امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھائیسویں دلیل: - ردِ…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھائیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

’’اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں ؛تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو....‘‘

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مال غنیمت کے ساتھ ایک آدمی کوپایا؛ اس نے کہا : میں مسلمان ہوں ؛ ان لوگوں نے اس کی بات کو سچا نہ مانا؛ اور اس سے مال غنیمت چھین لیا۔تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ بات کو واضح اور ثابت ہوجانے دیا کریں ۔اور انہیں دنیاوی مال کی وجہ سے کسی بھی اسلام کے مدعی کی تکذیب کرنے سے منع کیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں کی غلطی سے بری ہیں ۔تو پھر کیسے کہاجاسکتا ہے کہ آپ ان کے سردار ہیں ۔ اس کے امثال و نظائر بہت ہیں ۔

چوتھی بات:....اس قسم کے الفاظ میں سب اہل ایمان شامل ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی اس خطاب کا سبب ہوسکتا ہے۔ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ لفظ اسکو بھی ایسے ہی شامل ہوتا ہے جیسے اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کوشامل ہوتا ہے۔اس آیت کے الفاظ میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر اہل ایمان کے مابین فرق کیا جاسکے۔

پانچویں بات :....بعض لوگوں کا بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں یہ کہنا کہ : آپ اس آیت کے سردار ہے ؛ یا اس آیت کے امیر ہیں یا اس طرح کے دیگر کلمات کہنا؛ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ وہ صحابی اس آیت کا پہلا مخاطب ہے تو پھر یہ ایک دوسری بات ہے۔اس لیے کہ آیت میں خطاب تمام مخاطبین کو یکساں طور پر شامل ہوتا ہے۔ان میں سے بعض کو بعض پر شمول خطاب کی وجہ سے ترجیح نہیں دی جاسکتی۔

اگر یہ کہا جائے کہ : آپ [یعنی حضرت علی] نے سب سے پہلے اس آیت پر عمل کیا ہے ۔ تو پھر بھی معاملہ ایسے نہیں ہے۔ بعض آیات ایسی ہیں جن پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پہلے دوسرے لوگوں نے عمل کیا اور بعض ایسی بھی ہیں جن پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عمل کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔

اگر یہ کہا جائے کہ اس آیت کا دوسرے لوگوں کو شامل ہونا ؛ یا کسی دوسرے کا اس پر عمل کرنا آپ کے ساتھ مشروط ہے ۔جیسا کہ جمعہ میں امام ہوتا ہے ۔ تو پھر بھی بات ایسے نہیں ہے۔اس لیے کہ خطاب کے بعض افراد کو شامل ہونے میں دوسرے لوگوں کو شامل ہونے کی شرط نہیں ہوتی ۔اور نہ ہی لوگوں پر آیت کے مطابق عمل کرنا کا وجوب دوسرے لوگوں پر واجب ہونے کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ آپ ان لوگوں میں سب سے افضل ہیں جو آیت سے مراد ہیں ۔اگر آپ کا افضل ہونا ثابت ہوجائے تو پھر اس آیت سے استدلال کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اور اگر ایسا کچھ ثابت نہ ہو ؛ تو پھر اس آیت سے استدلال کرنا جائز نہیں رہتا۔ پس دونوں لحاظ سے اس آیت سے استدلال کرنا باطل ٹھہرا۔

آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل سمجھتے تھے ؛ حالانکہ یہ بات بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پر جھوٹ ہے ؛ اور آپ سے معلوم شدہ باتوں کے خلاف ہے۔ پھر اگر مان لیا جائے کہ آپ نے ایسا کچھ کہا تھا تو پھر بھی جب جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی مخالفت کررہے ہیں تو پھر کسی ایک صحابی کاقول حجت نہیں ہوسکتا ۔

چھٹی بات :....شیعہ کا یہ قول کہ: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صحابہ کو معتوب کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہمیشہ مدح فرمائی‘‘ صریح کذب ہے۔اس لیے کہ قرآن کریم میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہیں بھی معتوب نہیں کیا گیا؛ اور نہ ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکبھی کوئی تکلیف پہنچی۔بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا تھا: ارے لوگو! ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حق پہچانو، اس نے مجھے کبھی تکلیف نہیں پہنچائی۔‘‘ [مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر(۶؍۱۲۹)۔ ]

احادیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نصرت فرمایا کرتے تھے۔ اور لوگوں کے آپ کے ساتھ تعارض اوراختلاف کرنے سے باز رکھا کرتے تھے۔او ریہ بات کسی نے بھی نقل نہیں کی کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کوئی تکلیف پہنچائی ہو۔جیسا کہ بعض دوسرے لوگوں کے بارے میں نقل کیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطبہ آپ کے اس خطبہ کے بالکل برعکس ہے جو آپ نے اس وقت دیا جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔[صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ۔ باب ذکر اصہار النبی رضی اللّٰہ عنہم (ح:۳۷۲۹،۵۲۳۰)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل فاطمۃ رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۲۴۴۹)۔] ایساخطبہ آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کبھی نہیں دیا تھا۔

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جس طرح حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بڑے بڑے عام کاموں میں حصہ لیا کرتے تھے،جیسے ولایت ؛ جنگ اوربخشیش کے سلسلہ میں مشاورت وغیرہ اور دیگر امور۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایسے کاموں میں مداخلت نہیں کیا کرتے تھے۔ یہ دونوں بزرگ آپ کے وزیر کی حیثیت رکھتے تھے[ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے بچوں کی طرح صغیر السن تھے]۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا ؛ بنی تمیم کے بارے میں مشورہ کیا کہ ان پر کس کو متولی بنایا جائے؟اور ان کے علاوہ دیگر امور جن میں مشاورت کی ضر ورت ہوتی تھی ؛ آپ ان سے بطور خاص مشورہ کیا کرتے تھے۔

صحیحین میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شہادت پائی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور فرمایا:’’مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کیساتھ اٹھائیں گے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر سنا کرتا تھاکہ: میں اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما داخل ہوئے۔میں اور ابوبکر و عمرنکلے، میں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما گئے ۔‘ ‘[سبق تخریجہ] 

صفحہ 2 از 3