امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پچیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

یہ پہلی سوچ اور آخری کام تھا۔رافضیت کا موجد دین اسلام میں فساد پیدا کرنااور اس کی رسیوں کو توڑنا؛ اور اس کو جڑوں سے اکھاڑنا چاہتا تھا۔ آخر کار اس کے دل کے وہ بھید ظاہر ہوگئے جنہیں وہ چھپائے رکھنا چاہتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ اس کا دین پورا رہے بھلے کافروں کو یہ بات ناگوار ہی کیوں نہ گزرتی ہو۔ یہ باتیں عبد اللہ بن سباء اور اس کے متبعین کے بارے میں مشہور ہیں ۔ اسی نے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں امام منصوص [وصی]ہونے کا دعوی کیا تھا۔اور آپ کے بارے میں معصوم ہونے کا قول ایجاد کیا۔ [سب سے پہلے یہ عقیدہ عبد اﷲ بن سبایہودی نے گھڑا تھا، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بیان ہوچکا ہے۔ابن بابویہ القمی نے شیعہ کے عقائد بیان کرتے ہوئے کہا شیعہ کا عقیدہ ہے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے جو حکم الٰہی کے مطابق مقرر کیا جاتا ہے۔ ‘‘ نیز اس نے بیان کیا کہ اوصیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔[عقائد الصدوق: ۱۰۶] رافضیت کے پہلے استاد ابن سباء یہودی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن موجودہ رافضی علماء کے موافق عصمت ائمہ کا عقیدہ اس سے منقول نہیں ہے۔ پھر ہشام بن حکم نے عصمت ائمہ کے عقیدے کو ترقی دی اور کہا کہ بے شک امام سے گناہ سرزد نہیں ہوتا۔‘‘ دیکھئے: بحار الأنوار: ۲۵؍۱۹۲، ۱۹۳۔ ج:۱ (باب عصمتہم و لزوم عصمۃ الامام علیہم السلام) جبکہ شیعہ کے علامہ آل کاشف الغطاء نے امام میں یہ شرط لگائی ہے کہ وہ نبی کی طرح خطا اور غلطی سے معصوم ہو۔ أصل الشیعۃ : ۲۱۲۔]

پس اس سے ثابت ہوا کہ امامیہ شیعہ حقیقت میں مرتدین کے پیروکاراور ملحدین کے غلام اور منافقین کے وارث ہیں ۔ اگرچہ یہ خود بڑے ملحد[ و منافق] اور مرتد نہ بھی ہوں ۔

٭ پانچویں بات : ان سے کہا جائے گا: تصور کیجیے یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے؛ تو پھر بھی کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیسے خاص ہے؟ ؛ جب کہ اس کے الفاظ میں تصریح موجود ہے کہ وہ لوگ جماعت ہیں ؛ [کوئی فرد واحد نہیں ] جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ ....إلی قولہ تعالیٰ....: وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے(تو پھر جائے)اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا،....اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔‘‘

’’کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے‘‘ کے الفاظ تک صاف صراحت موجود ہے کہ یہ حضرات کوئی ایک آدمی نہیں ؛ اس لیے کہ عرب لغت میں ایک آدمی کوکسی بھی صورت میں حقیقتاً یا مجازاً قوم نہیں کہا جاتا ۔

اگر کوئی یہ کہے کہ : اس سے مراد آپ کے شیعہ ہیں ۔

تواس کا جواب یہ ہے کہ: جب آیت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شامل ہیں ؛ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ جن لوگوں نے کفار و مرتدین کے ساتھ جنگیں لڑیں وہ اس آیت کی تفسیر میں داخل ہونے کے اس انسان کی نسبت بڑے حق دار ہیں جس نے اہل قبلہ کے علاوہ کسی سے بھی قتال نہ کیا ہو۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اہل یمن جنہوں نے حضرت ابوبکرو عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ مل کر جہاد کیا؛ وہ ان رافضیوں کی نسبت اس آیت میں داخل ہونے کے زیادہ حق دار ہیں ؛ جو[رافضی] یہودو نصاری اور مشرکین سے دوستی رکھتے ہیں ؛ اور سابقین اولین اہل اسلام سے دشمنی کرتے ہیں ۔

اگریہ کہا جائے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑنے والوں میں بہت سارے لوگ اہل یمن تھے۔

تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ : جن لوگوں نے آپ سے جنگ کی ؛ ان میں بھی بہت سارے لوگ اہل یمن تھے۔ دونوں لشکر میں اہل یمن اور قبیلہء قیس کے بہت زیادہ لوگ موجود تھے۔یمن کے اکثر لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ جیسے ذی الکلاع کے لوگ ؛ ذی عمرو ؛ ذی رعین ؛ اور دوسرے لوگ جنہیں ’’الذوین ‘‘ کہا جاتا ہے۔

چھٹی بات:....اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا‘‘یہ لفظ مطلق ہے؛ اس میں کسی کو بھی متعین نہیں کیا گیا۔ یہ لفظ ان تمام لوگوں کو شامل ہوگا جو ان صفات سے بہرہ ور ہونگے ؛ بھلے وہ کوئی بھی ہوں ۔یہ الفاظ نہ ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہیں اور نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ۔جب کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں تو ان کاشمار کسی کے خصائص میں سے نہیں ہوگا۔ تو اس سے یہ نظریہ باطل ہوگیا کہ جو لوگ آپ کے ساتھ ان اوصاف میں شریک ہیں آپ ان سے افضل ہوئے ؛ کجا کہ اس سے امامت کو واجب سمجھا جائے ۔ 

بلکہ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ قیامت تک کوئی بھی انسان اس دین سے مرتد نہیں ہوگا؛ مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ایسی قوم کو لے آئیں گے جو اس سے محبت کرتی ہوگی؛ اوروہ ان سے محبت کرتا ہوگا؛ اس قوم کے لوگ اہل ایمان پر بڑے نرم اور کفار پربڑے سخت ہوں گے۔ وہ اللہ کی راہ میں مرتدین سے جہاد کریں گے۔

ارتداد کبھی اصلِ اسلام سے ہوتا ہے ؛ جیسے غالیہ نصیریہ اور اسماعیلیہ کی حالت ہے ؛ اہل سنت اور شیعہ اورعباسیہ کا ان کے مرتد[ او ر کافر ]ہونے پر اتفاق ہے ۔

کبھی ارتداد دین کے بعض امور سے ہوتا ہے ؛ جیسا کہ اہل بدعت رافضہ اور دوسرے لوگوں کا حال ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو کھڑا کردے گاجن سے وہ محبت کرتا ہوگا؛ او روہ اس سے محبت کریں گے۔ وہ لوگ دین سے پھر جانے والوں ؛ یادین کے کچھ حصے کو ترک کردینے والوں سے جہاد کریں گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو کھڑا کیا ہے جو ہر زمانے میں مرتد رافضیوں کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں ۔اور انہیں کسی کا کوئی بھی خوف نہیں ہوگا۔

صفحہ 4 از 5