امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چوبیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

لیکن رافضی اس میں سب سے آگے بڑھے ہوئے ہیں ۔ اسی وجہ سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ لوگ سب سے بڑھ چڑھ کر اللہ کے گھروں کو ویران کرنے والے ہیں ۔ان کے ہاں مسجدوں میں نماز جمعہ اور باجماعت نماز کا اہتمام نہیں کیا جاتا ۔ حالانکہ باجماعت نماز کا اجتماع اللہ تعالیٰ کا محبوب ترین اجتماع ہوتا ہے۔ ایسے ہی رافضی کفار اور مشرکین اعداء دین سے جہاد بھی نہیں کرتے ۔بلکہ آپ اکثر دیکھ سکتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرتے ہیں ‘اور ان سے مدد لیتے ہیں ۔ اہل ایمان اولیاء اللہ سے دشمنی رکھتے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں مشرکین اور اہل کتاب سے دوستیاں پالتے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے بہتر لوگوں مہاجرین و انصار اور تابعین کرام رحمہم اللہ سے دشمنی و عداوت رکھتے ہیں ۔ اور مخلوق میں سب سے بڑے کفار اسماعیلیہ اور نصیریہ اور ملحدین سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں ۔ اگرچہ انہیں کافر بھی کہتے ہیں ۔ مگر ان کے دل اور ان کے بدن مہاجرین و انصار اور تابعین کرام رحمہم اللہ جیسے سچے مسلمانوں اور جمہور اہل اسلام کی نسبت ان کافروں کی طرف زیادہ مائل رہتے ہیں ۔

اہل ہوی و اہل بدعت فرقوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے؛ حتی کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو علم کلام ‘ فقہ ‘ حدیث اور تصوف کی طرف منسوب کرتے ہیں ؛ مگر ان میں اس کا ایک شعبہ پایا جاتا ہے ۔ جیسا کہ اس کا ایک شعبہ ان اہل اھوا میں پایا جاتا ہے جو کہ اہل قلم اور تجار میں سے بادشاہوں اور وزیروں کے دروں پر حاضری دینے والے ہوتے ہیں ۔ مگر رافضیوں میں تمام بدعتی فرقوں سے بڑھ کر گمراہی و سرکشی اور جہالت پائی جاتی ہے ۔


صفحہ 5 از 5