امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ تو اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے۔اگر آپ کو قتل کرنااور پھانسی دینا یہ ایک طاعت و عبادت تھی تو پھر جو یہود یہ کام کررہے تھے وہ عبادت بجا لا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کررہے تھے ۔ بنا بریں وہ مدح و ستائش کے مستحق تھے نہ کہ مذمت کے ۔ یہ عظیم ترین کفر و جہالت ہے۔ عام شیعہ شیوخ اور فقراء بھی اسی قسم کے تضاد میں مبتلا ہیں ، ایک طرف وہ بلند بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف ضعف و عجز کا مظاہرہ بھی کرتے رہتے ہیں ۔ حدیث میں آیا ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کریں گے اور ابومعاویہ فرماتے ہیں کہ اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھیں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور مفلس تکبر کرنے والا۔‘‘ایک روایت میں عیال دار متکبر کے الفاظ ہیں ۔‘‘ [سنن نسائی۔ کتاب الزکاۃ، باب الفقیر المختال(ح:۲۵۷۶) وصحیح مسلم، کتاب الایمان۔ باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار (ح: ۱۰۷)۔]

ایک مفلس و قلاش آدمی کے اظہار فخر و غرور کا طرز و انداز یہ ہے کہ جب وہ کبر وغرور پر اترے تو اپنے آپ کو اللہ کا جانشین قرار دے اور یہ کہے کہ میرے سوا کوئی رب ہے نہ رسول۔ اس کا انجام یہ ہو کہ وہ بھیک مانگنے پر اتر آئے اور لوگوں سے روٹی کے ٹکڑے طلب کرتا پھرے ؛یا ظالم کے ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس کے خلاف مدد طلب کرتا پھرے ؛ اور ایک لقمہ تک کا محتاج ہو؛ ایک لفظ زبان پر لانے سے ڈرتا ہو۔ تو پھر کہاں یہ فقر و ذلت اور رسوائی اور کہاں وہ رب ہونے کا دعوی جوکہ عزت و غلبہ اور تونگری کو متضمن ہے۔یہ ان مشرکین کا حال ہوتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ﴾ [الحج ۳۱]

’’ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا ، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اس کو ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ﴾ (العنکبوت:۴۱)

’’جن لوگوں نے اللہکے سوا دوسروں کو اپنا کار ساز بنایا ان کی مثال ایک مکڑی جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا ہو اور سب سے کمزور ترین گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے، اے کاش !کہ انھیں معلوم ہوتا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَکُوْا بِاللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا

[آل عمران۱۵۱]

’’عنقریب ہم منکرینِ حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے ، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔‘‘

عیسائیوں میں شرک واضح طور پر پایا جاتا ہے ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰہًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ [التوبۃ ۳۱]

’’انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے۔ اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی ۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔‘‘

یہی حال ان کی مشابہت اختیار کرنے والے نسّاک اور غالی شیعہ کا بھی ہے۔ان میں انتہائی درجہ کا شرک اور غلو پایا جاتا ہے ۔بالکل ویسے ہی جیسے نصاری میں شرک اور غلو پایا جاتا ہے ۔ جب کہ یہودیوں میں تکبر پایا جاتا ہے ۔ متکبر آخر کار ہمیشہ ذلت و رسوائی سے دو چار ہوتا ہے، اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّہِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِ حَقٍّ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ﴾ (آل عمران:۱۱۲)

’’ ان پر ذلت چھا گئی تھی وہ جہاں بھی ہوں مگر یہ کہ وہ اللہ کی پناہ میں ہوں یا لوگوں کی پناہ میں آجائیں ۔ وہ مورد غضب الٰہی ہوئے اور ان پر مسکینی چھا گئی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آیات الٰہی کے ساتھ کفر کرتے انبیاء کو بلاوجہ تہہ تیغ کرتے اللہکے نافرمان اور حد سے تجاوز کرنے والے تھے۔‘‘

پس روافض میں ایک وجہ سے یہود کی مشابہت پائی جاتی ہے اور ایک وجہ سے نصاری کی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ ان لوگوں میں شرک ‘ غلو اور باطل کی تصدیق میں نصاری کی مشابہت پائی جاتی ہے ؛ جب کہ دوسری طرف بزدلی ؛ تکبر ؛ حسد اور حق کی تکذیب کرنے میں یہودیوں کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہی حال رافضیوں کے علاوہ دوسرے گمراہ اہل بدعت فرقوں کا ہے ۔ ان میں گمراہی بھی پائی جاتی ہے اور سرکشی و بغاوت بھی ‘ اور دوسری جانب شرک و تکبر بھی ان میں موجود ہوتا ہے ۔

صفحہ 4 از 5