حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فرمان - فتاویٰ…

حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فرمان


صفحہ 1 از 4

عمال في شرح العقائد والجمع بين قولهم لا يكفر احد من اهل القبلة وقولهم من قال بخلق القرآن أو استحالة الرؤية أو سبّ الشيخينؓ أو لعنهما او امثال ذلک مشکل انتهى۔

ترجمہ: یعنیٰ شرح عقائد میں لکھا ہے کہ علماء کے ان دونوں قول میں مطابقت مشکل ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ایسے کسی شخص کو کافر نہ کہنا چاہئے کہ جو اہلِ قبلہ سے ہو۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اُس شخص کو کافر کہنا چاہئے جس نے یہ کہا کہ قرآن شریف مخلوق ہے یا یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت محال ہے یا اس نے شیخینؓ کو برا کہا یا شیخینؓ پر لعنت کی نعوذ بالله من ذلک اور ایسا ہی جو لوگ اس کے مانند ہوں ان کو بھی کافر کہنا چاہئے ۔ مضمون شرح عقائد کی عبارت مذکور ہے۔

وقال المدوق شمس الدين الخیالي في حاشية وقوله ومن قواعد اهل السنة أن لا يكفر في المسائل الاجتهادية اذلا نزاع في تكفير من انكر ضروريات الدين ثم أن هذه القاعدة للشيخ الأشعري وبعض متابعيه واما البعض الآخر فلم يوافقوهم وهم الذين كفروا المعتزلة والشيعة في بعض المسائل فلا احتياج الى الجمع لعدم اتحاد القائل انتهى۔

ترجمہ: یعنی علامہ شمس الدین خیالی نے اس قول کے ومن قواعد اهل السنة ان لایکفر کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ معنیٰ اس قاعدہ کا یہ ہے کہ کافر نہ کہا جائے مسائل اجتہادیہ میں اس واسطے کہ اس امر میں نزاع نہیں کی اس شخص کو کافر کہنا چاہیئے جس شخص نے انکار کیا ضروریاتِ دین سے، اور اس مقام میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ قائدہ شیخ اشعریؒ اور ان کے بعض تابعین کے نزدیک ہے لیکن دوسرے بعض علماء کرام کے نزدیک یہ قاعدہ ثابت نہیں، اور وہ علم وہ وہیں کہ جن کا قول یہ ہے کہ معتزلہ اور شیعہ اپنے بعض مسائل کے سبب سے کافر ہیں۔ اس لئے اب ان دونوں اقوال میں مسابقت کرنے کی ضرورت نہیں، اس واسطے کہ یہ دونوں اقوال ایک ہی شخص کے قول نہیں ہیں۔

ولا يخفى ان الجواب الأول تخصيص وتقييد الكلام بلا دليل في الجواب الثاني مبني على اختلاف القائلين بالقولين وهو خلاف الواقع بل القائلون بتلك القاعدة هم الذين يكفرون يخلق القرآن وسبت الشيخينؓ وقدم العالم ونفى العلم بالجزئيات الى غیر ذلک۔

ترجمہ: یعنی ظاہر ہے کہ جواب اول میں تخصیص و تقیید ہے کلام کی بغیر دلیل کے اور دوسرے جواب کی بنا ۔ اس پر ہے کہ دونوں اقوال کے قائل دو شخص ہیں حالانکہ یہ بھی خلاف واقع ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ اس قاعدہ کے قائل وہی لوگ ہیں جن لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شخص کافر ہے جو یہ کہے کہ قرآن شریف مخلوق ہے یا وہ شیخینؓ کو برا کہے یا وہ شخص اس امر کا قائل ہو کہ عالم قدیم ہے یاوہ شخص علم بالجزئیات کی نفی کرے یا اس طرح کا اس کا کوئی اور عقیدہ فاسد ہو۔

قال السيد فى شرح المواقف اعلم أن عدم التكفير اهل القبلة موافق الكلام الشيخ الاشعرى والفقها، كما مر لكنا اذا فتشنا عقاٸدفرق الاسلاميين وجدنا منها ما يوجب الكفر قطعا كالعقائد المراجعة الى وجود الله غير الله سبحانه اوالى حلوله في بعض اشخاص الناس اوالی انکار نبوة محمدﷺ او الى ذمه او استخفافه اوالى استباحة المحرمات واسقاط الواجبات الشرعية انتهى۔

ترجمہ: یعنٰی کہا سید نے شرح مواقف میں کہ جاننا چاہئے کہ عدم تکفیر اہلِ قبلہ کی اس قول کے موافق ہے جو شیخ اشعریؒ اور فقہاء کا ہے، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا لیکن ہم نے جب تفشیش کی کہ اہلِ اسلام کے فرقوں کے عقائد کس کس طرح کے ہیں تو ہم نے ایسا پایا کہ من جملہ ان عقائد کے بعض عقائد سے قطعاً کفر لازم آتا ہے، مثلاً: یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا خدا بھی ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں میں حلول کیا ہے یا حضور اکرمﷺ کی نبوت کا انکار یا ایسا عقیدہ کہ جس سے حضور اکرمﷺ کی مذمت یا توہین ہوتی ہو یا یہ عقیدہ کہ جس سے محرمات کو مباح جانتا اور واجبات شرعیہ کو ساقط کر دینا ثابت ہوتا ہے، یعنی ان جیسے عقائد سے ضرور کفر لازم آتا ہے۔

بل التحقيق أن المراد بأهل القبلة هم الذين لا ينكرون. ضروريات الدين لا من يوجه وجهه إلى القبلة في الصلوة قال الله تعالي "ليس البران تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب ولكن البرمن أمن بالله واليوم الآخر الخ. فمن انکر ضرو ريات الدين لم يبق من أهل القبلة لأن ضروريات الدين منحصرة عندهم في ثلاثة مدلول الكتاب بشرط ان يكون نصاً صريحاً لا يكن تأويله كتحريم الخمر والميسر واثبات العلم والقدرة والإرادة والكلام له تعالى وكون السابقين الأولين من المهاجرين والانصار مرضيين عند الله تعالى وانه لا يجوز امانتهم والاستخفاف بهم مدلول السنة المتواترة لفظاً او معناً سواء كان من اعتقاديات او من العمليات وسواء كان فرضاً او نقلا کوجوب محبة أهل البيتؓ من الأزواجؓ والبناتؓ والجمعة والعيدين والمجمع عليه اجماعا قطعياً لخلافة الصديقؓ والفاروقؓ ونحو ذلك ولا شبهة أن من انكر امثال هذه الأمور لم يصح ايمانه بالكتاب والنبيين اذفى تخطيه الاجماع القطعي تضليل تجميع الأمة فيكون انكساراً بقوله تعالیٰ کنتم خير امة اخرجت للناس وقوله تعالى ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين وبقوله عليه السلام لا يجتمع امتى على الضلالة وهو متواتر معنوی فلايكون منكر هذه الأمور من اهل القبلة۔

ترجمہ: یعنی بلکہ تحقیق یہ ہے کہ مراد اہلِ قبلہ سے وہ لوگ ہیں جو ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور اہلِ قبلہ سے وہ لوگ مراد ہیں جو محض نماز میں قبلہ رو کھڑے ہوتے ہیں، چنانچہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ یہ نیکی نہیں کہ پھیرو تم اپنا منہ پورب اور پچھم کی طرف بلکہ نیکی اس شخص نے کی جو ایمان لایا اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر، الخ

صفحہ 1 از 4