امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

تمام انبیائے کرام علیہم السلام یہی کہتے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارے لیے کافی ہے ۔ اور ان میں سے کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا کہ کوئی اور بھی اللہ کے علاوہ ان کے لیے کفایت کرتا ۔ جب یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مؤمنین کے لیے کفایت کرجائیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور مؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کفایت کر جائیں ؟

اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے :

﴿اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ ﴾[الزمرِ: 36]

’’ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ لَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ رَسُوْلُہٗٓ﴾ [ التوبۃ : 59]

’’اور کاش کہ واقعی وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے، جلد ہی اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔‘‘

انہیں دعوت دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دیے ہوئے پر ایسے راضی ہوجائیں حتی کہ وہ خود کہیں : حسبنا اللہ ۔ اور یہ نہ کہیں حسبنا اللہ و رسولہ ۔ اس لیے کہ دیا جانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے ممکن نہیں تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا ﴾[الحشر ۷]

’’اور رسول تمھیں جو کچھ دے تو وہ لے لو اور جس سے تمھیں روک دے تو رک جاؤ ۔‘‘

جب کہ رغبت اللہ کی طرف ہی ہوتی ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَاِِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ () وَاِِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ()﴾[ألم نشرح]

’’جب فراغت ہو تو کھڑے ہوجاؤ اور اپنے رب ہی کی طرف پس رغبت کرو۔‘‘

یہی حال تحسب (کفایت سمجھنے ) کا ہے جو کہ حقیقت میں صرف اللہ وحدہ لاشریک پر توکل کا نام ہے۔ یہی وجہ کہ انہیں حکم دیا گیا کہ صرف یوں کہا کریں :(حسبنا اللہ)۔ اور اس کے ساتھ ملاکریوں نہ کہا کریں : (ورسولہ)۔ 

جب یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے لیے کفایت ہوں [کیونکہ یہ کفایت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوسکتی ہے ] تو پھر یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ مؤمنین اللہ کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کفایت ہوں ۔

مؤمنین اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں ۔ پس ان کے لیے کفایت کا ہونا ضروری ہے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت مؤمنین سے ہو ‘اور مؤمنین کی قوت وکفایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو ۔اس لیے کہ اس سے دور لازم آتا ہے ۔ بلکہ تمام تر قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ‘وہی اللہ وحدہ لاشریک ہی جوتمام تر قوتوں کا پیدا کرنے والا ہے وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت کا بھی پیدا کرنے والا ہے ۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿ہُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَo وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِہِمْ﴾[الأنفال:62-63]

’’وہی جس نے تجھے اپنی مدد اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی۔اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔‘‘

بلاشک و شبہ صرف ایک اللہ تعالیٰ ہی اپنے رسول کی تائیددو چیزوں سے کرنے والے ہیں :

۱۔ وہ نصرت جس سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نوازا تھا۔

۲۔ اہل ایمان جوکہ آپ کی اطاعت گزاری میں داخل ہوگئے تھے۔

یہاں پر یہ کہا ہے کہ: حسبک اللہ۔ اور یہ نہیں فرمایا: نصر اللہ ِ ۔پس اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی اسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ مؤمنین بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہیں ۔پس یہاں پر جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا؛ اسے اس پر عطف کیا گیا ہے جوکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔کیونکہ حقیقت میں یہ دونوں ہی چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ ان میں سے کسی ایک چیز کے بھی پیدا کرنے میں کوئی ایک بھی نہیں تھا۔ بلکہ صرف اللہ تعالیٰ اکیلے ہی ان تمام چیزوں کے خالق و مالک ہیں ؛ اور وہ ان میں سے کسی ایک چیز کے لیے بھی کسی دوسرے کے محتاج نہیں ۔

جب یہ بات واضح ہوگئی تو پتہ چلا کہ رافضی جہالت پر جہالت مرتب کرتے چلے جاتے ہیں ۔ پھر ایسے اندھیروں کا شکار ہوگئے کہ یہ اندھیرے آپس میں اوپر نیچے ہورہے تھے ۔اس طرح وہ گمان کرنے لگے کہ :اللہ تعالیٰ کا فرمان : ﴿حَسْبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴾اس کامعنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور آپ کی اتباع کرنے والے مؤمنین آپ کے لیے کافی ہیں اور پھر آپ کے متبعین مؤمنین میں سے صرف ایک حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہی مؤمن مانتے ہیں ۔ان کی یہ جہالت پہلی جہالت سے بھی زیادہ بڑھ کر اور واضح ہے ۔ اس لیے کہ پہلی جہالت تو بعض لوگوں پر مشتبہ ہوسکتی ہے ؛ مگر یہ جہالت کسی بھی عاقل پر مخفی نہیں رہ سکتی۔

[[اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ ﴿مَنِ اتَّبَعَکَ﴾ فاعل ہے اور لفظ اللہ پر معطوف ہے تو بھی یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مختص نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ نزول آیت کے وقت آپ کی پیروی کرنے والے بے شمار مومن موجود تھے۔ کوئی دانش مند آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جہاد کفار میں نبی کریم کے لیے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کافی تھے]]

اس لیے کہ بیشک تمام مخلوق میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کافی نہیں تھے۔ خدانخواستہ آپ کی اعانت کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا اگر دیگر صحابہ موجود نہ ہوتے تو اسلام کا بول بالا نہ ہوتا۔ [[مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ چند صحابہ موجود تھے۔ تاہم دین کا بول بالا نہ ہو سکا، بلکہ دین کو غلبہ اسی وقت حاصل ہوا جب آپ نے مدینہ میں ہجرت فرمائی]]

صفحہ 2 از 5