) ] یہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شان میں فرمایا تھا:’’ آپ کی سیرت و صورت میرے جیسی ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الصلح ، باب کیف یکتب ھذا ما صالح فلان....(حدیث: ۲۶۹۹) مطولاً۔ ]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مساکین اور فقراء کے ساتھ لطف و احسان کے سلسلہ میں کوئی شخص حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر نہیں چلا۔ [سنن ترمذی، باب مناقب جعفر بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۳۷۶۴) ، ومستدرک حاکم(۳؍۲۱۱) بمعناہ۔] اس کے علاوہ بھی آپ کے فضائل ہیں ‘ تاہم ان فضائل کی بنا پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ یا دوسرے صحابہ کی نسبت افضل نہیں تھے۔ چہ جائے کہ ان فضائل کی بنا پر کوئی ان کے لیے امامت کا دعوی کرنے لگے۔

تیرھویں بات :یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انفاق فی سبیل اللہ عام طور سے معروف اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھا۔بیشک بھوکے کو کھانا کھلانا بھی صدقات کی جنس میں سے ہے۔ قیامت تک کوئی بھی انسان صدقہ کرسکتا ہے ۔ بلکہ تمام امت کے لوگ بھوکوں اور مساکین کو کھانا کھلاتے ہیں ‘ خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ۔ بھلے بعض لوگ اس سے تقرب الی اللہ نہ بھی چاہتے ہوں ۔جبکہ مسلمانوں کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا قول نقل فرماتے ہیں :

﴿اِِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللّٰہِ لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآئً وَّلَا شُکُوْرًا ﴾ [الإنسان ۹]

’’ہم تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری۔‘‘

صفحہ 4 از 5