Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنگی قائدین کی تائید

  علی محمد الصلابی

لشکر حضرت خالدؓ کے بعض افراد نے یہ شہادت دی کہ مالک بن نویرہ کے لوگوں نے جب مسلمانوں کی اذان سنی تو اذان کا اہتمام کیا اور اس طرح انہوں نے اپنا خون محفوظ کر لیا لہٰذا ان کو قتل کرنا جائز نہیں۔ انہی لوگوں میں سے سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپؓ نے اس معاملہ کو بڑا تصور کیا اور جب دیکھا کہ حضرت خالدؓ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے شادی بھی کر لی تو ان کے اس تصور میں مزید اضافہ ہو گیا، وہ سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ کر سیدنا ابوبکر صديق رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی شکایت لے کر پہنچ گئے۔ سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت قتادهؓ کے اس عمل کو غلط قرار دیا کیونکہ انہوں نے سيدنا خالد رضی اللہ عنہ جو قائد و سربراہ تھے ان سے مفارقت اختیار کی تھی، جس کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ عمل دشمن کے مقابلہ میں شکست و ناکامی کا سبب بن سکتا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ پر سختی کی اور انہیں فوراً سيدنا خالدؓ کے پاس واپس بھیج دیا اور اس سے کم پر راضی نہ ہوئے کہ وہ واپس جا کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے پرچم تلے اسلامی لشکر میں شامل ہو جائیں۔

(حرکۃ الردۃ: صفحہ 231)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل محکم ترین جنگی سیاست تھی۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مالک بن نویرہ کے معاملہ میں پوری تحقیق کی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ سيدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مالک بن نویرہ کے قتل کے اتہام میں بری ہیں۔

(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: بہنساوی: صفحہ 112)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس سلسلہ میں حقائق امور سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ واقف تھے اور گہری نگاہ رکھتے تھے کیونکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور تمام خبریں آپؓ کو پہنچتی تھیں اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ایمان بھی سب پر بھاری تھا۔ سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تعامل میں آپؓ رسول اللہﷺ کی سنت کی پیروی کر رہے تھے کیونکہ رسول اللہﷺ نے سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کو جو ذمہ داری بھی سونپی کبھی معزول نہیں کیا اگرچہ ان سے بعض ایسی چیزیں صادر ہوئیں جن سے آپﷺ مطمئن نہ تھے، آپﷺ ان کے عذر کو قبول فرماتے اور لوگوں سے فرماتے: سيدنا خالدؓ کو تکلیف مت پہنچاؤ، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر مسلط کر دیا ہے۔

(الخلفاء الراشدون للنجار: صفحہ 58)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا کمال ہے کہ انہوں نے سيدنا خالدؓ کو گورنری سونپی اور ان سے تعاون لیا حالانکہ ان کے اندر شدت پائی جاتی تھی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طبیعت نرم تھی تا کہ اس طرح سختی نرمی کے ساتھ مل کر سيدنا خالدؓ کی طبیعت میں اعتدال آ جائے کیونکہ صرف نرمی اور اسی طرح صرف سختی تباہ کن ہو سکتی ہے لہٰذا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سيدنا عمرؓ سے مشورہ لیتے اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کرتے، یہ کمال تھا، جس کو خلیفہ رسول نے اختیار کیا۔ اسی لیے مرتدین سے قتال کے سلسلہ میں شدید مؤقف اختیار کیا اور اس سلسلہ میں سيدنا عمرؓ وغیرہ پر غالب رہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکرؓ کے اندر ایسی شدت پیدا کی جو اس سے پہلے آپؓ کے اندر نہ تھی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت میں سختی تھی لیکن ان کا کمال یہ رہا کہ انہوں نے اپنی خلافت میں سيدنا ابو عبیدہ بن جراح، سيدنا سعد بن ابی وقاص، سيدنا ابوعبید ثقفی، سيدنا نعمان بن مقرن، سيدنا سعید بن عامر رضی اللہ عنہم وغیرہ جیسے لوگوں سے تعاون لیا، جو زہد و عبادت میں حضرت خالدؓ وغیرہ پر فائق تھے، جس کا اثر یہ ہوا کہ خلافت کے بعد آپؓ کے اندر ایسی رافت اور نرمی پیدا ہوئی جو اس سے قبل آپؓ کے اندر نہ تھی، یہاں تک کہ آپؓ امیر المؤمنین قرار پائے۔

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 101)

علامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے اس سلسلہ میں بڑی نفیس بحث کی ہے، فرماتے ہیں: خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ارتداد کی جنگ اور عراق و شام کی فتوحات میں حضرت خالدؓ سے کام لیتے رہے باوجود یہ کہ ان سے بعض لغزشیں تاویل کی بناء پر صادر ہوئیں اور سیدنا ابوبکرؓ سے ان کی شکایت بھی کی گئی لیکن سیدنا ابوبکرؓ نے ان کو معزول نہیں کیا، بلکہ صرف عتاب پر اکتفا کیا کیونکہ ان کو برقرار رکھنے میں مصلحت راجح تھی۔ دوسرا کوئی ان کا قائم مقام نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ بڑا ذمہ دار اگر اس کے اندر نرمی پائی جاتی ہے تو اسے اپنا نائب کسی ایسے شخص کو مقرر کرنا چاہیے جس کی طبیعت میں سختی ہو، وہ اگر ایسا ہو کہ اس کے اندر سختی ہو تو نائب ایسا ہونا چاہیے جس کی طبیعت میں نرمی پائی جائے تا کہ دونوں کی سختی و نرمی مل کر اعتدال پیدا کر سکیں۔ اسی لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا خالدؓ کو نائب مقرر کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور سيدنا عمر رضی اللہ عنہ حضرت خالدؓ کو معزول کرنے اور سيدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کرنے کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ حضرت خالدؓ بھی سيدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح شدید تھے اور حضرت ابوعبیدہؓ سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح نرم تھے۔ دونوں نے جس کو والی بنایا وہ ان کے لیے زیادہ مناسب تھے تا کہ اعتدال برقرار رہے اور اس طرح رسول اللہﷺ کے صحیح خلفاء بنیں، جو معتدل تھے۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 28 صفحہ 144)

آپﷺ فرماتے ہیں: انا نبی الرحمۃ انا نبی الملحمۃ ترجمہ: میں نبی رحمت ہوں، میں نبی جنگ ہوں۔

(مسند احمد: جلد 4 صفحہ 395، 404، 407)