امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

غور کیجیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امداد کے لیے لشکر جرار موجود تھا۔ تاہم آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے شام کا ملک چھین نہ سکے۔بلکہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہی غلبہ حاصل رہا ۔بھلے یہ غلبہ قوت و قتال کے لحاظ سے ہو یا تدابیر اور چالوں کے لحاظ سے ۔ اس لیے کہ جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے ۔ شاعر کہتا ہے:

’’ بہادروں کی بہادری سے پہلے رائے کا وقت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ رائے کا موقعہ پہلے ہے اور شجاعت و بہادری دیکھانے کا موقعہ دوسرا ہے ۔‘‘

جب یہ دونوں چیزیں کسی انسان میں جمع ہوجاتی ہیں تو وہ بلندیوں کی انتہاء پر پہنچ جاتا ہے۔

جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلام کے غالب آنے کے بعد اور اپنے پیروکاروں کی اکثریت کی باوجود خود اپنی ذات کے کام نہ آسکے ؛ تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت میں کیسے کام آسکتے تھے جب تمام دنیا والے آپ کے دشمن تھے۔

اگر یہ کہا جائے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اس لیے غالب نہیں آئے کہ آپ کا لشکر آپ کی اتباع نہیں کرتا تھا ‘بلکہ وہ ہمیشہ آپس میں اختلاف کا شکار رہتے تھے۔

تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : جب آپ کے ساتھ مسلمان ہونے کے باوجود آپ کی اطاعت نہیں کررہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ کافر لوگ آپ کی اطاعت کریں حالانکہ نہ ہی وہ آپ کو مانتے ہیں اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔

شیعہ کی جہالت اور ظلم کا اندازہ لگائیے کہ یہ دو متضاد باتوں کو جمع کردیتے ہیں ۔ ایک جانب توحضرت علی رضی اللہ عنہ کو قدرت و شجاعت کے اعتبار سے اکمل البشر قرار دیتے اور کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے محتاج تھے۔ دین اسلام کی توسیع و اشاعت بھی روافض کے خیال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رہین منت تھی۔ایسا کفر کہتے ہیں کہ آپ کودین محمدی کے قائم کرنے میں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ تو دوسری جانب یہ کہتے ہیں کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ ظہور اسلام کے بعد عجز و نیاز کا زندہ پیکر بن گئے تھے۔ اور آپ نے تقیہ کر رکھاتھا ۔یہ بات کس قدر عجوبہ روزگار ہے کہ جو شخص اسلام کی کمزوری اور قلت افراد کے زمانہ میں مشرکین بلکہ جن و انس سب پر غالب تھا؛جب لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوچکے تھے تو وہ ایک باغی گروہ کے مقابلہ میں کیوں کر عاجز آگئے اور اس کو زیر نہ کر سکے۔[ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تنہا مشرکین کو زیر نہیں کر سکتے تھے ؛ جب تک کہ آپ کے ساتھ دوسرے صحابہ کرام موجود نہ ہوتے ]۔

یہ بات یقینی طور پر سبھی لوگ جانتے ہیں کہ لوگ اسلام میں داخل ہونے کے بعد حق کے سب سے بڑے اتباع کار تھے ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ کا نازل کردہ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ یہاں تک کہ کفار کو مغلوب کیا ؛ اور لوگ مسلمان ہوئے۔ تو پھر یہ ایک چھوٹے سے گروہ کو مغلوب کیوں نہ کرسکے جنہوں نے سرکشی اور بغاوت کی تھی۔حالانکہ ان کی تعداد بھی بعثت محمد ی کے وقت موجود کفار کی تعداد سے بہت کم تھی۔ان کی شان و شوکت بھی بہت کم تھی؛ اور ان کی نسبت یہ لوگ حق کے بھی زیادہ قریب تھے؟

جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جھگڑاکرنے والے کفار تعداد میں بہت زیادہ اور حق سے بہت ہی دور تھے۔اس وقت میں اہل حجاز ‘ اہل شام ‘ اہل یمن ؛ اہل مصر اہل عراق ؛ اہل خراسان او راہل مغرب تمام کے تمام کفار تھے۔ ان میں مشرکین بھی تھے ‘ اہل کتاب بھی ؛ مجوسی بھی تھے اور صابی بھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت جزیرہ عرب پر اسلام غالب ہوچکا تھا۔ اور جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیے جانے کا واقعہ پیش آیا اس وقت تک اسلام مصر ؛ شام ؛ عراق ؛ خراسان اور مغرب تک غالب آچکا تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت دشمنان تعداد میں بہت کم اور قوت کے لحاظ سے بہت کمزور رہ گئے تھے ۔اور دشمنی بھی اس وقت کی نسبت بہت کم تھی جس وقت میں آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ ایسے ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت یہ لوگ بالکل ہی کم اور کمزور ہوگئے تھے ۔ اور پہلے کی نسبت دشمنی میں بھی کمی آگئی تھی۔ وہ حق جس کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ بر سر پیکار تھے ؛ وہ اس حق کا ایک جزء تھا جس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قتال و جہادکر تے تھے۔ پس جو کوئی اس حق کو جھٹلائے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لیکر آئے ہیں ‘اور اس پر قتال کرے ؛ یقیناً وہ انسان اس حق کو بھی جھٹلانے والا ہے جس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اس حالت میں حق کی نصرت اور باطل سے دفاع میں عاجز آگئے تھے ؛ توپھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے تو اس وقت آپ کا کیا حال ہوگا؟ اس وقت تو آپ بالکل ہی عاجز اور کمزور ہوں گے ۔کیونکہ اس وقت دشمنان بھی تعداد میں بہت زیادہ دشمنی میں سخت اور قوت و شوکت سے لیس تھے۔

روافض کے اس فعل کی نظیر نصاریٰ کا یہ طرز عمل ہے کہ وہ ایک طرف حضرت عیسیٰ کو اِلٰہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں آپ ہر چیز کے رب ہیں اور ہر چیز پر قادر ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ ان کے دشمنوں نے ان کی تذلیل کی ان کے سر پر کانٹے رکھے اور انھیں سولی پر چڑھایا۔ حضرت مسیح واویلا کرتے رہے، مگر انھوں نے ایک نہ سنی۔نہ ہی وہ حضرت مسیح کے لیے قدرت قاہرہ کے ثابت کرنے میں کامیاب ہوسکے اورنہ ہی اس کمزوری کے ثابت کرنے میں ۔

اگر وہ کہیں کہ حضرت مسیح کو یہ تکلیف اللہکی مرضی سے دی جار ہی تھی۔

صفحہ 3 از 5