امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تینتیسویں دلیل:
امام ابنِ تیمیہؒامامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تینتیسویں دلیل:
[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تینتیسویں دلیل یہ آیت قرآنی ہے:
﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃَ﴾ (البینہ:۷)
’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں ۔‘‘
ابونعیم حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا:’’اس آیت میں تم اور تمہارے شیعہ کا ذکر کیا گیا ہے، جو بروز قیامت شاداں و فرحاں آئیں گے اور تمہارے دشمن غصہ سے بھرے ہوئے ہوں گے، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خیر البریۃ(مخلوقات میں سے بہتر) ہوئے تو امام بھی وہی ہوں گے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]
[جواب]:
٭ پہلی بات : ہم شیعہ سے اس کی صحت کے اثبات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اگرچہ ہم پورے جزم ووثوق سے کہتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے۔ لیکن مدعی سے سند کی صحت پیش کرنے کے مطالبہ کا انکار صرف معاند اور سرکش ہی کرسکتا ہے۔ مسلمانوں کے تمام گروہوں کا اتفاق ہے کہ ابو نعیم کے روایت کرلینے سے کوئی روایت حجت اور قابل استدلال نہیں ہوجاتی[جب تک کہ اس کی صحت ثابت نہ ہوجائے]۔
٭ دوسری بات: یہ روایت ایسا جھوٹ ہے جو کہ کسی بھی اہل علم اورمحدث پر مخفی نہیں ۔اہل علم کا اس روایت کے جھوٹا ہونے پر اتفاق ہے۔
٭ تیسری بات:علاوہ ازیں یہ تفسیر ان لوگوں کے قول سے متصادم ہے جو کہتے ہیں :﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾ ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ‘‘سے خارجی و ناصبی لوگ مراد ہیں ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دوستی لگانے والا کافر ہے ؛وہ اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کرتے ہیں :
﴿وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُم بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْکَافِرُوْنَ﴾ (المائدۃ:۴۴)
’’ جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ کافر ہے۔‘‘
وہ کہتے ہیں جو شخص اللہکے دین میں اشخاص و رجال کو حکم بناتا ہے وہ اللہکے نازل کردہ حکم کے بغیر فیصلہ کرتا ہے، لہٰذا وہ کافر ہو گیا۔اور اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ﴾ (المائدۃ:۵۱)
’’ تم میں سے جو کفار کے ساتھ دوستی لگائے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔‘‘
ان کا قول ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم نوانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل حدیث کے مطابق مرتد ہو چکے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بہت سے آدمیوں کو میرے حوض سے دور کردیا جائے گا، جس طرح اجنبی اونٹ کو دور کردیا جاتا ہے، میں کہوں گا: یہ میرے صحابی ہیں یہ میرے صحابی ہیں ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کون سی باتیں ایجاد کرلی تھیں ۔اور جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ مرتد ہی چلے آئے ہیں ۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب فی الحوض(حدیث:۶۵۷۶۔۶۵۸۶)، صحیح مسلم ، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا رضی اللّٰہ عنہم (حدیث: ۲۲۹۰۔۲۲۹۷)۔ صحیح مسلم میں پوری حدیث اس طرح : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لائے اور فرمایا سلامتی ہو تم پر مومنوں کے گھر، ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں ۔ میں پسند کرتا ہوں کہ ہم اپنے دینی بھائیوں کو دیکھیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ تم تو میرے صحابہ ہو؛ اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے ۔‘‘صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کوکیسے پہچانیں گے جو ابھی تک نہیں آئے؟ ....اس حدیث میں ہے: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ لوگ جب آئیں گے تو وضو کے اثر کی وجہ سے ان کے چہرے ہاتھ اور پاؤں چمکدار اور روشن ہوں گے؛ اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا۔ اور سنو بعض لوگ میرے حوض سے اس طرح دور کیے جائیں گے جس طرح بھٹکا ہوا اونٹ دور کردیا جاتا ہے۔میں ان کو پکاروں گا ادھر آؤ؛ تو حکم ہوگا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد دین کو بدل دیا تھا تب میں کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ۔‘‘ والحدیث مع اختِلاف فِی اللفظِ فِی الموطأِ 1؍28 ؛ کتاب الطہارۃِ، باب جامِعِ الوضوء، سنن ابن ماجہ 2؍1439؛ ِکتاب الزہدِ، باب ذِکرِ الحوضِ، وجاء الحدیث مختصرا فِی مسلِم ومع اختِلافِ اللفظِ 1؍217 رقم 37۔۔ ]
خوارج و نواصب کہتے ہیں : یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خون اور اموال میں اللہ کے حکم سے ہٹ کر فیصلے کیے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’میرے بعد کافر نہ ہو جاؤ کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔‘‘ [صحیح بخاری۔ کتاب العلم، باب الانصات للعلماء(حدیث:۱۲۱، ۷۰۸۰)، صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان معنی قول النبی رضی اللّٰہ عنہم’’ لا ترجعوا بعدی کفاراً ‘‘(حدیث:۶۵)۔]
ان کا کہنا ہے:جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپس میں ایک دوسرے کو قتل کیا وہ پھر پلٹ کر کافر ہوچکے تھے۔
اگرچہ خوارج کے یہ دلائل باطل ہیں ،لیکن اس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ روافض کے براہین و دلائل ان سے بڑھ کر لغوو بے بنیاد ہیں ۔خوارج روافض کی نسبت بڑے عقلمند ؛سچے ؛ اور حق کے پیروکار ہوتے ہیں ۔وہ سچائی کا بہت اہتمام کرتے ہیں ‘ جھوٹ نہیں بولتے ۔ظاہر و باطن میں دین دار ہوتے ہیں ۔ لیکن گمراہ اور جاہل ہیں ‘ دین سے نکل چکے ہیں ۔اسلام سے ایسے نکل گئے ہیں جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ جبکہ روافض کی یہ حالت ہے کہ ان پر جہالت ؛ گمراہی اور جھوٹ کا غلبہ ہے۔ ان کے بہت سارے ائمہ اور عوام الناس زندیق اور ملحد ہیں ۔انہیں علم اور دین سے کوئی غرض نہیں ؛ بلکہ ان کی حالت تو بالکل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے عین مطابق ہے :
﴿ اِِنْ یَتَّبِعُوْنَ اِِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْاَنْفُسُ وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مِّنْ رَّبِّہِمُ الْہُدٰی﴾ [النجم۲۳]
’’یہ لوگ صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے ۔‘‘
مروانیہ جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی؛ اگر چہ وہ آپ کوکافر تو نہیں کہتے ؛ لیکن ان کے دلائل رافضیوں کے دلائل کی نسبت بہت زیادہ مضبوط ہیں ۔ مشہور ادیب جاحظ نے مروانیہ کے لیے ایک کتاب تحریر کی تھی۔ اس میں ایسے دلائل پیش کیے ہیں جن کو رافضہ کبھی بھی توڑ نہیں سکتے۔ رافضیوں کی بات توچھوڑیے زیدیہ بھی ان دلائل پر رد نہیں کرسکتے۔ البتہ اہل سنت والجماعت [اللہ انہیں تاقیامت سلامت رکھے] چونکہ معتدل اورمتوسط لوگ ہیں [وہ ان دلائل کا تاروپود بکھیر سکتے ہیں ]؛ یہی وجہ ہے کہ شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں [مروانیہ اور خوارج کے خلاف]حق بات کے لیے ان سے مدد لیتے ہیں ۔ لیکن اہل سنت والجماعت ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جن سے چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کرام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اہل سنت و الجماعت یا کسی بھی دوسرے کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو کہ مدح میں صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی خاص ہواور؛ یاصرف دوسروں پر قدح وارد کرتی ہو؛ یہ بات بالکل محال اورممتنع ہے۔انتہائی محال قسم کا جھوٹ بولنے کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ۔میدان مناظرہ و مجادلہ میں مقبول حق کے ساتھ ایسا ممکن نہیں ۔
چوتھی بات:....ان سے کہا جائے گا کہ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :
﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾ [البینۃ۷]
’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ۔‘‘
یہ عام خطاب ہے ؛ جو کہ ہر اس انسان کو شامل ہے جو ان صفات سے موصوف ہو۔تو پھر اس کو شیعہ کے ساتھ خاص کرنے کی کیا دلیل ہے ؟
اگر شیعہ کہیں : [اس لیے کہ ] ان کے سوا جتنے بھی لوگ ہیں ‘ وہ کافر ہیں ۔
تو ان سے کہا جائے گاکہ : اگر دوسرے لوگوں کا کفر کسی دلیل سے ثابت ہوتا تو تمہیں اتنے لمبے پاپڑ بیلنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اور اگر ایسا ثابت نہیں ہوسکتا تو پھر تمہیں تمہاری دلیل کسی کام نہ آئی۔اس لیے کہ نقل کے اعتبار سے یہ ثابت نہیں ہے۔ اور اگر کسی دوسری علیحدہ و جداگانہ دلیل سے ایسا ثابت بھی ہوجائے تو وہ اس آیت سے ثابت تصور نہیں ہوگا۔پھر اسی پر اعتما د کیا جائے گا۔
پانچویں بات:....یہ بات تواتر کے ساتھ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما شیعان علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر دوسرے لوگوں سے محبت اور دوستی رکھتے تھے۔ حتی کہ آپ خوارج کے ساتھ بیٹھتے اور انہیں فتوی دیا کرتے تھے؛ اور ان سے مناظرہ بھی کیا کرتے تھے۔ اگر آپ کا اعتقاد یہ ہوتا کہ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ؛وہ صرف شیعہ ہی ہیں ؛او ران کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں ؛سب کافر ہیں ۔ تو پھر آپ کبھی بھی ایسا نہ کرتے۔ اور ایسے ہی بنو امیہ کے ساتھ آپ کا برتاؤ اور سلوک ایک کھلی ہوئی دلیل ہے کہ آپ انہیں کافر نہیں سمجھتے تھے۔
اگر شیعہ کہیں کہ : ہم شیعہ کے علاوہ باقی لوگوں کو کافر تو نہیں کہتے ؛ لیکن ہم کہتے ہیں : شیعہ خیر البریہ ہیں ۔
[جواب]: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہی خیر البریہ ہیں ۔اگر تم یہ کہتے ہو کہ شیعہ کے علاوہ کوئی دوسرا اس آیت کے حکم میں داخل نہیں ؛ پھر دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں : یا تو تم کہو کہ وہ کافر ہیں ۔ یا پھر کہو کہ وہ فاسق ہیں ۔اس لیے کہ ان کا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوتا جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ؛ اگرچہ ان کا نام اہل ایمان میں داخل ہے۔وگرنہ جو کوئی اہل ایمان میں سے ہو‘اور وہ فاسق بھی نہ ہو تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ۔‘‘
اگر تم کہو کہ : وہ فاسق ہیں ۔
تو جواب میں کہا جائے گا کہ : اگر ان کا فسق ثابت ہوجائے تو پھر تمہارے لیے حجت کافی ہوگئی۔اور اگر ان کا فسق ثابت نہیں ؛ تو پھر تمہیں اس استدلال سے کوئی فائدہ نہیں ۔ تم تمام گروہوں میں سے جس کے بارے میں بھی فاسق ہونے کا کہو گے تو وہ ثابت کریں گے کہ آپ کئی ایک وجوہ کے اعتبار سے فسق میں ان سے کئی درجے آگے ہو۔ پھر تمہارے پاس اپنے دفاع میں کوئی ایک بھی صحیح دلیل موجود نہ ہوگی۔
فسق تمہارے بہت زیادہ جھوٹ بولنے ؛ فحاشی کا ارتکاب کرنے اور ظلم و ستم کرنے کی وجہ سے تم پر غالب ہے۔ تمہارے مخالفین خوارج اور دوسرے لوگوں کی نسبت تم میں بہت زیادہ فسق پایا جاتا ہے۔بنو امیہ میں شیعہ کی نسبت جھوٹ؛ فحاشی اور ظلم بہت ہی کم پایاجاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض شیعہ میں زھد ؛ صداقت اور دینداری پائی جاتی ہے ؛ یہی حال سارے فرقوں کا ہے۔ اور اگر اور کچھ بھی نہ ہوتا تو خوارج کی یہی خوبی کافی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں خبر دی تھی :
’’ تم میں سے کوئی ایک ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو اور ان کے روزہ کے مقابلہ میں اپنے روزہ کو حقیر سمجھے گا۔‘‘[یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے ] ۔
[ تو پھر روافض کو خوارج سے کیا نسبت ؟]
چھٹی بات:....اللہ تعالیٰ نے اس [تمہاری مذکورہ بالا استدلال والی آیت ] سے پہلے فرمایا ہے:
﴿اِِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ ﴾
’’بیشک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ لوگ بدترین خلائق ہیں ۔‘‘
پھر اس کے بعد فرمایا:
﴿ اِِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ ﴾
’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں ۔‘‘
اس سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ مشرکین اور کفاراہل کتاب سے ہٹ کر کوئی دوسرے لوگ ہیں ۔قرآن میں بہت سارے مقامات پر ایمان لانے والوں او رنیک اعمال کرنے والوں کا ذکر کیاگیا ہے۔یہ تمام مقامات عام ہیں ۔ توپھراس طرح کی باقی آیات کوچھوڑ صرف خاص طور پر اس آیت سے استدلال کرنے کی کیا وجہ ہے ؟
روافض یا ان کے علاوہ دوسرے اہل ہوی اور کافر لوگوں کااور ان کے علاوہ بہت سارے گمراہ فرقوں جیسے خوارج اور معتزلہ کا بھی یہی دعوی ہے کہ وہ ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کررہے ہیں ۔ جیسا کہ یہود ونصاری کا دعوی ہے :
﴿وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ oبَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ﴾ [البقرۃ ۱۱۱۔۱۱۲]
’’کہتے ہیں جنت میں یہود و نصاری کے سوا اور کوئی نہ جائے گا یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو ۔سنو جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔بیشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی۔‘‘
پس یہ حکم عام ہے ؛ جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی رضا کے لیے عمل کرے گا [وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہوگا] عمل صالح وہی ہوتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہو۔اور اسلام اپنے ارادہ و قصد میں اخلاص اور اپنے آپ کو اللہ کے لیے کر لینے کا نام ہے۔