Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سجاح بنو تمیم اور مالک بن نویرہ الیربوعی کا قتل

  علی محمد الصلابی

ارتداد کے دور میں بنو تمیم مختلف الرائے تھے۔ ان میں کچھ ارتداد کا شکار ہوئے اور اپنی زکوٰۃ روک لی اور کچھ نے اپنی زکوٰۃ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو روانہ کی، اور کچھ نے توقف کیا تاکہ اس سلسلہ میں غور و فکر کریں۔ اسی دوران میں ان کے یہاں سجاح بنت حارث بن سوید بن عقفان پہنچی، اس کا تعلق بنو تغلب سے تھا اور یہ نصرانی تھی۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا تھا، اس کے ساتھ اس کی قوم اور معاونین کا لشکر تھا۔ انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ سے لڑنے کا عزم کر رکھا تھا۔ جب وہ بنو تمیم کے علاقہ سے گزری اور ان کو اپنی طرف دعوت دی، تو بنو تمیم کے اکثر لوگوں نے اس کی بات مان لی، اس کی دعوت قبول کرنے والوں میں مالک بن نویرہ تمیمی، عطارد بن حاجب اور بنو تمیم کے امراء کی ایک جماعت تھی اور ان میں سے دوسرے لوگ اس سے دور رہے۔ پھر انہوں نے اتفاق کر لیا کہ آپس میں جنگ نہیں کریں گے لیکن مالک بن نویرہ نے جب اس (سجاح) سے مصالحت کی تو اس کو اس کے عزم سے پھیر دیا اور اسے بنو یربوع کے خلاف بھڑکایا پھر لوگوں سے قتال پر وہ سب متفق ہو گئے۔ سوال پیدا ہوا کہ ہم قتال کس سے شروع کریں؟ سجاح نے مسجع عبارت میں کہا:

اعدوا الرِّکاب، واستعدوا للنِّہاب، ثم أغیروا علی الرَّباب، فلیس دونہا حجاب

ترجمہ: سواریاں تیار کرو، قتال کے لیے تیار ہو جاؤ، پھر رباب پر حملہ آور ہو جاؤ، ان کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

(رباب بنو تمیم کی ایک شاخ ہے)

پھر بنو تمیم اس کا یمامہ کی طرف رخ کرنے پر مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے تا کہ یمامہ کو مسیلمہ کذاب سے چھین لے۔ سجاح تیار ہو گئی لیکن اس کی قوم مسیلمہ سے ڈر گئی اور کہا: اس کا معاملہ بڑھ چکا ہے، اس کو قوت حاصل ہے۔ سجاح نے کہا:

علیکم بالیمامۃ، دفُّوا دفیف الحمامۃ، فانہا غزوۃ صرَّامۃ، لا تلحقکم بعدہا ملامۃ۔

ترجمہ: یمامہ پر ٹوٹ پڑو، کبوتر کی طرح کوچ کرو، یہ دشمن کو کاٹ کر رکھ دینے والی جنگ ہے، اس کے بعد تمہیں کوئی ملامت نہیں لاحق ہو گی۔

یہ سن کر لوگ مسیلمہ سے جنگ پر تیار ہو گئے۔ جب مسیلمہ کو اس کی خبر ملی تو وہ خوف زدہ ہو گیا کیونکہ وہ اس وقت حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ سے جنگ میں مشغول تھا اور سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ حضرت ثمامہؓ کی مدد کے لیے اسلامی لشکر کے ساتھ پہنچ چکے تھے اور وہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے انتظار میں تھے۔ مسیلمہ نے سجاح کے پاس اپنا ایلچی بھیجا اور اس سے امن کا مطالبہ کیا اور اس کو اس بات کی ضمانت دی کہ اگر وہ اپنے ارادے سے باز آ جائے تو وہ اس کو آدھی زمین جو قریش کی تھی دے دے گا، اور اس کو خط لکھا کہ وہ اس سے اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ ملنا چاہتا ہے، اور پھر چالیس افراد کو لے کر اس کی طرف روانہ ہو گیا اور دونوں ایک خیمے میں اکٹھے ہوئے اور جب اس کے ساتھ خلوت میں ہوا تو اس کو آدھی زمین دینے کی پیش کش کی اس نے قبول کر لیا۔

مسیلمہ نے کہا: اللہ نے سننے والے کی بات سن لی اور جب اس نے لالچ کیا تو بھلائی کا لالچ دیا اور جو کچھ ہے ابھی معاملہ ٹھیک ہی ہے۔

پھر سجاح سے کہا: کیا تم یہ پسند کرو گی کہ میں تم سے شادی کر لوں پھر اپنی اور تمہاری قوم کو لے کر عرب کو کھا جاؤں؟

اس نے کہا: ہاں۔

پھر سجاح اس کے ساتھ تین دن تک رہی پھر اپنے لوگوں کے پاس لوٹ گئی۔

لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ کیا مسیلمہ نے تم کو مہر دیا ہے؟

اس نے کہا: اس نے تو مجھے مہر میں کچھ نہیں دیا ہے۔

لوگوں نے کہا: تم جیسی عورت سے اس نے بغیر مہر کے شادی کرںلی؟

سجاح نے مہر طلب کرنے کے لیے اس کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: تم اپنے مؤذن کو میرے پاس بھیجو۔

اس نے شبث بن ربعی الریاحی کو اس کے پاس بھیجا۔

مسیلمہ نے اس سے کہا: جاؤ اپنی قوم میں یہ اعلان کر دو کہ مسیلمہ رسول اللہ نے تم سے دو وقت کی نمازیں یعنی فجر و عشاء جو محمدﷺ لائے تھے معاف کر دی ہیں۔ یہ سجاح کا مہر قرار پائی ہیں۔

اور جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے یمامہ پہنچنے کا وقت قریب ہوا تو وہاں سے مسیلمہ سے زمین کا آدھا خراج لے کر اپنے علاقہ میں بھاگ آئی اور بنو تغلب میں اقامت پذیر ہو گئی۔ پھر جب عام الجماعۃ میں حضرت معاویہؓ خلیفہ مقرر ہوئے تو بنو تغلب کو وہاں سے جلا وطن کر دیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 326)

سجاح جب جزیرہ سے وہاں پہنچی تو مالک بن نویرہ نے اس کا ساتھ دیا لیکن وہ جب مسیلمہ سے مل کر واپس چلی گئی تو مالک اپنے کیے پر نادم ہوا پھر اپنے سلسلہ میں تاخیر کی اور بطاح میں مقیم رہا۔

(یہ سر زمین نجد میں بنو اسد کے علاقہ میں ایک چشمہ کا نام ہے)

حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کو لے کر وہاں کا رخ کیا، انصار پیچھے رہ گئے اور کہا: سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ہمیں جس کا حکم دیا تھا وہ ہم نے کر لیا۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا کرنا بھی ضروری ہے اور یہ بہترین موقع ہے، اس کو غنیمت سمجھنا ضروری ہے اگرچہ اس سلسلہ میں خلیفہ رسول کا کوئی خط نہیں آیا ہے میں امیر ہوں اور خبریں مجھے پہنچتی رہتی ہیں۔ میں تمہیں چلنے پر مجبور نہیں کرتا تاہم میں بطاح جارہا ہوں۔ جب آپؓ کو نکلے ہوئے دو دن ہو گئے تو انصار کی طرف سے ایک شخص جا کر آپؓ سے ملا جس نے آپؓ سے انتظار کرنے کا مطالبہ کیا اور پھر انصار بھی آپؓ سے جا ملے اور جب اسلامی لشکر بطاح پہنچا تو وہاں مالک بن نویرہ اپنے لوگوں کے ساتھ تھا۔ سيدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بطاح میں دستوں کو پھیلا دیا جو لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے، بنو تمیم کے امراء نے ان کی دعوت قبول کی اور سمع و اطاعت کا اعلان کیا اور زکوٰۃ ادا کر دی لیکن مالک بن نویرہ اپنے سلسلہ میں متردد رہا اور لوگوں سے الگ ہو گیا۔ اس کے پاس فوجی دستے پہنچے اور اس کو اس کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا۔ حضرت ابو قتادہؓ نے یہ خبر دی کہ انہوں نے نماز قائم کی ہے لیکن لشکر کے دیگر افراد نے کہا کہ نہ انہوں نے اذان دی ہے اور نہ ہی نماز قائم کی ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ قیدیوں نے اپنی بیڑیوں میں رات گزاری، سخت سردی تھی، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اعلان کرایا کہ انہیں گرمی پہنچاؤ، لوگوں کو غلط فہمی ہوئی وہ یہ سمجھے کہ انہیں قتل کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان سب قیدیوں کو قتل کر دیا اور حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو قتل کر دیا۔ سیدنا خالد بن ولیدؓ نے جب چیخ پکار سنی تو باہر نکلے لیکن اس وقت تک سب کو قتل کیا جا چکا تھا۔ فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو وہ ہو کے رہتا ہے۔

اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو اپنے پاس بلایا، سجاح کا ساتھ دینے اور زکوٰۃ روکنے کے سلسلہ میں اس کو تنبیہ فرمائی اور اس سے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ نماز اور زکوٰۃ ایک جیسی ہیں۔ مالک نے کہا: تمہارے صاحب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کا یہی زعم تھا۔ حضرت خالدؓ نے فرمایا: کیا وہ ہمارے صاحب ہیں، تمہارے صاحب نہیں؟ پھر حکم دیا اے ضرار اس کی گردن اڑا دو۔ پھر اس کی گردن اڑا دی گئی۔ اس سلسلہ میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالدؓ سے گفتگو کی اور دونوں کے درمیان بحث ہو گئی۔ حضرت ابو قتادہؓ نے ان کی شکایت سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کی اور حضرت عمرؓ نے بھی سيدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے گفتگو کی اور کہا: آپؓ حضرت خالدؓ کو معزول کر دیں، ان کی تلوار سے ناحق خون بہ رہا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا: جو تلوار اللہ تعالیٰ نے کفار کے خلاف کھینچی ہے میں اسے میان میں بند نہیں کر سکتا۔ متممّ بن نویرہ بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سيدنا خالدؓ کی شکایت لے کر پہنچے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے مساعد رہے اور متمم نے اپنے بھائی کے سلسلہ میں جو اشعار کہے تھے سينا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سنائے حضرت ابوبکر صديقؓ نے اپنے پاس سے ان کو دیت ادا کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 6 صفحہ، 327)