امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اکیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا انفاق انتہائی رشک کے قابل ہے ۔آپ اسلام کے ابتدائی دور میں اہل ایمان غلاموں کو آزاد کرانے ؛ قیدیوں کو چھڑانے کے لیے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ۔ کفار آپ کو اس پر اذیت دیتے ‘ اور آپ کے قتل کے درپے رہتے۔آپ نے اپنے مال سے سات غلام خرید کر آزاد کیے جنہیں اللہ کی راہ میں عذاب دیا جاتا تھا۔انہی میں سے ایک بلال بھی ہیں ۔حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ابو بکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار ہیں ‘ اور آپ نے ہمارے سردار کو آزاد کیا ہے۔‘‘اس سے مراد حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہوا کرتے تھے ۔

اہل ایمان محتاجین اور اسلام کی نصرت کے لیے آپ کا انفاق فی سبیل اللہ ایک علیحدہ باب ہے۔آپ اس وقت اس راہ میں خرچ کرتے تھے جب تمام روئے ارض کے باسی اسلام کے دشمن تھے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے انفاق جیساانفاق آج کل ممکن ہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ میرے صحابہ کو برا نہ کہو مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی شخض احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو صحابہ کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ [صحیح بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم باب قول النبی رضی اللّٰہ عنہم ، ’’لوکنت متخذا خلیلاً‘‘ (ح :۳۶۷۳)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب تحریم سب الصحابۃ (ح:۲۵۴۱)۔]

اس طرح کا انفاق آپ کے ساتھ ہی خاص ہے۔ باقی رہ گیا مطلق طور پر بھوکوں کو کھانا کھلانا ؛ یہ مشترکہ قدر ہے ؛ قیامت تک اس پر عمل کیا جانا ممکن ہے۔



صفحہ 5 از 5