Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بنو اسد اور بنو غطفان کا وفد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اور ان کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ

  علی محمد الصلابی

جب اسد و غطفان کا وفد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؓ سے صلح کا مطالبہ کیا تو سيدنا ابوبکرؓ نے انہیں حرب مجلیہ (کھلی جنگ) اور خطہ مخزیہ (رسوا کن منصوبہ) کے درمیان اختیار دیا۔ انہوں نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! حرب مجلیہ کا تو ہمیں تجربہ ہو گیا لیکن یہ خطہ مخزیہ کیا ہے؟ فرمایا: اسلحہ، گھوڑے، خچر اور گدھے سب تم سے لے لیے جائیں گے اور تمہیں اونٹوں کے پیچھے چھوڑ دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے خلیفہ اور اہل ایمان کو ایسی بات دکھائے گا جس سے وہ تمہارے عذر کو مان لیں گے اور جو کچھ تم نے ہم سے لیا ہے اس کو واپس کرو اور ہم نے جو لیا ہے اس کو واپس نہیں کریں گے اور اس بات کی تم شہادت دو کہ ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں۔ تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت نہیں ادا کریں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپؓ کا یہ کہنا کہ ہمارے مقتولین کی دیت دو گے تو ہمارے مقتولین تو اللہ کی خاطر شہید ہوئے ہیں ان کے لیے دیت نہیں۔ پھر سيدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں توقف کیا اور دوسرے کے بارے میں فرمایا: آپؓ کی رائے بڑی اچھی ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 223)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرؓ کی رائے پر عمل کیا اور بنو اسد اور بنو غطفان کی شرط کو قبول کر لیا۔