امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بائیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بائیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

اللہ تعالیٰ نے سچائی کا پیغام لانے والے اور اس کی تصدیق کرنے والے کی مدح و توصیف بیان کی ہے۔یہ تعریف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ہے اور آپ پر ایمان لانے والے ہر انسان کے لیے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:

وہ جو کہ سچ کا پیغام لے کر آیا اور وہ خاص کہ جس نے اس کی تصدیق کی ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دو علیحدہ علیحدہ اقسام نہیں بنائیں ۔ بلکہ ان دونوں کو ایک ہی قسم بتایا ہے۔اس لیے کہ اس سے مراد سچائی کی تعریف کرنا ہے ‘ بھلے وہ پیغام لانے کے اعتبار سے ہو یا اس کی تصدیق کرنے کے اعتبار سے ۔ یہ دونوں اوصاف کے اعتبار سے قابل تعریف ہے۔

(جَاءَ بِالصِّدْقِ)اسم جنس ہے۔جو کہ ہر قسم کی سچائی کو شامل ہے۔قرآن اس سچائی میں داخل ہونے میں پہلے درجہ پر ہے ۔اسی لیے فرمایاکہ : اور اس جنس ِسچائی کی تصدیق کی۔اس لیے کہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ تصدیق کرنے والا ایسی چیز کی تصدیق کرتا ہے جو اصل میں سچائی نہیں ہوتی۔جیسا کہ کہا جاتا ہے : فلاں انسان حق بات کہتا ہے ‘ اور حق بات سنتا ہے ‘اور اسے قبول کرتا ہے؛ عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔یعنی وہ دوسروں کے لیے حق کہنے اور دوسروں سے حق بات قبول کرنے کے ساتھ موصوف ہے۔ اوراس میں دو وصف پائے جاتے ہیں عدل کرنے کا حکم دیتا ہے او رخود اس پر عمل کرتا ہے۔ اگرچہ بہت سارا عدل جس کا وہ حکم دیتا ہے ؛ وہ حقیقت میں وہ چیز نہیں ہوتی جس پر وہ عمل کرتا ہے۔ 

جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو ان دو میں سے کسی ایک وصف سے متصف ہوں : اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ؛ اور حق کو جھٹلانا۔ کیونکہ ان دو میں سے ہر ایک وصف مذمت کا مستحق ہے۔ توان کے برعکس ان لوگوں کی تعریف بیان کی ؛ جو ان دو مذموم اوصاف سے خالی ہوں ۔ اس طرح سے کہ کوئی سچی بات لے کر آتا ہو؛ جھوٹ نہ لاتا ہو۔ اوراس کے ساتھ ہی وہ حق بات کی تصدیق کرنے والا ہو؛ اسے جھٹلانے والا نہ ہو۔ اور اس کا اپنا ذاتی کلام نہ ہو۔ کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا وہی بات کہے تو یہ اس کی تصدیق نہ کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں میں سے بہت سارے ایسے بھی ہیں جو سچ ہی بولتے ہیں جھوٹ نہیں بولتے۔ لیکن انہیں حسد اور منافست کی وجہ سے یہ بات بھی ناگوار گزرتی ہے کہ کوئی دوسرا ان کے قائم مقام ہو۔پس وہ دوسرے کی سچائی کو بھی جھٹلاتا ہے؛ یا اس کی تصدیق نہیں کرتا؛ بلکہ اس سے روگردانی اور ارعراض کرلیتا ہے۔ اور ان میں ایسا بھی کوئی انسان ہوتا ہے جو کسی دوسرے گروہ کی بات کی صداقت یا جھوٹ جاننے سے پہلے ان کی تصدیق کرلیتا ہے۔ جب کہ دوسرا گروہ جو کچھ کہتا ہے ان کی تصدیق نہیں کرتا؛ بھلے وہ سچا ہی ہو۔ جبکہ چاہیے تو یہ تھا کہ یا تو ان کی تصدیق کرے ؛ یا پھر اس سے منہ موڑ لے۔ یہ بات اکثر ہوئے نفس کے پجاری فرقوں میں پائی جاتی ہے۔ آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ اپنی بات نقل کرنے میں سچے ہوتے ہیں ۔ لیکن اس کے طائفہ یا گروہ سے متعلق جو کچھ نقل کیا جاتا ہے اس سے اعراض کرتے ہیں ۔ پس وہ بھی اس مدح میں داخل نہیں ہوتے؛ بلکہ مذمت میں داخل ہوتے ہیں ۔ کیونکہ وہ اس حق کی تصدیق نہیں کرتے جو ان تک پہنچا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جھوٹے اور حق بات کو جھٹلانے والے دونوں کی مذمت کی ہے۔ اور ایسا کئی آیات میں آیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہٗ اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ ﴾[العنکبوت: 68]

’’اور ا س سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا حق کو جھٹلا دے جب وہ اس کے پاس آئے۔

کیا ان کافروں کے لیے جہنم میں کوئی رہنے کی جگہ نہیں ہے؟‘‘

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴾[[الانعام: 21]

’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے اللہ پر کوئی جھوٹ باندھا، یا اس کی آیات کو جھٹلایا، بے شک حقیقت یہ ہے کہ ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کے اوصاف بیان کیے؛ جو کہ تمام لوگوں سے بڑھ کر ان صفات کے حق دار تھے؛ اس لیے کہ ان میں ہر ایک سچا پیغام لے کر آتا ہے اور جھوٹ نہیں بولتا؛اور ان میں ہر ایک اپنی ذات میں سچا اور اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کی تصدیق کرنے والا ہوتا ہے۔

جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اصناف میں سے ایک صنف کے متعلق تھا؛ جس میں مقصود کوئی فرد واحد بعینہ نہیں ہوتا؛ تواس کی ضمیر کا اعادہ جمع کے صیغہ کے ساتھ کیا؛ اور ارشاد فرمایا :

﴿وَالَّذِیْ جَائَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴾ [الزمرِ: 33]

’’اور وہ شخص جو سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ بچنے والے ہیں ۔‘‘

آپ بہت سارے علم اور دین کی طرف منسوب لوگوں کو ایسا پائیں گے جو اپنی بات کرنے میں جھوٹ نہیں بولتے ؛ بلکہ وہ سچ بات کے علاوہ کچھ بولتے ہی نہیں ۔ لیکن اگر کوئی دوسرا انہیں کسی سچ کی خبر دے تو اس کی تصدیق نہیں کرے۔ ان کی ہویٰ پرستی اور جہالت انہیں اپنے علاوہ دوسروں کی تکذیب پر ابھارتی ہے؛ بھلے وہ سچا ہی کیوں نہ ہو ۔ یا تو وہ اپنے ہم مثل کی تکذیب کرتا ہے ؛ یا پھر ان لوگوں کی تکذیب کرتا ہے جن کا تعلق اس کے گروہ اور فرقہ سے نہ ہو۔

صرف سچے انسان کو جھٹلانا ؛ خود ہی ایک جھوٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے انسان کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ ملایا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ۔ اور ارشاد فرمایا:

﴿فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَبَ عَلٰی اللّٰہِ وَکَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِِذْ جَائَہُ اَلَیْسَ فِیْ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِلْکٰفِرِیْنَ

’’(پھر اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور سچ کو جھٹلایا جب وہ اس کے پاس آیا، کیا ان کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ؟‘‘

پس یہ دونوں قسم کے لوگ جھوٹے ہیں ۔ پہلا اس لیے جھوٹا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جھوٹی خبریں دیتا ہے۔ اور یہ دوسرا مخبر عن اللہ کی طرف سے خبر دینے میں جھوٹا ہے۔

صفحہ 2 از 3