امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل:
امام ابنِ تیمیہؒامامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل:
[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل یہ آیت قرآنی ہے:
﴿فَسَوْفَ یَاتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗ﴾ (المائدۃ:۵۴)
’’اللہ تعالیٰ ایسی قوم کولے آئے گا جو اس سے محبت کرتے ہوں گے ‘ اور اللہ ان سے محبت کرتا ہوگا۔‘‘
ثعلبی کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دیگر صحابہ سے افضل تھے۔ لہٰذا وہی امام وخلیفہ ہوں گے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]
[جواب]:اس کا جواب کئی لحاظ سے دیا جاسکتا ہے :
پہلی بات:....ہم کہتے ہیں کہ یہ ثعلبی پر افتراء ہے، ثعلبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے:’’علی بن ابی طالب و قتادہ و حسن رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ اس سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء مراد ہیں ۔مجاہد رحمہ اللہ نے اس سے اہل یمن کو مراد لیا ہے۔‘‘
انہوں نے حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ والی حدیث کوبطور دلیل پیش کیا ہے کہ اس سے مراد اہل یمن ہیں ۔اور حدیث میں آتا ہے : ’’ تمہارے پاس اہل یمن آئیں گے ۔‘‘ [رواہ البخاری ؛ کتاب المغازی]
ثعلبی نے تو نقل کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء مراد لیتے ہیں ۔
جب کہ باقی ائمہ تفسیر میں سے امام طبری رحمہ اللہ نے مثنی سے روایت کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں : ہم سے عبد اللہ بن ہاشم نے بیان کیا؛ وہ سیف بن عمر سے ؛ وہ ابی روق سے ؛وہ ضحاک سے ‘ وہ ابو ایوب سے اوروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس آیت:
﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ﴾
’’ اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہوجائے گا‘‘
کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں :آپ فرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کو مؤمنین کا علم تھا ؛ اور یہ برے معانی منافقین کی مذمت میں ہیں ؛ اللہ تعالیٰ کو ان کے بارے میں معلوم تھا کہ یہ اپنے دین سے پھر جائیں گے؛ اس لیے فرمایا: ﴿مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ﴾’’ تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ تعالیٰ کسی دوسری قوم کو لے آئے گا؛ جو مرتدین کے ٹھکانوں پر آدھمکیں گے ؛ [وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ ]﴿ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہوگا اوروہ اس سے محبت کرتے ہوں گے ۔‘‘ یہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء و اصحاب ہیں ۔‘‘
نیز امام طبری نے اپنی سندسے یہی قول ضحاک ؛ قتادہ؛ حسن اور ابن جریج رحمہم اللہ سے بھی روایت کیا ہے ؛ ان کے کہنا ہے کہ : قوم سے مراد انصار ہیں ۔ اورکچھ دوسرے لوگوں نے کہا ہے : ’’ قوم سے مراد اہل یمن ہیں ۔‘‘
بعض لوگوں نے اس آخری معنی کو ترجیح دی ہے ‘اور کہا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ ہیں ۔امام طبری فرماتے ہیں : ’’ اگر اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ حدیث ثابت نہ ہوتی تو میں بھی وہی بات کہتا جو دوسرے لوگوں نے کہی ہے کہ اس سے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ اوران کے رفقاء ہیں ۔
نیز آپ فرماتے ہیں : ’’جب اہل ارتداد اپنے دین سے پھر گئے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں واپس لے آیا ۔‘‘ [تفسیر الطبری ۱۰؍۴۱۱]
دوسری بات:....شیعہ مصنف کے پاس اپنے دعوی کی کوئی دلیل نہیں ۔پس اس کی بات کو مان لینا کوئی ضروری نہیں ۔
تیسری بات:....یہ قول مشہور و معروف تفسیر کے منافی ہے۔مشہور تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کرام ہیں ۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ اہل ارتداد سے جنگیں لڑیں ۔ یہ تفسیر لوگوں کے ہاں معروف ہے ؛ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم بیان کرچکے ہیں ۔ لیکن شیعہ کذاب یہ چاہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل میں وارد ہونے والی آیات و احادیث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے قالب میں ڈھال دیں ؛ لیکن یہ بری اور بد نیتی پر مبنی تدبیریں خود ان کے گلے کا طوق بنیں گی ؛[ ان شاء اللہ]
میرے ایک قابل اعتماد ساتھی نے مجھے بتایا کہ میں ایک شیخ کے پاس گیا؛ جسے میں بھی جانتا ہوں ؛ اس شیخ میں دین و زہد تھا اوراس کے احوال معروف تھے؛ اس میں شیعیت کا عنصر پایا جاتا تھا۔[میرا دوست] کہتا ہے: اس (شیخ) کے پاس ایک کتاب تھی؛ جس کی وہ بہت زیادہ تعظیم کرتا تھا؛ اور اس کا دعوی تھا کہ اس میں راز داری کی باتیں درج ہیں ‘ اور اس نے یہ کتاب خلفاء کے خزانوں سے حاصل کی ہے ۔اس نے کتاب کی مدح سرائی میں خوب مبالغہ کیا ؛ جب وہ کتاب سامنے لاکر رکھی گئی تو اس میں بخاری ومسلم کی وہ روایات تھیں جو حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل میں ہیں ؛ اور انہیں رخ موڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں شمار کیا گیا تھا۔
شائد کہ یہ کتاب مصر سے بنو عبید کے خزانوں میں سے حاصل کی گئی ہو؛ اس لیے کہ ان کے قریبی لوگ ملحد اورزندیق تھے جو اسلامی حقائق کو موڑتوڑ کر رکھنا چاہتے تھے۔انہوں نے دین کے نقض پر ایسی احادیث گھڑی ہیں جن کے بارے میں صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جاہل لوگ انہیں دیکھ کر گمان کرتے ہیں یہ روایات بھی بخاری ومسلم سے لی گئی ہیں ۔جب کہ وہ لوگوں میں جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہوئے غلط بات کو رواج دے رہے ہیں ۔
اس طرح کے جاہل لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو روایات بخاری اور مسلم میں ہیں ؛ وہ ہم امام بخاری اور امام مسلم سے لیتے ہیں ۔ جیسے کہ ابن الخطیب اور ان دوسرے لوگوں کا خیال ہے جن کو حقیقت حال کا کوئی علم نہیں ۔ اور یہ خیال کرتے ہیں کہ امام بخاری اور مسلم غلط باتیں پھیلایا کرتے تھے؛ اور جان بوجھ کر جھوٹ بولا کرتے تھے۔اور انہیں اس بات کا علم نہیں کہ جب ہم کہتے ہیں : بخاری ومسلم [نے یہ روایت ذکر کی ہے ] تو ہمارے پاس ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں ۔ اس سے مراد ہر گزیہ نہیں ہوتی کہ صرف بخاری اور مسلم کے روایت کرلینے سے وہ روایت صحیح اورثابت ہوجاتی ہے۔بلکہ بخاری ومسلم کی روایات ان کے علاوہ اتنے علماء اورمحدثین نے روایت کی ہیں جن کی صحیح تعداد کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ان میں سے کوئی بھی روایت کرنے میں یہ دونوں امام منفرد نہیں ہیں ؛ بلکہ ان سے پہلے اور ان کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی لوگوں کی جماعتوں نے انہیں روایت کیا ہے۔ اگر امام بخاری و مسلم نہ بھی پیدا ہوتے تب بھی اللہ کے دین میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی۔اور یہ احادیث اپنی اسانید کے ساتھ موجود ہوتیں ؛ جس سے مقصد حاصل ہوسکتا تھا۔
جب ہم کہتے ہیں کہ بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے تو یہ بالکل اس قول کی طرح ہوتا ہے جب ہم کہتے ہیں : قرأت سبعہ میں یوں ہے۔ قرآن تواتر کے ساتھ منقول ہے۔ ان ساتوں قراء کے ساتھ اس میں سے کوئی بھی چیز خاص نہیں ہے۔ ایسے ہی حدیث کی تصحیح کا مسئلہ بھی ہے۔ أئمہ حدیث نے اس بارے میں بخاری و مسلم کی تقلید نہیں کی۔بلکہ وہ جمہور روایات جن کو ان دونوں حضرات نے صحیح کہا ہے ؛ وہ ان سے پہلے ائمہ حدیث کے ہاں صحیح اور قابل قبول تھیں ۔ او رایسے ہی ان کے زمانے میں بھی او ران کے بعد بھی اس فن کے ائمہ نے ان کی کتابوں کامطالعہ کیا : اور ان کی تصحیح پر موافقت کااظہار کیا ؛ سوائے چند ایک مواقع کے؛ جو کہ تقریباً بیس احادیث ہیں ؛ ان میں سے بھی زیادہ مسلم شریف میں ہیں ۔ ان پر حفاظ حدیث نقاد نے جرح کی ہے۔ ان میں سے ایک گروہ نے امام مسلم و بخاری کی اور ایک گروہ نے تنقید کرنے والوں کی تائیدکی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں بعض مواقع بلا ریب تنقید کے قابل ہیں ۔مثلاً ام حبیبہ کی حدیث ؛ اور یہ حدیث کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا کیا؛ اور یہ کہ چاند گرہن کی نماز میں تین رکوع یا اس سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ یہ صحیح مسلم کی بات ہورہی ہے ۔ جب کہ بخاری ان دونوں کتابوں میں تنقید سے مبراء ہے۔ آپ کوئی لفظ بھی بہت ہی کم ایسا روایت کرتے ہیں جس پر تنقید ہوسکتی ہو۔ اگر ایسا لفظ روایت بھی کریں تو ساتھ ہی دوسرا لفظ بھی روایت کرلیتے ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس حدیث پر تنقید ہوئی ہے۔ آپ کی کتاب میں کوئی لفظ ایسا نہیں آیا جس پر تنقید ہوئی ہو مگر آپ نے دوسری جگہ پر ایسے الفاظ نہ لائے ہوں جن سے اس کا منتقد ہونا ظاہر نہ ہوتا ہو۔
جملہ طور پر جو کوئی سات ہزار درہم کو پرکھے؛ اور اسے چند ایک کے علاوہ کوئی کھوٹا سکہ نہ ملے؛ اور یہ بھی ایسا کھوٹا نہیں جو صرف دھوکہ بازی سے ان میں داخل کردیا گیا ہو؛ مگر ان میں محض تبدیلی ہوئی ہے۔ پس ایسا انسان اپنے فن کا امام ہے۔ ان دونوں کتابوں میں سات ہزار سے کچھ کم احادیث موجود ہیں ۔
مقصود یہ ہے کہ ان حضرات کی روایت کردہ احادیث کو ان سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی اس فن کے ماہرین نے جانچ پرکھ کے میزان سے گزارا ہے ؛ اوران پر تنقید و بحث کی ہے۔اور ان احادیث کو اتنی خلقت نے روایت کیا ہے جن کی تعداد کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔پس یہ ائمہ نہ حدیث کے روایت کرنے میں منفرد ہیں ‘اور نہ ہی اس کو صحیح کہنے میں ۔
خلاصہ کلام ! اللہ تعالیٰ ہی اس دین کی حفاظت کا ذمہ دار ہے ؛ فرمانِ الٰہی ہے:
﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾
’’بیشک ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے ‘اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔‘‘
بھی اسی طرح ہے جس طرح کے مسائل مذاہب ائمہ پر تصنیف شدہ فقہ کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں جیسا کہ قدوری؛ التنبیہ؛ الخرقی؛ الجلاب۔ ان میں غالب طور پر یہ ہوتاہے کہ جب کہا جائے کہ : فلاں نے ذکر کیا ہے؛ تو اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس امام کا یہ مذہب ہے ۔ اور یقیناً یہ اس کے سارے اصحاب نے نقل کی ہے۔ اور یہ مخلوق کی اتنی زیادہ تعداد ہوتی ہے جو کہ اس امام کے مذہب کو تواتر کے ساتھ نقل کرتے ہیں ۔
ان کتابوں میں ایسے مسائل بھی ہیں جن میں بعض اہل مذہب منفرد ہوتے ہیں ۔اور اس میں ان کے مابین نزاع بھی ہوتا ہے۔لیکن اکثر طور پر یہ اہل مذہب کا قول ہوتا ہے۔ جب کہ بخاری اور مسلم میں اکثر روایات پر تمام اہل علم محدثین کا اتفاق ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا بہت زیادہ اہتمام کرنے والے ہوتے ہیں ۔ اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کی معرفت اتباع ائمہ کی ائمہ کے الفاظ سے معرفت کی نسبت بہت زیادہ ہوا کرتی ہے۔ اور علمائے حدیث الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد سے؛ اتباع ائمہ کی ائمہ کے الفاظ و مقاصد سے زیادہ واقف کار ہوتے ہیں ۔ اور محدثین کے مابین تنازع ائمہ کے مقلدین کے مابین تنازع کی نسبت بہت کم ہوتا ہے۔
رافضہ کی جہالت کی وجہ سے ان کا یہ حال ہے کہ جب کسی نسخہ میں کوئی ایک چیز دیکھتے ہیں ؛ تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات ان اہل پر مخفی ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس دین کی حفاظت فرمارہے ہیں ؛ پس وہ [ان میں اپنی من مانی تحریف کرنے لگ جاتے ہیں ]اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل بنانا شروع کردیتے ہیں ۔‘‘
چوتھی بات:....لوگوں میں تواتر کے ساتھ یہ بات مشہور و معروف ہے کہ مرتدین کے ساتھ قتال کرنے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔آپ نے ہی مسیلمہ کذاب اور اس کے اتباع کار قبیلہ بنو حنیفہ اور اہل یمامہ سے جنگ کی تھی؛ مسیلمہ نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ تھی۔ اور آپ نے ہی طلیحہ اسدی سے جنگ کی جس نے نجد کے علاقہ میں نبوت کا دعوی کیا تھا۔بنو تمیم ؛ بنو اسد اور بنوغطفان نے اس کی اطاعت گزاری شروع کردی تھی۔ ایسے ہی سجاع نامی ایک عورت نے بھی نبوت کا دعوی کیا تھا ؛ پھر اس نے مسیلمہ کذاب کے ساتھ شادی کرلی ؛ یوں جھوٹا اورجھوٹی شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ عربوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو دین اسلام سے مرتد تو ہوگئے تھے مگر انہوں نے کسی جھوٹے نبی کی اتباع نہیں کی۔ اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو شہادتین کا تو اقرار کرتے تھے مگر احکام شریعت کا انکار کرتے تھے ؛ جیسے کہ مانعین زکواۃ۔ ان لوگوں کے قصے اتنے متواتر اور مشہور ہیں کہ اس باب میں ادنی معرفت رکھنے والا بھی ان کا علم رکھتا ہے۔
مرتدین سے جنگ کرنے والے ہی وہ لوگ تھے جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے تھے۔ وہ اس آیت کی تفسیر میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔
ایسے ہی وہ تمام لوگ جنہوں نے اہل روم و فارس سے قتال کیا ؛ وہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے رفقاء اور اہل یمن اور دوسرے لوگ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’ اس کی قوم کے لوگ ہیں ۔‘‘ [تفسیر الطبری ۱۰؍۴۱۱۔]
یہ بات تواتر کے ساتھ مشہور اور یقینی طور پر معلوم شدہ ہے کہ جولوگ فتنہ ارتداد کے وقت دین اسلام پر ثابت قدم رہے اور جنہوں نے کفار و مرتدین سے قتال کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں شامل ہیں :[فرمان الٰہی ہے]:
﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ﴾ [آل عمران۵۴]
’’اے لوگو!جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے(تو پھر جائے)اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہو ں گے ، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔‘‘
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں ‘ اور اللہ ان سے محبت کرتا ہے ؛ لیکن آپ میں یہ صفت حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے زیادہ نہیں پائی جاتی ۔اور نہ ہی آپ کا کفار و مرتدین کے ساتھ جہاد ان حضرات کے جہاد سے بڑھ کر تھا؛ اور نہ ہی آپ کی وجہ سے دین کے لیے کوئی ایسی مصلحت حاصل ہوئی جو ان تینوں خلفاء کے ذریعہ حاصل ہونے والی مصلحت سے بڑھ کر ہو۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک کی کوششیں قابل ِ صد شکر گزاری ہیں ۔ان کے نیک اعمال کے اچھے اثرات اسلام میں موجود ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ انہیں اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے ان اعمال پر جزائے خیر عطا فرمائے۔یہ حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اور ائمہ رشد و ہدایت ہیں ۔جوحق کے مطابق چلتے تھے اور عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔
اس کے برعکس اگر کوئی ائمہ اہل سنت والجماعت جن کی وجہ سے دین و دنیا میں بہت بڑافائدہ حاصل ہوا ؛ان کو کافر و فاسق اور ظالم کہے ؛اور پھر ایسے انسان کی طرف آئے ؛ جس کی وجہ سے دین و دنیا کا کوئی ایسا فائدہ حاصل نہیں ہوا جیسا ان سابقہ تین حضرات سے ہوا ہے؛ اور اس صحابی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے ؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک بنائے ؛ یا ایسا امام معصوم قرار دے ؛ [او ریہ کہے کہ] :ایمان والے صر ف وہی لوگ ہوں گے جو اسے امام معصوم اور منصوص علیہ مانتے ہوں گے ؛ او رجو اس دائرے سے خارج ہو ‘ اسے کافر کہیں ۔ اور جن کفار او رمرتدین سے ان خلفاء نے قتال کیا تھا ؛ انہیں مسلمان قرار دیں ؛ اور جو اہل ایمان پانچ نمازیں پڑھتے؛ رمضان کے روزے رکھتے ؛ بیت اللہ کا حج کرتے ؛اور قرآن پر ایمان رکھتے تھے ؛ انہیں ان منافقین و مرتدین سے جنگ لڑنے کی وجہ سے کافر قرار دیں ۔یہ کام صرف وہی انسان کرسکتا ہے جو انتہائی جھوٹا ؛ کذاب ؛ جاہل اورظالم ہو ؛ او ردین اسلام میں الحاد کو فروغ دینا چاہتا ہو۔ یہ ایسا انسان ہی ہوسکتا ہے جس کا نہ ہی کوئی دین و ایمان ہو اور نہ ہی علم و عقل ۔
علمائے کرام رحمہم اللہ ہمیشہ سے کہتے چلے آئے ہیں کہ : رافضیت کی بنیاد رکھنے والا زندیق اور ملحد تھا۔ جس کا مقصد دین اسلام کو خراب کرناتھا۔ یہی وجہ ہے کہ رافضیت کو زنادقہ ؛ ملحدین ؛ غالیہ معطلہ نصیریہ اور اسماعیلیہ [ اوران جیسے دوسرے کافر فرقوں ] کی پناہ گاہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
یہ پہلی سوچ اور آخری کام تھا۔رافضیت کا موجد دین اسلام میں فساد پیدا کرنااور اس کی رسیوں کو توڑنا؛ اور اس کو جڑوں سے اکھاڑنا چاہتا تھا۔ آخر کار اس کے دل کے وہ بھید ظاہر ہوگئے جنہیں وہ چھپائے رکھنا چاہتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ اس کا دین پورا رہے بھلے کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرتی ہو۔ یہ باتیں عبد اللہ بن سباء اور اس کے متبعین کے بارے میں مشہور ہیں ۔ اسی نے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں امام منصوص [وصی]ہونے کا دعوی کیا تھا۔اور آپ کے بارے میں معصوم ہونے کا قول ایجاد کیا۔ [سب سے پہلے یہ عقیدہ عبد اﷲ بن سبایہودی نے گھڑا تھا، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان ہوچکا ہے۔ابن بابویہ القمی نے شیعہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے کہا شیعہ کا عقیدہ ہے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے جو حکم الٰہی کے مطابق مقرر کیا جاتا ہے۔ ‘‘ نیز اس نے بیان کیا کہ اوصیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔[عقائد الصدوق: ۱۰۶] رافضیت کے پہلے استاد ابن سباء یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن موجودہ رافضی علماء کے موافق عصمت ائمہ کا عقیدہ اس سے منقول نہیں ہے۔ پھر ہشام بن حکم نے عصمت ائمہ کے عقیدے کو ترقی دی اور کہا کہ بے شک امام سے گناہ سرزد نہیں ہوتا۔‘‘ دیکھئے: بحار الأنوار: ۲۵؍۱۹۲، ۱۹۳۔ ج:۱ (باب عصمتہم و لزوم عصمۃ الامام علیہم السلام) جبکہ شیعہ کے علامہ آل کاشف الغطاء نے امام میں یہ شرط لگائی ہے کہ وہ نبی کی طرح خطا اور غلطی سے معصوم ہو۔ أصل الشیعۃ : ۲۱۲۔]
پس اس سے ثابت ہوا کہ امامیہ شیعہ حقیقت میں مرتدین کے پیروکاراور ملحدین کے غلام اور منافقین کے وارث ہیں ۔ اگرچہ یہ خود بڑے ملحد[ و منافق] اور مرتد نہ بھی ہوں ۔
٭ پانچویں بات : ان سے کہا جائے گا: تصور کیجیے یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے؛ تو پھر بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیسے خاص ہے؟ ؛ جب کہ اس کے الفاظ میں تصریح موجود ہے کہ وہ لوگ جماعت ہیں ؛ [کوئی فرد واحد نہیں ] جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :
﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ ....إلی قولہ تعالیٰ....: وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ﴾
’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے(تو پھر جائے)اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا،....اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔‘‘
’’کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے‘‘ کے الفاظ تک صاف صراحت موجود ہے کہ یہ حضرات کوئی ایک آدمی نہیں ؛ اس لیے کہ عرب لغت میں ایک آدمی کوکسی بھی صورت میں حقیقتاً یا مجازاً قوم نہیں کہا جاتا ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ : اس سے مراد آپ کے شیعہ ہیں ۔
تواس کا جواب یہ ہے کہ: جب آیت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شامل ہیں ؛ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ جن لوگوں نے کفار و مرتدین کے ساتھ جنگیں لڑیں وہ اس آیت کی تفسیر میں داخل ہونے کے اس انسان کی نسبت بڑے حق دار ہیں جس نے اہل قبلہ کے علاوہ کسی سے بھی قتال نہ کیا ہو۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اہل یمن جنہوں نے حضرت ابوبکرو عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر جہاد کیا؛ وہ ان رافضیوں کی نسبت اس آیت میں داخل ہونے کے زیادہ حق دار ہیں ؛ جو[رافضی] یہودو نصاری اور مشرکین سے دوستی رکھتے ہیں ؛ اور سابقین اولین اہل اسلام سے دشمنی کرتے ہیں ۔
اگریہ کہا جائے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑنے والوں میں بہت سارے لوگ اہل یمن تھے۔
تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : جن لوگوں نے آپ سے جنگ کی ؛ ان میں بھی بہت سارے لوگ اہل یمن تھے۔ دونوں لشکر میں اہل یمن اور قبیلہء قیس کے بہت زیادہ لوگ موجود تھے۔یمن کے اکثر لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ جیسے ذی الکلاع کے لوگ ؛ ذی عمرو ؛ ذی رعین ؛ اور دوسرے لوگ جنہیں ’’الذوین ‘‘ کہا جاتا ہے۔
چھٹی بات:....اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا‘‘یہ لفظ مطلق ہے؛ اس میں کسی کو بھی متعین نہیں کیا گیا۔ یہ لفظ ان تمام لوگوں کو شامل ہوگا جو ان صفات سے بہرہ ور ہونگے ؛ بھلے وہ کوئی بھی ہوں ۔یہ الفاظ نہ ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہیں اور نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ۔جب کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں تو ان کاشمار کسی کے خصائص میں سے نہیں ہوگا۔ تو اس سے یہ نظریہ باطل ہوگیا کہ جو لوگ آپ کے ساتھ ان اوصاف میں شریک ہیں آپ ان سے افضل ہوئے ؛ کجا کہ اس سے امامت کو واجب سمجھا جائے ۔
بلکہ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ قیامت تک کوئی بھی انسان اس دین سے مرتد نہیں ہوگا؛ مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ایسی قوم کو لے آئیں گے جو اس سے محبت کرتی ہوگی؛ اوروہ ان سے محبت کرتا ہوگا؛ اس قوم کے لوگ اہل ایمان پر بڑے نرم اور کفار پربڑے سخت ہوں گے۔ وہ اللہ کی راہ میں مرتدین سے جہاد کریں گے۔
ارتداد کبھی اصلِ اسلام سے ہوتا ہے ؛ جیسے غالیہ نصیریہ اور اسماعیلیہ کی حالت ہے ؛ اہل سنت اور شیعہ اورعباسیہ کا ان کے مرتد[ او ر کافر ]ہونے پر اتفاق ہے ۔
کبھی ارتداد دین کے بعض امور سے ہوتا ہے ؛ جیسا کہ اہل بدعت رافضہ اور دوسرے لوگوں کا حال ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو کھڑا کردے گاجن سے وہ محبت کرتا ہوگا؛ او روہ اس سے محبت کریں گے۔ وہ لوگ دین سے پھر جانے والوں ؛ یادین کے کچھ حصے کو ترک کردینے والوں سے جہاد کریں گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو کھڑا کیا ہے جو ہر زمانے میں مرتد رافضیوں کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں ۔اور انہیں کسی کا کوئی بھی خوف نہیں ہوگا۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنادے جن سے وہ محبت کرتا ہے اوروہ اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ اس کی راہ میں کسی بھی خوف و ملامت کے بغیر جہاد کرتے ہیں ۔ آمین ۔