امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

چوتھی بات:....لوگوں میں تواتر کے ساتھ یہ بات مشہور و معروف ہے کہ مرتدین کے ساتھ قتال کرنے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔آپ نے ہی مسیلمہ کذاب اور اس کے اتباع کار قبیلہ بنو حنیفہ اور اہل یمامہ سے جنگ کی تھی؛ مسیلمہ نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ تھی۔ اور آپ نے ہی طلیحہ اسدی سے جنگ کی جس نے نجد کے علاقہ میں نبوت کا دعوی کیا تھا۔بنو تمیم ؛ بنو اسد اور بنوغطفان نے اس کی اطاعت گزاری شروع کردی تھی۔ ایسے ہی سجاع نامی ایک عورت نے بھی نبوت کا دعوی کیا تھا ؛ پھر اس نے مسیلمہ کذاب کے ساتھ شادی کرلی ؛ یوں جھوٹا اورجھوٹی شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ عربوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو دین اسلام سے مرتد تو ہوگئے تھے مگر انہوں نے کسی جھوٹے نبی کی اتباع نہیں کی۔ اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو شہادتین کا تو اقرار کرتے تھے مگر احکام شریعت کا انکار کرتے تھے ؛ جیسے کہ مانعین زکواۃ۔ ان لوگوں کے قصے اتنے متواتر اور مشہور ہیں کہ اس باب میں ادنی معرفت رکھنے والا بھی ان کا علم رکھتا ہے۔

مرتدین سے جنگ کرنے والے ہی وہ لوگ تھے جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے تھے۔ وہ اس آیت کی تفسیر میں داخل ہونے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔

ایسے ہی وہ تمام لوگ جنہوں نے اہل روم و فارس سے قتال کیا ؛ وہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے رفقاء اور اہل یمن اور دوسرے لوگ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’ اس کی قوم کے لوگ ہیں ۔‘‘ [تفسیر الطبری ۱۰؍۴۱۱۔]

یہ بات تواتر کے ساتھ مشہور اور یقینی طور پر معلوم شدہ ہے کہ جولوگ فتنہ ارتداد کے وقت دین اسلام پر ثابت قدم رہے اور جنہوں نے کفار و مرتدین سے قتال کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں شامل ہیں :[فرمان الٰہی ہے]:

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ﴾ [آل عمران۵۴]

’’اے لوگو!جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے(تو پھر جائے)اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہو ں گے ، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔‘‘

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اللہ سے محبت کرتے ہیں ‘ اور اللہ ان سے محبت کرتا ہے ؛ لیکن آپ میں یہ صفت حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے زیادہ نہیں پائی جاتی ۔اور نہ ہی آپ کا کفار و مرتدین کے ساتھ جہاد ان حضرات کے جہاد سے بڑھ کر تھا؛ اور نہ ہی آپ کی وجہ سے دین کے لیے کوئی ایسی مصلحت حاصل ہوئی جو ان تینوں خلفاء کے ذریعہ حاصل ہونے والی مصلحت سے بڑھ کر ہو۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک کی کوششیں قابل ِ صد شکر گزاری ہیں ۔ان کے نیک اعمال کے اچھے اثرات اسلام میں موجود ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ انہیں اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے ان اعمال پر جزائے خیر عطا فرمائے۔یہ حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اور ائمہ رشد و ہدایت ہیں ۔جوحق کے مطابق چلتے تھے اور عدل و انصاف سے کام لیتے تھے۔

اس کے برعکس اگر کوئی ائمہ اہل سنت والجماعت جن کی وجہ سے دین و دنیا میں بہت بڑافائدہ حاصل ہوا ؛ان کو کافر و فاسق اور ظالم کہے ؛اور پھر ایسے انسان کی طرف آئے ؛ جس کی وجہ سے دین و دنیا کا کوئی ایسا فائدہ حاصل نہیں ہوا جیسا ان سابقہ تین حضرات سے ہوا ہے؛ اور اس صحابی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنائے ؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک بنائے ؛ یا ایسا امام معصوم قرار دے ؛ [او ریہ کہے کہ] :ایمان والے صر ف وہی لوگ ہوں گے جو اسے امام معصوم اور منصوص علیہ مانتے ہوں گے ؛ او رجو اس دائرے سے خارج ہو ‘ اسے کافر کہیں ۔ اور جن کفار او رمرتدین سے ان خلفاء نے قتال کیا تھا ؛ انہیں مسلمان قرار دیں ؛ اور جو اہل ایمان پانچ نمازیں پڑھتے؛ رمضان کے روزے رکھتے ؛ بیت اللہ کا حج کرتے ؛اور قرآن پر ایمان رکھتے تھے ؛ انہیں ان منافقین و مرتدین سے جنگ لڑنے کی وجہ سے کافر قرار دیں ۔یہ کام صرف وہی انسان کرسکتا ہے جو انتہائی جھوٹا ؛ کذاب ؛ جاہل اورظالم ہو ؛ او ردین اسلام میں الحاد کو فروغ دینا چاہتا ہو۔ یہ ایسا انسان ہی ہوسکتا ہے جس کا نہ ہی کوئی دین و ایمان ہو اور نہ ہی علم و عقل ۔

علمائے کرام رحمہم اللہ ہمیشہ سے کہتے چلے آئے ہیں کہ : رافضیت کی بنیاد رکھنے والا زندیق اور ملحد تھا۔ جس کا مقصد دین اسلام کو خراب کرناتھا۔ یہی وجہ ہے کہ رافضیت کو زنادقہ ؛ ملحدین ؛ غالیہ معطلہ نصیریہ اور اسماعیلیہ [ اوران جیسے دوسرے کافر فرقوں ] کی پناہ گاہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

صفحہ 3 از 5