امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تئیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تئیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

چوتھی بات:....شیعہ سے کہا جائے گا کہ: یہ ایک بدیہی بات تواتر کے ساتھ معلوم ہے کہ دین اسلام کا قیام صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اعانت کا رہین منت نہ تھا۔ بیشک حضرت علی رضی اللہ عنہ شروع میں اسلام لائے؛ اس وقت اسلام بہت کمزور تھا۔ اگر لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور ہجرت و نصرت نہ ہوتی توصرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تائیدسے کچھ بھی نہ بنتا۔ لوگ نہ تو صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لائے تھے؛ اور نہ ہی آپ کی وجہ سے ہجرت و نصرت کی تھی ۔ اور نہ ہی مکہ یا مدینہ میں دعوتِ اسلامی کی نشرو اشاعت کی کوئی ایسی ذمہ داری حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر تھی جیسی ذمہ داری حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر تھی۔اور نہ ہی کسی نے یہ نقل کیا ہے کہ سابقین اولین میں سے کسی ایک نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیاہو؛نہ ہی مہاجرین میں سے اور نہ ہی انصار میں سے ۔ بلکہ صحابہ کرام سے کسی بھی [قابل ذکر] انسان نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول نہیں کیا۔لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یمن میں مبعوث کیا تو پھر جن لوگوں کے مقدر میں ہدایت تھی انہوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ وہاں پر جن لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا؛ وہ صحابہ نہیں ہیں ۔جب کہ بڑے بڑے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر اسلام لائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ ہی مشرکین کو دعوت دیتے تھے اورنہ ہی ان سے مناظرہ کرتے تھے؛ جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں دعوت دیتے اور ان سے مناظرے کرتے ۔اور مشرکین آپ سے ایسے نہیں ڈرتے تھے جیسے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے ڈرتے تھے۔

بلکہ حدیث کی تمام کتب ؛صحاح ؛ مسانید؛ اور مغازی میں ثابت ہے ؛ اور لوگوں کااس پر اتفاق ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر جب مسلمان منہ پھیر کر بھاگ گئے تو اس وقت ؛ توابوسفیان نے ایک بلند جگہ پر چڑھ کر پکارا:

’’ اے مسلمانو!کیا محمد زندہ ہیں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خاموش رہو؛ جواب نہ دو۔

پھر کہنے لگا :اچھا ابوقحافہ کے بیٹے ابوبکر زندہ ہیں ؟ آپ نے فرمایا: چپ رہو جواب مت دو۔

پھر کہا :اچھا خطاب کے بیٹے عمر زندہ ہیں ؟پھر کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سب مارے گئے؛ اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ضبط نہ ہو سکا؛ اور کہنے لگے: او دشمن خدا!تو جھوٹا ہے اللہ نے تجھے ذلیل کرنے کے لیے ان کو قائم رکھا ہے۔ ابوسفیان نے نعرہ لگایا: اے ہبل! تو بلند اور اونچا ہے؛ ہماری مدد کر۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم بھی جواب دو؛ پوچھا :کیا جواب دیں ؟ فرمایا :کہو اللہ بلند و بالا اور بزرگ ہے۔‘‘

ابوسفیان نے کہا :ہماری مدد گار عزی ہے اور تمہارے پاس کوئی عزی نہیں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس کو جواب دو۔‘‘

پوچھا :کیا جواب دیں ؟ فرمایا :کہو :’’اللہ ہمارا مددگار ہے، تمہارا مددگار کوئی نہیں ۔‘‘

ابوسفیان نے کہا: بدر کا بدلہ ہوگیا لڑائی ڈول کی طرح ہے ہار جیت رہتی ہے۔ کہا: تم کو میدان میں بہت سی لاشیں ملیں گی جن کے ناک کان کٹے ہوں گے میں نے یہ حکم نہیں دیا تھا اور نہ مجھے اس کا افسوس ہے۔

[البخاری:ج: دوم:ح۱۲۳۶] 

یہ اس وقت میں مشرکین کے لشکرکاقائد ہے ؛ یہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں پوچھ رہا ہے ۔اگران لوگوں کو ان تین حضرات کے علاوہ کسی اور کا خوف ہوتا ؛ جیسے حضرت عثمان و علی اور طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم ؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید ان لوگوں سے ہوئی ہوتی جیسے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی ہے ؛ تو پھر ضرور ان کے بارے میں بھی ایسے ہی سوال کرتے جیسے ان حضرات کے بارے میں سوال کیا تھا ۔کیونکہ سوال کرنے کا مقتضی اپنی جگہ پر باقی ہوتا ۔اور سوال کرنے میں کوئی مانع بھی موجود نہیں تھا۔اس لیے کہ قدرت اور داعی کی موجود گی میں جب صارف بھی منتفی ہو تو پھر فعل کا بجالانا واجب ہوجاتا ہے۔

پانچویں وجہ:....اسلام کی نشرواشاعت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انفرادی طور پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں تھا۔جتنا اثر آپ کا تھا اتنا ہی آپ جیسے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی اثر و کردار تھا۔ جبکہ بعض صحابہ کے اثرات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اثرات سے بہت زیادہ اوربلیغ تھے۔جن لوگوں کو صحیح تاریخ وسیرت سے معرفت ہے ؛ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔

ہاں جو لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہیں ‘ اور طرقیہ کے راستے پر چلتے ہیں تو [پھر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ] جھوٹ کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ جھوٹ ایسے ہی ہوگا جیسے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہٗ ﴾ [العنکبوت۶۸]

’’اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا؟ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا جب حق اس کے پاس آجائے وہ اسے جھٹلائے۔‘‘

مجموعی طور پر وہ مغازی جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قتال کی نوبت پیش آئی ان کی تعداد نو ہے ۔اور تمام غزوات کی مجموعی تعداد ستائیس ہے۔ جب کہ سرایا کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کی تعدادستر(۷۰) تک پہنچتی ہے۔

اتنے غزوات اور سرایا میں مجموعی طور پر قتل کیے جانے والے کفار کی کل تعداد ایک ہزار سے کچھ کم و بیش بنتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کا دسواں یا بیسواں حصہ کفار کو بھی قتل نہیں کیا۔جب کہ اکثر سرایا میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں جایا کرتے تھے۔ جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی فتوحات میں بھی آپ نے بہت کم ہی حصہ لیا ہے۔ نہ آپ نہ عثمان ؛ نہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم ؛ ہاں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلتے تو آپ بھی ان کے ساتھ نکلا کرتے تھے۔ البتہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے مصر کی فتح میں حصہ لیا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے قادسیہ کی فتح میں حصہ لیا تھا؛ اور حضرت ابو عبیدہ نے شام کا علاقہ فتح کیا تھا۔

صفحہ 2 از 3