Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فجاءۃ کا قصہ

  علی محمد الصلابی

اس کا نام اِیاس بن عبداللہ بن عبدیالیل بن عمیر بن خفاف تھا اور اس کا تعلق قبیلہ بنی سلیم سے تھا جیسا کہ ابنِ اسحٰق کا بیان ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کو بقیع میں نذر آتش کر دیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ یہ شخص سیدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بزعم خویش اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ اس کے ساتھ ایک لشکر تیار کر دیں تا کہ وہ مرتدین سے قتال کرے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے لشکر تیار کر دیا۔ جب لشکر لے کر روانہ ہوا تو راستے میں جو بھی ملتا خواہ مسلم ہو یا مرتد، قتل کر دیتا اور اس کا مال ہڑپ لیتا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر ملی تو اس کے پیچھے دوسرا لشکر بھیجا کہ اس کو گرفتار کر کے لاؤ۔ جب وہ گرفتار کر کے لایا گیا تو سیدنا ابوبکرؓ نے اسے بقیع میں بھیجا اور اس کے ہاتھ اور پیر باندھ کر نذر آتش کر دیا گیا۔

(ترتیب و تہذیب البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 106)

اس کو گرفتار کرنے والے طریفہ بن حاجز تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بنو سلیم کے مسلمانوں نے مفسدین اور مرتدین سے قتال میں اچھا کردار ادا کیا ہے۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 27)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو جو نذر آتش کرنے کی سزا دی وہ اس وجہ سے کہ اس نے غداری کی تھی یا اس وجہ سے کہ اس نے مسلمانوں کو نذر آتش کیا تھا۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 185)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ابو فصیل کہنے والے کے سلسلہ میں سیدنا حسانؓ کا شعر

ما البَکْرُ الا کالفصیل وقد تری

أنَّ الفَصیْل علیہ لیس بعارِ

ترجمہ: بکر اور فصیل ایک ہی چیز ہے اور ابو فصیل ہونا آپؓ کے لیے کوئی عار کی چیز نہیں ہے۔

إِنَّا وما حجَّ الحَجِیْجَ لِبَیْتِہٖ

رکبان مکَّۃ معشر الانصار

ترجمہ: میں اور جتنے لوگ خانہ کعبہ کا حج کرنے والے ہیں، مکہ کے مہاجرین اور انصار۔

نَفْری جَمَاجِمَکُم بکل مُہَنَّدٍ

ضَرْبَ القُدار مبادیٔ الأیسار

ترجمہ: تمہارے سر تلوار سے اڑا دیں گے جس طرح قصاب اونٹوں کے جوڑوں کو کاٹتا ہے۔

حتّٰی تُکَنُّوہ بفحل ہنیدۃٍ

یحمی الطَّروقۃ بازلٍ ہدَّارِ

ترجمہ: یہاں تک کہ تم ان کو سو اونٹنیوں کے سانڈ کے ساتھ کنیت دو گے جو جفتی کے قابل اونٹنیوں کی حفاظت کرتا ہے، تجربہ کار بہادر ہے۔

(دیوان الردۃ للعتوم: صفحہ 137)