امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تئیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تئیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

تو پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک شخص کے ساتھ کی گئی تھی ؛ جب کہ حقیقت حال یہ ہے ۔ تو پھر اہل ایمان سابقین اولین اور مہاجرین وانصار کے ذریعہ ملنے والی تائید کہاں گئی؟ اور وہ تائید کہاں گئی جن لوگوں نے ببول کے درخت کے نیچے آپ کے ہاتھوں پر بیعت رضوان کی تھی؟

بدر کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ جب کہ احد کے موقع پر سات سو کے قریب تھے۔خندق کے موقع پر ہزار سے زیادہ تھے ؛ بیعت رضوان کے دن چودہ سو کے لگ بھگ تھے ۔ یہی صحابہ کرام تھے جنہوں نے خیبر فتح کیا۔فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار کے قریب صحابہ کرام تھے؛ غزوہ حنین میں بارہ ہزار تھے ؛ دس ہزار کا مدنی لشکر اور دوہزار آزاد کردہ اہل مکہ [طلقاء]۔جب کہ تبوک کے موقع پر یہ شمار ممکن نہ رہا ؛ کہا جاتا ہے کہ اس وقت تیس ہزار سے زیادہ صحابہ تھے۔ جب کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ان کو شمار کرنا ممکن نہ رہا ۔آپ کے زمانے میں ہی بہت سارے لوگ ایسے تھے جو ایمان لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے شرفیاب ہوئے ؛ اور ان کاشمار بھی صحابہ میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ان لوگوں کے ذریعہ یمن اور دوسری جگہوں میں آپ کی مدد فرمائی۔یہ تمام لوگ وہ اہل ایمان تھے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی تائید کی۔بلکہ قیامت تک جو بھی ایمان لائے گااور اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا ‘ وہ اس حکم میں داخل شمار ہوگا۔


صفحہ 3 از 3