امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھائیسویں دلیل: - ردِ…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھائیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھائیسویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھائیسویں دلیل امام احمد بن حنبل صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ روایت ہے جو انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی:﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ 

’’اے ایمان والو ‘‘ آیا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے رئیس و امیر ہیں ۔ اللہتعالیٰ نے قرآن کریم میں اصحاب رسول کو معتوب کیا ہے‘‘ مگر علی رضی اللہ عنہ کا ذکر ہمیشہ مدحیہ انداز میں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں ۔ لہٰذا آپ ہی امام ہوئے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]۔

[جواب]:ہم شیعہ سے زیر تبصرہ روایت کی صحت ثابت کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یہ روایت امام احمد نے نقل نہیں کی ، اور اگر بالفرض امام صاحب نے ’’الفضائل‘‘ وغیرہ میں نقل بھی کی ہو تو صرف نقل کرنے سے روایت کی صحت و صداقت ثابت نہیں ہوتی؛ توپھر کیسے کوئی بات کہہ سکتے ہیں جب کہ آپ نے یہ روایت نہ ہی مسند میں نقل کی ہے اور نہ ہی الفضائل میں ۔ بلکہ یہ روایت ’’فضائل صحابہ ‘‘ میں القطیعی کے اضافات میں سے ہے۔اس کی سند یہ ہے : 

((عن ابراہیم عن شریک الکوفی؛ حدثنا ذکریا بن یحی الکسائی حدثنا عیسی عن علی بن بذیمہ عن عکرمہ عن ابن عباس۔))

اہل علم کا اتفاق ہے کہ ایسی سند قابل حجت نہیں ہوسکتی۔[ دراصل یہ ابن عباس پر افتراء ہے]۔ اس روایت کی سند میں زکریابن یحی الکسائی نامی راوی ہے۔اس کے متعلق یحی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’انتہائی برا آدمی تھا ؛ اپنی طرف سے حدیثیں گھڑا کرتا تھا ؛ اس بات کا مستحق تھا کہ اس کے لیے کنواں کھود کر اس میں گرا دیا جائے ۔‘‘

امام دار قطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’متروک الحدیث ہے ۔ ‘‘

ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام پر طعنہ زنی کے لیے روایات گھڑا کرتا تھا۔ ‘‘

دوسری بات:....یہ بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر جھوٹ گھڑی گئی ہے ۔ بخلاف ازیں ابن عباس سے بتواتر منقول ہے کہ آپ شیخین کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل قرار دیتے تھے۔ ابن عباس نے کئی دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو معتوب کیا اور ان کی مخالفت کی۔کئی امور میں آپ پر تنقید کیا کرتے تھے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان زنادقہ کو نذر آتش کیا تھا جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رب ماننا شروع کردیا تھا؛ توحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر علی رضی اللہ عنہ کی جگہ میں ہوتا تو زنادقہ کو جلانے کی بجائے ان کو قتل کردیتا،کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:’’ کسی کو عذاب الٰہی میں مبتلا نہ کرو۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب استتابۃ المرتدین، باب حکم المرتد(حدیث:۶۹۲۲)۔]

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ’’ جوکوئی اپنے دین کو بدل ڈالے ؛ اسے قتل کردو۔‘‘ [صحیح بخاری]

جب اس بات کی خبر حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : ’’ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ماں کے لیے افسوس ہے ۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ آپ کتاب اللہ کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے ؛ جب آپ کے پاس کتاب و سنت سے دلیل موجود نہ ہوتی تو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے۔ یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی جناب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اتباع اورحضرت علی رضی اللہ عنہ سے مخالفت کی ایک مثال ہے۔

کئی ایک علماء ؛- جن میں زبیر ابن بکار رحمہ اللہ بھی شامل ہیں -نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام آپ کے جواب کا بھی ذکر کیا ہے کہ؛ جب آپ بصرہ کا مال لے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں سخت قسم کا خط لکھا۔تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جو جواب دیا ؛ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ : ’’جو کچھ میں نے کیا ہے ؛ وہ اس سے بہت کم ہے جو تم نے کیا ہے؛ تم نے اپنی امارت میں مسلمانوں کا خون ناحق بہایا ہے ۔‘‘

تیسری بات :....علاوہ ازیں صرف ﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾میں مدح کا کوئی پہلو موجود نہیں ۔کیونکہ کئی ایک مواقع پر اللہ تعالیٰ یہی الفاظ استعمال کرتے ہوئے اہل ایمان کو معتوب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَoکَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ

’’اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔‘ ‘

اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس آیت کے رئیس و امیر ہیں تو آپ اس عتاب میں بھی داخل ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے انکار و مذمت کی ہے۔[ لہٰذا اس سے تمہاری وہ روایت غلط ٹھہری کہ علی کا ذکر ہمیشہ مدحیہ انداز میں کیا ہے]۔

نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿ ٰٓیاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃ

(الممتحنۃ:۱)

’’اے مؤمنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ؛ تم دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو۔‘‘

یہ صحاح ستہ میں ثابت شدہ بات ہے کہ یہ آیت حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی۔جب آپ نے مشرکین مکہ کو خط لکھا۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح(حدیث:۴۲۷۴)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل حاطب بن ابی بلتعۃ رضی اللّٰہ عنہ (حدیث: ۲۴۹۴)۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو بھیجا کہ اس عورت کو پکڑ لائیں جس کے پاس یہ خط موجود ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کی غلطی سے بری ہیں ۔توپھر آپ اس میں مخاطب ان لوگوں کا سردار کیسے کہا جاسکتا ہے جن کی غلطی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ملامت کی تھی۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا

صفحہ 1 از 3