Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی ام تمیم سے شادی

  علی محمد الصلابی

ام تمیم کا نام لیلیٰ بنت سنان منہال تھا۔ یہ مالک بن نویرہ کی بیوی تھی، اس شادی سے متعلق بڑا جدال واقع ہوا ہے۔ اپنے غلط مقاصد کی برآری کے پیش نظر لوگوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ پر مختلف اتہام باندھے ہیں، جن کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ پاکیزہ علمی بحث و تحقیق کے سامنے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتے۔ اس کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے سیدنا خالدؓ پر اتہام باندھا کہ وہ ام تمیم کے حسن و جمال پر فریفتہ تھے اور اس سے عشق رکھتے تھے، اس لیے صبر نہ کر سکے اور قید میں آتے ہی اس سے شادی کر لی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نعوذ باللہ یہ شادی نہیں بلکہ زنا تھا۔ لیکن یہ قول من گھڑت اور صریح جھوٹ ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔

(جنرل اکرم پاکستانی اپنی کتاب سیف اللہ خالد صفحہ، 198 میں لکھتے ہیں کہ: اسی رات خالد نے اس سے شادی کر لی)

کیونکہ قدیم مراجع اور مصادر میں اس کی طرف اشارہ تک نہیں ملتا۔ بلکہ یہ صریح نصوص کے خلاف ہے۔

علامہ ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کو اس لیے قتل کیا تھا کہ اس نے زکوٰۃ روک لی تھی، جس کی وجہ سے اس کا خون حلال ہو گیا تھا اور اس کی وجہ سے ام تمیم سے اس کا نکاح فاسد ہو گیا تھا۔

(الاحکام السلطانیۃ: صفحہ 47 بحوالہ حرکۃ الردۃ: صفحہ 229)

اور مرتدین کی عورتوں کے سلسلہ میں شرعی حکم یہ ہے کہ جب وہ دار الحرب سے جا ملیں تو ان کو قید کیا جائے قتل نہ کیا جائے۔ جیسا کہ امام سرخسی رحمہ اللہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

(المبسوط: جلد 10 صفحہ 111 بحوالہ حرکۃ الردۃ: صفحہ 229)

 جب ام تمیم قیدی بن کر آئی تو حضرت خالدؓ نے اس کو اپنے لیے منتخب کر لیا اور جب وہ حلال ہو گئی تب اس سے شب باشی کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 326)

اور شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ اس مسئلہ پر تعلیق چڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ام تمیم اور اس کے بیٹے کو ملک یمین کے طور پر لیا تھا کیونکہ وہ جنگی قیدی تھی اور اس طرح کی خواتین کے لیے کوئی عدت نہیں۔ اگر وہ حاملہ ہو تو وضع حمل تک اس کے مالک کا اس کے قریب ہونا حرام ہے اور اگر حاملہ نہیں ہے تو صرف ایک مرتبہ حیض آنے تک دور رہے گا، پھر اس سے دخول کرے گا۔ یہ مشروع اور جائز عمل ہے، اس پر طعن و تشنیع کی ذرا بھی گنجائش نہیں لیکن سیدنا خالدؓ کے مخالفین اور دشمنوں نے اس موقع کو اپنے لیے غنیمت سمجھا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ مالک بن نویرہ مسلمان تھا اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس کو اس کی بیوی کے لیے قتل کر دیا۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ 230)

اسی طرح حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر یہ اتہام لگایا گیا کہ انہوں نے اس شادی کے ذریعہ سے عرب کے عادات و اطوار کی مخالفت کی۔ چنانچہ عقاد کا کہنا ہے: سیدنا خالدؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کر کے اس کی بیوی سے میدان قتال میں شب باشی کی، جو جاہلیت و اسلام میں عربوں کی عادت کے خلاف اور اسی طرح مسلمانوں کی عادات اور اسلامی شریعت کے حکم کے منافی ہے۔

(عبقریۃ الصدیق: صفحہ 70)

عقاد کا یہ قول سچائی سے بالکل دور ہے۔ عربوں کے یہاں اسلام سے قبل بہت دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ جنگوں اور دشمنوں پر فتح یابی کے بعد قیدی خواتین سے شادیاں کرتے تھے اور انہیں اس پر فخر ہوتا تھا، اسی لیے اس طرح کی قیدی خواتین کی اولاد کی کثرت ان کے اندر پائی جاتی تھی۔ حاتم طائی کہتا ہے:

وما أنْکحونا طائِعِین بناتِہِم

ولکن خطبناہا باسیافنا قَسْرا

ترجمہ: ان لوگوں نے اپنی بچیوں کی برضا و رغبت ہم سے شادی نہیں کی لیکن ہم نے جبراً تلواروں کے ذریعہ سے انہیں پیغام دیا۔

وکاین تری فینا من ابن سَبِیَّۃٍ

اذا لقی الأبطال یطعنُہُم شَزْرا

ترجمہ: تم ہمارے اندر کتنے ایسے قیدی خواتین کے بچوں کو دیکھو گے کہ جب جنگ میں بہادر ٹکراتے ہیں تو یہ انہیں نیزوں سے غضبناک ہو کر مارتے ہیں۔

ویأخذُ رایات الطِّعان بکفِّہ

فیوردُہا بیصا ویصدرہا حُمْرا

ترجمہ: اپنی ہتھیلیوں میں نیزوں کا پرچم اٹھاتے ہیں، اسے سفید چمکتا ہوا لے کے جاتے ہیں اور دشمن کے خون سے سرخ کر کے لاتے ہیں۔

(العقد الفرید لابن عبدربہ: جلد 7 صفحہ 123)

شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ایک مباح کام کیا اور اس کے لیے مشروع طریقہ اختیار کیا اور یہ فعل تو اس ذات سے ثابت ہے جو سیدنا خالدؓ سے افضل تھے (یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم)۔ اگر حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے جنگ کے دوران میں یا اس کے فوراً بعد شادی کی تو رسول اللہﷺ نے غزوہ مریسیع کے فوراً بعد سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی اور یہ اپنی قوم کے لیے بڑی با برکت ثابت ہوئیں کہ اس شادی کی وجہ سے ان کے خاندان کے سو آدمی آزاد کر دیے گئے کیونکہ وہ رسول اللہﷺ کے سسرالی رشتے میں آ گئے اور اس شادی کے بابرکت اثرات میں سے یہ ہوا کہ ان کے والد حارث بن ضرار مسلمان ہو گئے۔

(سیرت ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 290، 295)

اسی طرح رسول اللہﷺ نے غزوہ خیبر کے فوراً بعد سیدہ صفیہ بنت حی بن اخطبؓ سے شادی کی اور خیبر ہی میں یا لوٹتے ہوئے راستے میں شب زفاف منائی۔

(سیرت ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 339)

جب رسول اللہﷺ کا اس سلسلہ میں اسوہ اور نمونہ موجود ہے تو عتاب اور ملامت کی کوئی وجہ نہیں، یہ خود بخود کافور ہو جاتے ہیں۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ 237)

 البتہ ڈاکٹر محمد حسین ہیکل نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے دفاع میں جو منہج اختیار کیا ہے وہ کسی طرح قابل قبول نہیں کیونکہ ہمارے لیے یہ جائز نہیں کہ حضرت خالدؓ کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اسلام کا جنازہ نکال دیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ وغیرہ شریعت کے تابع ہیں جو ہمیشہ بلند رہے گی، اس سے کوئی بالاتر نہیں ہو سکتا۔ اشخاص کی براءت اور صفائی پیش کرنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ منہج اور دستور ہی کو مسخ کر دیا جائے چنانچہ ہیکل صاحب نے یہ گل فشانی کی ہے: عرب کی عادت کے خلاف کسی عورت سے شادی کرنا بلکہ استبرائے رحم سے قبل دخول کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ فاتح اور غازی کی طرف سے ہو۔ اس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اس کے لیے قیدی خواتین ملک یمین (لونڈیاں) بنیں۔ شریعت کی تطبیق و نفاذ میں تشدد و جمود مناسب نہیں کہ اس کا نفاذ سیدنا خالدؓ جیسی عظیم اور نابغہ روزگار شخصیتوں پر کیا جائے اور خاص کر جب اس سے حکومت کو نقصان اور خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔

(الصدیق ابوبکر: صفحہ 140)

شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے ہیکل کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: مجھے اس بات کا شدید خوف ہے کہ کہیں مؤلف نپولین وغیرہ بادشاہان یورپ کی کارستانیوں اور ان کے دفاع میں فرنگی مؤلفین کی تحریروں سے متاثر تو نہیں؟ کیونکہ انہوں نے اپنے زعماء و قائدین کے معاصی اور جرائم پر پردہ ڈالنے اور ان کو ہلکا ثابت کرنے کے لیے ان کی عظمت اور ملک و قوم کے ساتھ احسانات و فتوحات کا سہارا لیا ہے اور اس تاثر کے نتیجہ میں مؤلف نے یہ تصور قائم کر لیا کہ سابقین اولین مسلمان بھی انہی لوگوں کی طرح تھے اور یہ کہہ دیا کہ شریعت کے نفاذ و تطبیق میں جمود و تشدد حضرت خالدؓ جیسی عظیم اور نابغہ روزگار شخصیتوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ فکر دین واخلاق کو تباہ کرنے والی ہے۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ، 232)