Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ام زمل کا واقعہ

  علی محمد الصلابی

طلیحہ کے گمراہ ساتھیوں کی ایک بڑی جماعت جس کا تعلق بنو غطفان سے تھا، (یہ بصرہ سے مدینہ کے راستے میں حواب کے قریب واقع ہے)

ظفر کے مقام پر ایک خاتون کے پاس جمع ہوئی، جس کا نام اُم زمل سلمیٰ بنت مالک بن حذیفہ تھا۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 323)

 یہ بھی اپنی ماں اُم قرفہ کی طرح عرب کی سرغنہ خواتین میں سے تھی، شرف و منزلت میں اس کی ماں کی مثال بیان کی جاتی تھی کیونکہ اس کے پاس اولاد کی کثرت تھی، اس کا قبیلہ و گھرانہ عزت و قوت میں معروف تھا۔ جب یہ لوگ اس کے پاس جمع ہوئے تو اس نے انہیں خالد سے قتال پر للکارا، وہ بھڑک اٹھے اور بنو سلیم، طے، ہوازن اور اسد کے لوگ ان کے ساتھ ہو لیے اور گھمسان کی جنگ ہوئی۔ یہ اپنی ماں کے اونٹ پر سوار تھی جس سے متعلق کہا جاتا تھا کہ جو اس کو برانگیختہ کرے اس کے لیے سو اونٹ ہیں۔ یہ محض اس کی عزت و قوت کو نمایاں کرنے کے لیے تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں شکست فاش دی، اس کے اونٹ کو مار ڈالا اور اس کو قتل کر دیا اور فتح کی خوشخبری سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو روانہ کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 323)