Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا اپنی قوم کو نصیحت اور ان کے ساتھ نفسیاتی جنگ

  علی محمد الصلابی

سیدنا عدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے پاس پہنچے، انہیں اسلام کی طرف لوٹنے کی دعوت دی۔ انہوں نے جواب دیا: ہم ابو فصیل سے بیعت نہ کریں گے۔ (اس سے مقصود سیدنا ابوبکرؓ ہیں۔ بکر اور فصیل اونٹنی کے بچے کو کہتے ہیں)

اس پر سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہارے پاس ایسے لوگ پہنچے ہیں جو تمہاری عورتوں کو حلال کر لیں گے اور پھر تم ان کی کنیت ابو فحل رکھنے پر مجبور ہو گے۔ اب تم سمجھو، قوم کے لوگوں نے عرض کیا: آپؓ اس فوج کو ابھی روکیں تا کہ ان لوگوں کو ہم واپس بلا لیں جو ہم میں سے بزاخہ میں طلیحہ کے پاس پہنچ چکے ہیں کیونکہ اگر ہم نے ابھی طلیحہ کی مخالفت کی تو جو ہمارے لوگ اس کے پاس ہیں یا تو ان کو قتل کر دے گا یا پھر انہیں یرغمال بنا لے گا۔ حضرت عدیؓ نے سنح میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا: ابھی آپؓ تین دن رکے رہیں، میں آپؓ کے لیے پانچ سو جنگجو جمع کروں گا، جن کے ساتھ آپؓ اپنے دشمن سے جنگ کریں، یہ اس سے بہتر ہے کہ آپؓ انہیں جہنم رسید کر دیں اور ان کے ساتھ مشغول ہو جائیں۔ سيدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، پھر حضرت عدیؓ ان کے اسلام کی خبر لے کر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 57)

اس طرح سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلہ کی دونوں شاخوں بنو غوث اور بنو جدیلہ کو اس بات پر مطمئن کر لیا کہ وہ طلیحہ کے معسکر سے نکل کر حضرت خالد بن ولیدؓ کی فوج کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ بنو طے کے مؤقف میں یہ تبدیلی و انقلاب معرکہ بزاخہ کے نتائج میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کا یہ عظیم کارنامہ تاریخ کے صفحات میں ان کے پہلے کارنامے کے ساتھ نقش ہو گیا جب وہ اپنی قوم کی زکوٰۃ لے کر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور اس وقت مسلمانوں کو مال کی شدید ضرورت تھی۔ اول دن سے آپؓ کا اسلام صاحب علم و فہم کا اسلام تھا۔ آپؓ نے پوری قناعت اور رضا مندی کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ اسلام اور مسلمانوں کے انتصار اور فتح یابی کا اول دن سے یقین تھا جیسا کہ رسول اللہﷺ نے انہیں قبول اسلام کے وقت بشارت سنائی تھی۔ بنو عدی کے اعدائے اسلام کی مدد سے پھرنے میں ان کے قوی ایمان کا بڑا ہاتھ تھا۔ اس سلسلہ میں ان کی قناعت احتیاط و انتظار کی حد تک نہ تھی کہ کس کو غلبہ حاصل ہوتا ہے بلکہ ان میں سے ڈیڑھ ہزار نے مسلم فوج میں شمولیت اختیار کی جو قوم میں ان کے انتہائی درجہ اثر و رسوخ کا پتہ دیتی ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 61)

اور ایک روایت میں ہے کہ ان کی قوم کے لوگوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں بنو قیس سے لڑنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ بنو اسد ان کے حلیف ہیں، ان سے لڑنا مناسب نہیں۔ اس پر سیدنا خالدؓ نے فرمایا: دونوں میں سے جس کے ساتھ پسند کرو ڈٹ جاؤ۔ بنو قیس بنو اسد سے کمزور نہیں۔ اس پر حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میرے خاندان کے قریب ترین لوگ اس دین کو چھوڑ دیں تو میں ان سے قتال کروں گا۔ اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا کہ میں بنو اسد سے اس لیے جہاد نہ کروں کہ وہ ہمارے حلیف رہے ہیں ایسا ہرگز نہ کروں گا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدیؓ سے فرمایا: دونوں گروہوں میں سے جس سے بھی لڑو جہاد ہے۔ اپنی قوم کی مخالفت مت کیجیے، آپؓ دونوں میں سے جس سے چاہیں قتال کریں اور اپنی قوم کو اس گروہ کے مقابلہ میں لے جائیں جس سے قتال کرنے میں وہ زیادہ ولولہ مند ہوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 75)

یہاں حضرت عدی رضی اللہ عنہ کا اپنی قوم کے مؤقف سے انکار کرنا ان کی ایمانی قوت اور علم کی گہرائی کی دلیل ہے کیونکہ انہوں نے اولیاء اللہ سے دوستی کی اگرچہ وہ حسب و نسب میں ان سے دور تھے اور اعداء اللہ سے برأت کا اظہار کیا اگرچہ وہ ان کے اقارب میں سے تھے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 61)

اور اسی طرح اس سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگی مہارت نمایاں ہوتی ہے کہ انہوں نے حضرت عدیؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کی مخالفت نہ کریں جب کہ وہ بنو اسد سے ان کے حلیف ہونے کی وجہ سے لڑنا نہیں چاہتے بلکہ وہ انہیں جہاد کے اس محاذ پر لے جائیں جہاں وہ لڑنے میں زیادہ ولولہ مند ہوں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 61)

حضرت عدی رضی اللہ عنہ کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کو اسلامی فوج میں شمولیت کی دعوت دی۔ بنوطے کی لشکر خالد میں شمولیت دشمن کی پہلی شکست تھی کیونکہ قبیلہ طے کا شمار جزیرہ عرب کے قوی ترین قبائل میں ہوتا تھا۔ دیگر قبائل ان کو اہمیت دیتے تھے، ان کی طاقت و قوت کا اعتبار تھا، ان سے خوف کھاتے تھے، اپنے علاقہ میں ان کو عزت و غلبہ حاصل تھا، پڑوسی قبائل ان کے حلیف بننے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ جب دشمن میں کمزوری سرایت کر گئی تو ایمان و کفر کی افواج آپس میں ٹکرا گئیں، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے فتح و نصرت مقدر کر دی، جلد ہی وہ دشمن کو قتل کرنے لگے اور قیدی بنانے لگے۔ یہاں تک کہ دشمن کو تباہ کر دیا ان کا قائد طلیحہ بھاگ کھڑا ہوا۔ ان میں سے وہی بچ سکا جس نے اطاعت قبول کر لی یا بھاگ کھڑا ہوا۔ اس واقعہ کے بعد جزیرۂ عرب کے مرتدین میں ضعف پھیل ہو گیا اور پھر اسلامی فوج کو دوسرے مقامات میں مرتدین کو شکست دینے میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔

(الحرب النفسیۃ من منظور اسلامی: دیکھیے احمد نوفل جلد 2 صفحہ 143، 144)