Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

طلحہ اسدی کی شکست کے اسباب

  علی محمد الصلابی

طلیحہ اسدی کی شکست کے مختلف اسباب تھے

1: مسلمان راسخ عقیدہ، نصرت الہٰی کے یقین اور شہادت کی محبت و شوق میں قتال کر رہے تھے۔ اللہ کی راہ میں موت کی محبت انتہائی تیز معنوی اسلحہ ہے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ دشمن کو یہ مختصر کلمات بھیجتے رہتے کہ میں ایسے لوگوں کو تمہارے مقابلہ میں لے کر آیا ہوں جنہیں موت اتنی ہی محبوب ہے جتنی تمہیں زندگی محبوب ہے۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ 289)

دشمن کو بھی مسلمانوں کے ساتھ دیگر لڑائیوں میں اس کا اندازہ ہو چکا تھا چنانچہ طلیحہ اسدی نے معرکہ بزاخہ میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد اپنی قوم سے بڑے تعجب سے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا کیوں شکست کھا گئے؟ ان میں سے ایک شخص نے جواب دیا: اس کی وجہ میں بتاتا ہوں، ہم میں سے ہر فرد یہ چاہتا ہے کہ اس کا ساتھی اس سے پہلے مرے اور ہمارا مقابلہ جن لوگوں سے ہے ان کا ہر فرد یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی موت اس کے ساتھی سے پہلے آئے۔

(تاریخ الخمیسن للدیار بِکری: جلد 2 صفحہ 207 بحوالہ حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 289)

2: بنو طے کا اسلامی فوج میں شمولیت اختیار کرنا مسلمانوں کی تقویت اور دشمن کے ضعف کا بنیادی سبب بنا، اسی طرح عکاشہ میں سیدنا محصن اور سیدنا ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہما کی شہادت سے مسلمانوں کا غصہ بھڑک اٹھا اور انہیں دشمن سے قتال پر تیار کر دیا اور اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے توریہ کا بھی طے پر اثر ہوا اور وہ اپنے حلیفوں کی مدد نہ کرنے اور اپنے مقامات پر باقی رہنے کے لیے تیار ہو گئے چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس چکر میں رکھا کہ وہ فوج کے اصل محاذ سے ہٹ کر خیبر کی طرف جا رہے ہیں۔

اسی طرح قبیلہ طے کو ان کی مرضی کے مطابق بنو قیس سے قتال کی اجازت دینے کا بھی گہرا اثر ہوا کیونکہ اگر حضرت خالدؓ انہیں بنو اسد سے قتال پر مجبور کرتے جیسا کہ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کا خیال تھا تو بنو طے جنگ میں بڑی کوتاہی اور تقصیر کا شکار ہو جاتے۔

(خالد بن ولیدؓ: شیت خطاب صفحہ 96، 97 بحوالہ حروب الردۃ، احمد سعید صفحہ 124)

 اس کے علاؤہ دیگر اسباب بھی تھے۔