Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا مسلمان بنیاد پرست اور دہشت گرد ہیں؟

  شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی

کیا مسلمان بنیاد پرست اور دہشت گرد ہیں؟

’’مسلمانوں کی اکثریت بنیاد پرست اور دہشت گرد کیوں ہے؟‘‘

یہ سوال مذاہب یا عالمی امور کے متعلق کسی بحث میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلمانوں کے بارے میں کیا جاتا ہے۔ راسخ العقیدہ اور’’بنیاد پرست‘‘ مسلمانوں کا ذکر تمام ذرائع ابلاغ میں بار بار کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق افترا پردازی کی انتہا کر دی جاتی ہے۔ دراصل یہ بے بنیاد پروپیگنڈہ مسلمانوں کے خلاف امتیاز اور تشدد کا باعث بنتا ہے۔ اس کی ایک مثال اوکلا ہوما میں ہونے والے بم دھماکے کی ہے جس کے بعد امریکی میڈیا نے مسلم دشمنی کی مہم چلائی۔ اسے مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کی سازش قرار دیا گیا جبکہ مجرم امریکی فوج کا ایک سپاہی تھا۔

آئیے! ہم ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’بنیاد پرستی‘‘ کے الزامات کا تجزیہ کریں:

بنیاد پرست کی تعریف

بنیاد پرست ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اپنے عقیدے یا نظریے کی مبادیات ،یعنی بنیادی باتوں سے پوری طرح وابستہ ہو اور ان پر پوری طرح کاربند ہو۔ اگر ایک شخص اچھا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو اسے طب کی مبادیات کا علم ہونا اور اُن پراس کا عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ اور ایک اچھے ریاضی دان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاضی کی مبادیات سے اچھی طرح واقف ہو۔ گویا ایک ڈاکٹر کو طب میں اور ایک ریاضی دان کو ریاضی کے شعبے میں فنڈامنٹلسٹ (Fundamentalist) یابنیاد پرست ہونا چاہیے، اسی طرح ایک سائنسدان کو سائنس کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔ دوسرے الفاظ میں اُسے سائنس کے میدان میں بنیاد پرست ہونا چاہیے، اِسی طرح دین کے معاملے میں بھی ایک شخص کا بنیاد پرست ہونا ضروری ہے۔

تمام بنیاد پرست ایک جیسے نہیں

حقیقت یہ ہے کہ تمام بنیاد پرست ایک جیسے نہیں اور نہ ان کو ایک جیسا کہا جا سکتا ہے۔ تمام بنیاد پرستوں کو اچھے یا بُرے گروہوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بنیاد پرست کی کسی گروہ سے وابستگی کا انحصار اُس کے متعلقہ شعبے اور سرگرمی پر ہے جس میں وہ بنیاد پرستی کا مظاہرہ کرے۔ ایک بنیاد پرست ڈاکو یا چور اپنے پیشے میں بنیاد پرست ہوتا ہے جو معاشرے کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے اور اس لیے نا پسندیدہ ٹھہرتا ہے جبکہ اس کے برعکس ایک بنیاد پرست ڈاکٹر معاشرے کے لیے بہت مفید ہوتا ہے اور بہت معزز بھی۔

مجھے بنیاد پرست ہونے پر فخر ہے

میں ایک بنیاد پرست مسلمان ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کے بنیادی اصولوں کو جانتا اور اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک صحیح مسلمان کو بنیاد پرست ہونے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں اپنے بنیاد پرست مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اسلام کے بنیادی اصول نہ صرف انسانیت بلکہ تمام دُنیا کے لیے مفید ہیں۔ اسلام کا ایک بھی بنیادی اصول ایسا نہیں جو تمام بنی نوع انسان کے مفاد میں نہ ہو یا اُن کے لیے نقصان دہ ہو۔ بہت سے لوگ اسلام کے بارے میں غلط تصورات رکھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اسلام کی بہت سی تعلیمات ٹھیک نہیں اور نا انصافی پر مبنی ہیں۔ یہ اندازِ فکر اسلام کے بارے میں غلط اور ناکافی معلومات کی و جہ سے ہے۔ اگر کوئی کھلے دِل و دماغ سے اسلام کی تعلیمات کا جائزہ لے تو وہ اس حقیقت تک پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلام انفرادی اور اجتماعی دائروں میں یکساں طور پر فائدہ مند ہے۔

بنیاد پرست کا لغوی مطلب

ویبسٹرز (Websters) کی انگریزی ڈکشنری کے مطابق Fundamentalism یا بنیاد پرستی ایک تحریک تھی جو بیسویں صدی کے شروع میں امریکی پروٹسٹنٹوں کے اندر اُٹھی۔ یہ تحریک جدیدیت کے خلاف رد عمل تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ صرف عقائد اور اخلاق بلکہ تاریخی ریکارڈ کے حوالے سے بھی بائبل کے غلطیوں سے پاک ہونے پر زور دیتے تھے۔ وہ اس پر بھی زور دیتے تھے کہ بائبل کا متن ہو بہو خدا کے الفاظ ہیں۔ اس طرح بنیاد پرستی ایک ایسی اصطلاح ہے جو سب سے پہلے عیسائیوں کے ایک گروہ کے لیے استعمال کی گئی جو یقین رکھتے تھے کہ بائبل لفظ بہ لفظ خدا کا کلام ہے اور اس میں کوئی غلطی یا تحریف نہیں۔

لیکن اب آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق ’’بنیاد پرستی‘‘ کا مطلب ہے:

’’ کسی مذہب، خاص طور پر اسلام، کے قدیم یا بنیادی نظریات پر سختی سے کاربند ہونا۔‘‘

یوں مغربی دانشوروں اور میڈیا نے ’’بنیاد پرستی‘‘ کی اصطلاح کو عیسائیت سے الگ کرکے خاص طور پر اسلام سے وابستہ کردیا ہے۔

آج جب کوئی بنیاد پرست کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو فوراً اس کے ذہن میں ایک مسلمان کا تصور آتا ہے جو اس کے خیال میں دہشت گرد ہے۔

ہر مسلمان کو ’’دہشت گرد‘‘ ہونا چاہیے

ہر مسلمان کو’’دہشت گرد‘‘ ہونا چاہیے۔ دہشت گرد ایسے شخص کو کہتے ہیں جو دہشت پھیلانے کا باعث ہو۔ جب کوئی ڈاکو کسی پولیس والے کو دیکھتا ہے تو وہ دہشت زدہ ہو جاتا ہے۔ گویا ڈاکو کے لیے پولیس والا دہشت گرد ہے، اسی طرح ہر مسلمان کو چور، ڈاکو اور زانی جیسے سماج دشمن عناصر کے لیے دہشت گرد ہونا چاہیے۔ جب ایسا سماج دشمن شخص کسی مسلمان کو دیکھے تو اُسے دہشت زدہ ہو جانا چاہیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ لفظ ’’دہشت گرد‘‘ عام طور پر ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو عام لوگوں کے لیے خوف اور دہشت کا باعث ہو لیکن سچے اور صحیح مسلمان کو صرف مخصوص لوگوں کے لیے دہشت گرد ہونا چاہیے، یعنی سماج دشمن عناصر کے لیے نہ کہ عام بے گناہ لوگوں کے لیے۔ درحقیقت ایک مسلمان بے گناہ لوگوں کے لیے امن اور سلامتی کا باعث ہوتا ہے۔

دہشت گرد یا محبِ وطن کون؟

آزادیٔ ہند سے پہلے انگریزوں کی حکمرانی کے زمانے میں بعض مجاہدینِ آزادی جو عدم تشدد کے حامی نہیں تھے، انھیں انگریزوں کی حکومت ’’دہشت گرد‘‘ کے نام سے موسوم کرتی تھی لیکن عام ہندوستانیوں کے نزدیک تشدد پر مبنی سرگرمیوں میں مصروف یہ افراد محبِّ وطن تھے۔ یوں ان لوگوں کی سرگرمیوں کو فریقین کی طرف سے مختلف نام دیے گئے۔ وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان پر حکومت کرنا انگریزوں کا حق ہے، وہ ان لوگوں کو دہشت گرد کہتے تھے جبکہ دوسرے لوگ جن کا خیال تھا کہ انگریزوں کو ہندوستان پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ، انھوں نے ان لوگوں کو محبِ وطن اور مجاہدِ آزادی قرار دیا۔

پس یہ نہایت ضروری ہے کہ کسی شخص کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے سے پہلے اُس کی بات سُنی جائے۔ دونوں طرف کے دلائل سُنے جائیں، صورتِ حال کا تجزیہ کیا جائے، پھر اُس شخص کی دلیل اور مقصد کو پیش نظر رکھ کر اس کے مطابق اُس کے بارے میں رائے قائم کی جائے۔

اسلام کا مطلب سلامتی ہے

لفظ اسلام ’’سلام‘‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے سلامتی۔ یہ امن کا مذہب ہے جس کے بنیادی اصول اس کے پیروکاروں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ دُنیا میں امن قائم کریں اور اسے فروغ دیں۔

چنانچہ ہر مسلمان کو بنیاد پرست ہونا چاہیے۔ اس کو امن کے دین اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے اور اسے صرف سماج دشمن عناصر کے لیے دہشت گرد ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں امن اور عدل و انصاف کو فروغ ملے۔