حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور مالک بن نویرہ کا قتل
علی محمد الصلابیمالک بن نویرہ کے سلسلہ کی روایات میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ آیا وہ مظلوم قتل ہوا یا یہ کہ وہ قتل کا مستحق تھا؟ ڈاکٹر علی عتوم نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب حرکۃ الردۃ میں تحقیق پیش کی ہے اور شیخ محمد طاہر بن عاشور نے اپنی کتاب نقد علمی علیٰ کتاب الاسلام و اصول الحکم میں اس قضیہ کو چھیڑا ہے۔
(نقد علمی لکتاب الاسلام واصول الحکم: صفحہ 33)
اور محمد زاہد کوثری نے اپنی کتاب مقالات الکوثری میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف سے دفاع کیا ہے۔
(مقالات الکوثری: صفحہ 312 کوثری جیسے شخص کا یہاں ذکر کرنا علم و تحقیق کے منافی ہے۔ اس شخص کی حقیقت سمجھنے کے لیے معلمی کی التنکیل کا مطالعہ ضروری ہے) (مترجم)
ان کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی اس موضوع پر بحث کی ہے لیکن اس موضوع کے سلسلہ میں میں نے ڈاکٹر علی عتوم کی رائے کو اختیار کیا ہے کیونکہ انہوں نے اس مسئلہ میں نادر علمی تحقیق پیش کی ہے اور ارتداد کے واقعات کا اس قدر اہتمام کیا ہے کہ میری اطلاع کے مطابق معاصرین کے یہاں اس کا وجود نہیں پایا جاتا اور اس تحقیق و بحث کے بعد آپ جس نتیجہ پر پہنچے ہیں میں اس سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔ مالک بن نویرہ کو جس چیز نے ہلاک کیا وہ اس کا کبر و غرور اور تردد تھا۔ جاہلیت اس کے اندر باقی رہی، ورنہ رسول اللہﷺ کے بعد خلیفہ رسول کی اطاعت اور بیت المال کے حق زکوٰۃ کی ادائیگی میں ٹال مٹول نہ کرتا۔ میرے تصور کے مطابق یہ شخص سرداری اور قیادت کا شوقین تھا اور ساتھ ہی ساتھ بنو تمیم کے سرداروں میں سے اپنے ان بعض اقارب سے اس کو خلش تھی، جنہوں نے اسلامی خلافت کی اطاعت قبول کر لی تھی اور حکومت کے سلسلہ میں اپنے واجبات کو ادا کر دیا تھا۔ اس کے اقوال و افعال دونوں ہی اس تصور کی تائید کرتے ہیں۔ اس کا مرتد ہونا اور سجاح کا ساتھ دینا، زکوٰۃ کے اونٹوں کو اپنے لوگوں میں تقسیم کر دینا، زکوٰۃ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دینے سے روکنا، تمرد و عصیان کے سلسلہ میں اپنے قرابت دار مسلمانوں کی نصیحتوں کو نہ سننا، یہ سب اس پر فرد جرم ثابت کرتے ہیں اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ شخص اسلام کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھا۔
اگر مالک بن نویرہ کے خلاف کوئی حجت و دلیل نہ ہو تو اس کا صرف زکوٰۃ روک لینا ہی اس پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے کافی ہے۔ متقدمین کے یہاں یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اس نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا تھا۔ ابن عبدالسلام کی کتاب طبقات فحول الشعراء میں ہے: یہ متفق علیہ بات ہے کہ حضرت خالدؓ نے مالک سے گفتگو کی اور اس کو اس کے مؤقف سے پھیرنے کی کوشش کی لیکن مالک نے نماز کو تسلیم کیا اور زکوٰۃ سے اعراض کیا۔
(طبقات فحول الشعراء: تحقیق محمود شاکر صفحہ 172)
اور شرح مسلم میں امام نووی رحمہ اللہ مرتدین کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ انہی کے ضمن میں وہ حضرات بھی تھے جو زکوٰۃ کو تسلیم کرتے تھے اور اس کی ادائیگی سے رکے نہیں تھے لیکن ان کے سرداروں نے انہیں اس سے روک دیا تھا اور ان کے ہاتھ پکڑ رکھے تھے، جیسا کہ بنو یربوع، انہوں نے اپنی زکوٰۃ اکٹھی کی اور اس کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا چاہتے تھے لیکن مالک بن نویرہ نے انہیں روک دیا اور ان کی زکوٰۃ کو لوگوں میں تقسیم کر دیا۔
(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 203)