امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل یہ آیت قرآنی ہے:

﴿یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (الأنفال:۶۴)

’’اے نبی! آپ کو اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو تیری پیروی کر رہے ہیں۔‘‘

ابو نعیم کا قول ہے کہ: یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی؛ یہ فضیلت صحابہ میں سے کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی لہٰذا وہی امام برحق ہوں گے۔‘‘ [شیعہ کا بیان ختم ہوا]

جواب:اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے : 

پہلی بات:....یہ روایت صحیح نہیں ہے۔

دوسری بات :....بیشک یہ قول حجت نہیں ہے ۔

تیسری بات : ....یہ کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بڑا بہتان ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (الأنفال:۶۴)

اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کافی ہے ‘ اور ان اہل ایمان کے لیے بھی کافی ہے جو آپ پر ایمان لائے ہیں ۔وہ اکیلا اللہ ہی آپ کے لیے بھی کافی ہے اور آپ کے ماننے والے اہل ایمان کے لیے بھی کافی ہے ۔ عرب اپنے کلام میں ایسے ہی جملے استعمال کرتے ہیں ۔مثال کے طور پر کہا جاتا ہے : فَحَسْبُکَ وَزَیداً درھمٌ ۔

آپ کے لیے اور زید کے لیے ایک درہم ہی کافی ہے ۔ اور جیسے شاعر کا قول ہے:

فَحَسْبُکَ وَالضُّحَّاکَ سَیْفٌ مُّہَنَّدٌ

’’تمہارے اورضحاک کے لیے صرف شمشیر برآں کافی ہے۔‘‘

اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’حَسْبُ‘‘ مصدر ہے۔مضاف ہونے کی صورت میں مستحسن اور زیادہ فصیح یہ ہے کہ اعادہ جار کے ساتھ اس پر عطف ڈالا جائے ۔ اعادہ جار کے بغیر اگرچہ صحیح قول کے مطابق جائز ہے؛ مگر شاذونادر ہی اس پر عطف ڈالا جاتا ہے۔ اعادہ جار افصح و احسن ہے۔ اس طرح معنی پر عطف ہوتا ہے۔ اور مضاف منصوب واقع ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: ’’حسبک والضحاک۔‘‘یعنی آپ کے لیے اور ضحاک کے لیے کافی ہے۔ 

مصدر فعل والا عمل کرتا ہے۔ لیکن جب اسے مضاف کردیا جائے تو اس کا غیر مضاف الیہ پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اسے فاعل کی طرف مضاف کیا جائے تو مفعول کو نصب دیتا ہے۔اور اگر اسے مفعول کی طرف مضاف کیا جائے تو فاعل کو رفع دیتا ہے۔ مثلاً آپ یوں کہیں : ((أعجبنِی دقُ القصارِ الثوبَ))

یہ بھی اس کلام کی ایک توجیہ ہے۔ اورآپ یوں کہیں : ((: أعجبنِی دقُ الثوبِ القصارُ۔))

نحویوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے کہ اس کے اعمال کا نکرہ ہونا اس کے مضاف الیہ ہونے سے زیادہ بہتر اور اچھا ہے۔ اس لیے کہ اضافت کی وجہ سے اس کی مشابہت اسماء کے ساتھ زیادہ قوی ہوجاتی ہے۔ اور حق اور سچ بات یہ ہے کہ مصدر کا کسی ایک کی طرف مضاف ہونا ؛ اور دوسرے پر اس کا عمل صرف اس کے نکرہ ہونے اس نکرہ پر عمل سے زیادہ بہتر ہے۔ پس کسی کا یوں کہنا کہ: ((أعجبنِی دقُ القصارِ الثوبَ)) یہ اس سے بہتر ہے کہ پ یوں کہیں : ((: أعجبنِی دقُ الثوبِ القصارُ۔))

اس لیے کہ تنکیر بھی اسم کے خصائص میں سے ہے۔اور اضافہ اس سے خفیف ہوتا ہے؛ کیونکہ وہ اسم ہے۔اور اس میں اصل یہ ہے کہ مضاف توکیا جائے مگر عمل نہ کرے۔ لیکن جب فاعل اور مفعول دونوں کی طرف اس کی اضافت متعذر ہو توپھر فاعل یا مفعول دو میں سے کسی ایک کی طرف اسے مضاف کیا جائے گا جب کہ دوسرے پر اس کا عمل ہوگا۔

یہی حال معطوفات میں بھی ہوتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو ان سب کی طرف اس کی اضافت کی جائے جیسا کہ اسم ظاہر کی طرف اضافت میں ہوتا ہے۔جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے:

((إِن اللہ حرم بیع الخمرِ والمیتۃِ والدمِ والخِنزِیرِ والأصنامِ ))۔

ان کا یہ قول ہے کہ : ((نہی عن بیعِ الملاقِیحِ والمضامِینِ وحبلِ الحبلۃِ۔))

اور اگر ایسا کرنا متعذر ہو تو پھراسے مستحسن نہیں سمجھا جاتا ۔ جیسا کہ یہ کہا جاتا ہے:

(( حسبک وزیداً دِرہمٌ ۔))تو اس کا عطف معانی پر ہوتا ہے۔ 

اس کے متشابہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَکَنًا وَّ الشمس وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا﴾ [الانعام: 96]

’’ اور اس نے رات کو آرام اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا۔‘‘

اس موقع پر اسے اللیل مجرورکے محل پر واقع ہونے کے باوجود نصب دیا گیا ہے؛

سو بلاشک اسم فاعل مصدر کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی اسے مضاف کیا جاتا ہے اور کبھی یہ عمل کرتا ہے۔

بعض لوگوں نے غلط فہم کی بنیاد پر اس آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اے نبی! اللہتعالیٰ اور مومن آپ کے لیے کافی ہیں ۔‘‘ اس صورت میں ﴿مَنِ اتَّبَعَکَ﴾رفعی حالت میں ہوگا اور اس کا عطف لفظ اللہ پر ہو گا۔‘‘یہ اتنی بڑی غلطی ہے کہ اس سے کفر لازم آتا ہے ۔ اس لیے کہ صرف اللہ تعالیٰ ساری مخلوقات کے لیے کافی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿اَلَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ اِیْمَانًا وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ﴾ (آل عمران:۱۷۳)

’’وہ لوگ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے میں لشکر جمع کر لیے ہیں ۔ تم ان سے خوف کھا تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے ۔‘‘

یعنی صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے کافی ہے۔

صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ‘آپ فرماتے ہیں : ’’ یہ کلمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا جب انہیں آگ میں ڈالا گیا ‘ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کہا جب لوگ آپ کو [ڈرانے کے لیے ] کہنے لگے : بیشک لشکر تمہارے لیے جمع ہوگئے ہیں ‘ ان سے ڈرو ؛ تو ان کا ایمان مزید بڑھ گیا ‘اورکہنے لگے : ’’ حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل ۔ ‘‘ ہمیں اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے ‘ اور وہ بہترین کار ساز ہے۔‘‘ 

صفحہ 1 از 5