امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انتیسویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:

’’ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انتیسویں دلیل یہ آیت ہے:

﴿اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْاعَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

[الأحزاب۵۶]

’’بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!تم ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی)بھیجتے رہا کرو ۔‘‘

صحیح بخاری میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! ہم اہل بیت پر صلوٰۃ کیسے بھیجیں ؟بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ ہم سلام کیسے بھیجیں ؟ فرمایا ،یوں کہو:’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ‘‘[صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء؛ (ح:۳۳۷۰)،مسلم ۔ کتاب الصلاۃ، (ح:۴۰۶)۔] ’’ اے اللہ درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد کی آل پر ۔‘‘صحیح مسلم میں ہے ہم نے عرض کیا:

یا رسول اللہ!ہمیں آپ پر سلام بھیجنا تو معلوم ہوگیا؛ اب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہو:

((اللہم صلِ علی محمد وعلی ِ آل محمد کما صلیت علی آلِ ِإبراہِیم و آل ابراہیم ))

’’ اے اللہ درود بھیج محمد پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا ابراہیم پر آل ابراہیم پر ‘‘

اور بلاشبہ علی رضی اللہ عنہ سب آل محمد میں افضل ہیں لہٰذا آپ اولیٰ بالامامت ہوں گے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]۔

[جواب]:ہم کہتے ہیں : اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صحیح اور متفق علیہ حدیث ہے۔اور بیشک حضرت علی آل محمد میں سے ہیں جو اس درود میں شامل ہیں : ’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ۔‘‘ مگر یہ آپ کی خصوصیت نہیں ۔ بلکہ جمیع بنی ہاشم اس میں داخل ہیں ۔ مثلاً حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد نیز حارث بن عبد المطلب اوراس کی اولاد ؛ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں سیدہ رقیہ و ام کلثوم رضی اللہ عنہما جو یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ؛ اورآپ کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ۔ علاوہ ازیں آپ کی ازواج مطہرات بھی آل میں شامل ہیں ۔جیسا کہ بخاری و مسلم میں ہے: 

’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اَزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیَّتِہٖ۔‘‘ [بخاری،(ح:۳۳۶۹)،مسلم،(ح: ۴۰۷)]

’’اے اللہ رحمتیں نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی ازواج پر اور آپ کی اولاد پر ۔‘‘

بلکہ قیامت تک آنے والے اہل بیت اس میں شامل ہیں ۔اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب اور عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں ۔

[مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ الصلوٰۃ علی الآل عام ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مختص نہیں ، بلکہ اس میں عقیل بن ابی طالب اور ابوسفیان بن حارث بھی شامل ہیں ]۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ حضرات کے صلوٰۃ و سلام میں داخل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ نہ داخل ہونے والوں کی نسبت مطلق طور پر افضل ہیں اور نہ یہ کہ وہ امامت کے اہل ہیں ۔امامت کے ساتھ مختص ہونا ایک جداگانہ بات ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت عمار ، مقداد اور ابو ذر رضی اللہ عنہم کی فضیلت اہل سنت اور شیعہ کے نزدیک ایک طے شدہ بات ہے۔ حالانکہ صلوٰۃ علی الآل میں وہ شامل نہیں ہیں ۔ بخلاف ازیں حضرت عقیل و عباس اور ان کی اولاد آل میں داخل ہے ، حالانکہ سابق الذکر باتفاق اہل سنت و شیعہ متاخر الذکر کی نسبت افضل ہیں ۔ علاوہ ازیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ور دیگر ازواج بھی اس میں داخل ہیں ۔ حالانکہ خواتین امامت و خلافت کی صلاحیت سے محروم ہیں اورباتفاق اہل سنت و شیعہ باقی لوگوں سے افضل بھی نہیں ۔

بنابریں یہ ایک ایسی فضیلت ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ میں بھی پائی جاتی ہے اور دوسرے لوگوں میں بھی۔ نیز یہ کہ جو لوگ اس سے متصف ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں افضل نہیں ہیں جو اس صفت سے موصوف نہیں ۔

صحیح حدیث میں ثابت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ؛ پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد آئیں گے۔‘‘[البخاری] 

تیسرے قرن کے بہترین لوگ تابعین ہیں ۔

جملہ کی جملہ پر فضیلت سے افراد کی افراد پر فضیلت لازم نہیں آتی۔اس میں کوئی شک نہیں تیسرے اور چوتھے قرن میں بہت سارے ایسے لوگ موجود تھے جو ان بعض حضرات سے افضل تھے جنہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا زمانہ پایا تھا؛ جیسے اشتر نخعی ؛ اور اس کے امثال فتنہ و فساد مچانے والے لوگ؛ اورمختار بن ابو عبید اور اس کے امثال جھوٹے بہتان تراش ؛ 

حجاج بن یوسف اور اس کے امثال ظالم اور اہل شر و فتنہ ۔

مزید بر آں حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام اہل بیت سے افضل نہیں ہیں ۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل بیت میں داخل ہیں ؛ اور آپ تمام لوگوں سے افضل ہیں ۔ جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:

’’ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم اہل بیت ہیں ‘ ہم صدقہ نہیں کھاتے ۔‘‘ [البخاری۴؍۷۴؛ مسلم ۲؍۷۵۱] 

یہ کلام متکلم اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں سب کو شامل ہے ۔

پس ملائکہ نے کہا:

﴿رَحْمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ ﴾ [ہود: 73] 

’’تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکتیں ہوں اے گھر والو۔‘‘

ان گھر والوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی تھے اور جیسا کہ درود میں پڑھا جاتا ہے :

(( اللہم صلِ علی محمد وعلی آلِ محمد ؛ کما صلیت علی إِبراہِیم وآلِ إِبراہِیم إنک حمید مجید))

ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی شامل ہیں ۔

اور جیسا کہ اس آیت میں ہے :

﴿ اِِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّیْنَاہُمْ ﴾[القمرِ: 34]

’’ سوائے آل لوط کے؛ ہم نے انہیں بچالیا۔‘‘

بلاشک و شبہ حضرت لوط علیہ السلام بھی ان لوگوں میں شامل تھے۔

اور یہی حال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان گرامی کا بھی ہے :

صفحہ 1 از 2