امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

﴿اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٓی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرَہِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ﴾ [آل عمران: 33]

’’بیشک اللہ تعالیٰ نے چن آدم ؛ نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں میں سے ۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے چن لیا تھا۔

اور ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:

﴿سَلَامٌ عَلٰی اِِلْ یَاسِینَ ﴾[الصافاتِ: 130]

’’سلامتی ہو آل یاسین پر ۔‘‘

اس سلامی کے نازل ہونے میں حضرت یس علیہ السلام بھی شامل تھے۔

ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے :

(( اللہم صلِ علی آلِ أبِی أوفی۔)) [تخریج گزر چکی ہے]

’’اس میں حضرت ابو اوفی بھی شامل ہیں ۔‘‘

اور یہی حال اس حدیث کا بھی ہے:

(( لقد أوتِی ہذا مِزمارا مِن مزامِیرِ آلِ داود ۔))

’’حقیقت میں اسے حضرت داؤد کی لَے[سُر] میں سے ایک لَے دی گئی ہے ۔‘‘ [رواہ البخاری عن ابی موسیٰ الاشعری ؛۶؍۱۹۵۔کتاب فضائل القرآن ؛ باب حسن الصوت بالقرأۃ ومسلم ۱؍۵۴۶؛ کتاب صلاۃ المسافرین باب استحباب تحسین الصوت بالقرآن ۔ سنن الترمذي ۵؍۳۵۵ کتاب المناقب ؛ باب مناقب أبو موسیٰ أشعری رضی اللّٰہ عنہ ۔]

پس جب حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام اہل بیت سے افضل تھے؛ تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ تمام لوگوں سے افضل ٹھہرے ۔اس لیے کہ بنو ہاشم دوسرے لوگوں سے افضل ہیں ۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خاندان میں سے ہیں ۔جب آپ کا ظہور اس قبیلہ میں ہوا؛ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے بعد اس قبیلہ کا افضل انسان ان کے علاوہ باقی تمام لوگوں سے بھی افضل ہو۔

جیسا کہ تابعین جب تبع تابعین سے افضل ہیں ؛ تو ان میں کوئی ایک ایسا بھی ہوسکتا ہے جو تابعین سے افضل ہو۔ تو اس سے یہ واجب نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا افضل تمام تبع تابعین سے بھی افضل ہو۔

بلکہ جب جملہ طور پر کسی گروہ کو دوسرے لوگوں پر افضیلت دی جائے تو اس گروہ کا افضل دوسرے گروہ کے لوگوں سے فضل ہوگا۔تو اس سے افضلیت کا مقصود حاصل ہوجاتاہے۔لیکن اس کے بعد کے معاملات دلیل پر موقوف ہوں گے۔

بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے ہر گزیہ لازم نہیں آتا کہ اس گروہ کا افضل دوسرے گروہ کے فاضل سے بغیر کسی دلیل کے فاضل ٹھہرایا جائے۔

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

((إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفَی کَنَانَۃَ مِنْ وَلَدِ اسْمٰعِیْلَ، وَاصْطَفَی قُرَیْشاً مِّنْ کَنَانَۃَ ،وَاصْطَفَی مِنْ قُرَیْشٍ بَنِي ہَاشَمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِيْ ہَاشَمٍ )) [مسلم کتاب الفضائل ؛ باب : فضل نسب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ح: ۴۳۱۸۔ صحیح ابن حبان ؛ کتاب التاریخ ‘ذکر اصطفاء اللّٰہ جل و علا صفیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ ح: ۶۴۲۴۔]

’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے اسمعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو ، اور کنانہ کی اولاد سے قریش کو چن لیا تھا، اور قریش سے بنی ہاشم کو ، اور بنی ہاشم میں سے مجھے چن لیا ہے۔‘‘

پس جب جملہ طور پر قریش دوسرے لوگوں سے افضل تھے؛ تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا ہر ایک فرد دوسرے لوگوں سے بھی افضل ہو۔ بلکہ تمام عرب میں اور ان کے علاوہ دوسرے مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بہت سارے قریش سے افضل ہیں ۔سابقین اولین میں تو قریش کے چند ایک محدود لوگ ہیں ۔اور ان کی اکثریت نے فتح مکہ والے سال اسلام قبول کیا تھا۔ اور ان کا تعلق طلقاء سے ہے۔

نیز تمام مہاجرین کا تعلق قریش سے نہیں ہے ۔ بلکہ مہاجرین قریش سے بھی ہیں اور دوسرے لوگوں سے بھی۔جیسا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہذلی؛ عمران بن حصین الخزاعی؛ مقداد ابن الاسود الکندی رضی اللہ عنہم ؛ اور ان کے علاوہ دوسرے بدری [ مہاجر]اکثر بنی ہاشم سے افضل ہیں ۔ اس لیے کہ بنو ہاشم میں سے سابقین اسلام صرف چار شخص حضرات ہیں : حضرت علی؛ حضرت حمزہ؛ حضرت جعفر اور ابو عبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہم ؛۔ جبکہ اہل بدر کی تعداد تین سو تیرہ ہے۔ ان میں سے تین کا تعلق بنو ہاشم سے ہے ؛ جو کہ باقی سارے بنی ہاشم سے افضل ہیں ۔

اس تمام تفصیل کی بنیاد اس چیز پر ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر درود و سلام کا تقاضا یہ ہے کہ اہل بیت نبی باقی تمام لوگوں سے افضل ہوں ۔ اور اہل سنت و الجماعت کا مذہب یہ ہے کہ : بنو ہاشم تمام قریش سے افضل ہیں ؛ اور قریش باقی تمام عرب سے افضل ہیں ۔ اور عرب بنی آدم کے افضل لوگ ہیں ۔یہ عقیدہ ائمہ اہل سنت و الجماعت سے منقول ہے۔ جیساکہ حرب کرمانی رحمہ اللہ نے ان علمائے کرام رحمہم اللہ سے یہ عقیدہ نقل کیا ہے جن سے اس کی ملاقات ہوئی ہے؛ جیسا کہ : أحمد بن حنبل؛ اسحق بن راہویہ ؛ سعید بن منصور؛ اور عبداللہ بن الزبیر الحمیدی رحمہم اللہ اور ان کے علاوہ دیگر علماء۔

ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ اس بنیاد پر کسی کو فضیلت نہ دی جائے۔ جیسا کہ قاضی ابوبکر نے ؛ اور قاضی ابو یعلی نے المعتمد اور دوسری کتابوں میں کہا ہے ۔

جبکہ پہلا مذہب زیادہ صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

((إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفَی کَنَانَۃَ مِنْ وَلَدِ اسْمٰعِیْلَ، وَاصْطَفَی قُرَیْشاً مِّنْ کَنَانَۃَ ،وَاصْطَفَی مِنْ قُرَیْشٍ بَنِي ہَاشَمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِيْ ہَاشَمٍ )) [سبق تخریجہ]

’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے اسمعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کو ، اور کنانہ کی اولاد سے قریش کو چن لیا تھا، اور قریش سے بنی ہاشم کو ، اور بنی ہاشم میں سے مجھے چن لیا ہے۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے :

((إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفَی بنیِ اسْمٰعِیْلَ۔))۔

’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے اسمعیل علیہ السلام کی اولادکو چن لیا۔‘‘

یہ موضوع دوسری جگہ پر پوری تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔


صفحہ 2 از 2