امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تینتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تینتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

’’یہ لوگ صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے ۔‘‘

مروانیہ جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی تھی؛ اگر چہ وہ آپ کوکافر تو نہیں کہتے ؛ لیکن ان کے دلائل رافضیوں کے دلائل کی نسبت بہت زیادہ مضبوط ہیں ۔ مشہور ادیب جاحظ نے مروانیہ کے لیے ایک کتاب تحریر کی تھی۔ اس میں ایسے دلائل پیش کیے ہیں جن کو رافضہ کبھی بھی توڑ نہیں سکتے۔ رافضیوں کی بات توچھوڑیے زیدیہ بھی ان دلائل پر رد نہیں کرسکتے۔ البتہ اہل سنت والجماعت [اللہ انہیں تاقیامت سلامت رکھے] چونکہ معتدل اورمتوسط لوگ ہیں [وہ ان دلائل کا تاروپود بکھیر سکتے ہیں ]؛ یہی وجہ ہے کہ شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں [مروانیہ اور خوارج کے خلاف]حق بات کے لیے ان سے مدد لیتے ہیں ۔ لیکن اہل سنت والجماعت ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جن سے چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کرام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اہل سنت و الجماعت یا کسی بھی دوسرے کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو کہ مدح میں صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی خاص ہواور؛ یاصرف دوسروں پر قدح وارد کرتی ہو؛ یہ بات بالکل محال اورممتنع ہے۔انتہائی محال قسم کا جھوٹ بولنے کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ۔میدان مناظرہ و مجادلہ میں مقبول حق کے ساتھ ایسا ممکن نہیں ۔

چوتھی بات:....ان سے کہا جائے گا کہ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان :

﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ﴾ [البینۃ۷]

’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ۔‘‘

یہ عام خطاب ہے ؛ جو کہ ہر اس انسان کو شامل ہے جو ان صفات سے موصوف ہو۔تو پھر اس کو شیعہ کے ساتھ خاص کرنے کی کیا دلیل ہے ؟

اگر شیعہ کہیں : [اس لیے کہ ] ان کے سوا جتنے بھی لوگ ہیں ‘ وہ کافر ہیں ۔

تو ان سے کہا جائے گاکہ : اگر دوسرے لوگوں کا کفر کسی دلیل سے ثابت ہوتا تو تمہیں اتنے لمبے پاپڑ بیلنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اور اگر ایسا ثابت نہیں ہوسکتا تو پھر تمہیں تمہاری دلیل کسی کام نہ آئی۔اس لیے کہ نقل کے اعتبار سے یہ ثابت نہیں ہے۔ اور اگر کسی دوسری علیحدہ و جداگانہ دلیل سے ایسا ثابت بھی ہوجائے تو وہ اس آیت سے ثابت تصور نہیں ہوگا۔پھر اسی پر اعتما د کیا جائے گا۔

پانچویں بات:....یہ بات تواتر کے ساتھ معلوم ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما شیعان علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر دوسرے لوگوں سے محبت اور دوستی رکھتے تھے۔ حتی کہ آپ خوارج کے ساتھ بیٹھتے اور انہیں فتوی دیا کرتے تھے؛ اور ان سے مناظرہ بھی کیا کرتے تھے۔ اگر آپ کا اعتقاد یہ ہوتا کہ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ؛وہ صرف شیعہ ہی ہیں ؛او ران کے علاوہ جتنے بھی لوگ ہیں ؛سب کافر ہیں ۔ تو پھر آپ کبھی بھی ایسا نہ کرتے۔ اور ایسے ہی بنو امیہ کے ساتھ آپ کا برتاؤ اور سلوک ایک کھلی ہوئی دلیل ہے کہ آپ انہیں کافر نہیں سمجھتے تھے۔

اگر شیعہ کہیں کہ : ہم شیعہ کے علاوہ باقی لوگوں کو کافر تو نہیں کہتے ؛ لیکن ہم کہتے ہیں : شیعہ خیر البریہ ہیں ۔

[جواب]: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہی خیر البریہ ہیں ۔اگر تم یہ کہتے ہو کہ شیعہ کے علاوہ کوئی دوسرا اس آیت کے حکم میں داخل نہیں ؛ پھر دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں : یا تو تم کہو کہ وہ کافر ہیں ۔ یا پھر کہو کہ وہ فاسق ہیں ۔اس لیے کہ ان کا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوتا جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ؛ اگرچہ ان کا نام اہل ایمان میں داخل ہے۔وگرنہ جو کوئی اہل ایمان میں سے ہو‘اور وہ فاسق بھی نہ ہو تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ۔‘‘ 

اگر تم کہو کہ : وہ فاسق ہیں ۔

تو جواب میں کہا جائے گا کہ : اگر ان کا فسق ثابت ہوجائے تو پھر تمہارے لیے حجت کافی ہوگئی۔اور اگر ان کا فسق ثابت نہیں ؛ تو پھر تمہیں اس استدلال سے کوئی فائدہ نہیں ۔ تم تمام گروہوں میں سے جس کے بارے میں بھی فاسق ہونے کا کہو گے تو وہ ثابت کریں گے کہ آپ کئی ایک وجوہ کے اعتبار سے فسق میں ان سے کئی درجے آگے ہو۔ پھر تمہارے پاس اپنے دفاع میں کوئی ایک بھی صحیح دلیل موجود نہ ہوگی۔

فسق تمہارے بہت زیادہ جھوٹ بولنے ؛ فحاشی کا ارتکاب کرنے اور ظلم و ستم کرنے کی وجہ سے تم پر غالب ہے۔ تمہارے مخالفین خوارج اور دوسرے لوگوں کی نسبت تم میں بہت زیادہ فسق پایا جاتا ہے۔بنو امیہ میں شیعہ کی نسبت جھوٹ؛ فحاشی اور ظلم بہت ہی کم پایاجاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض شیعہ میں زھد ؛ صداقت اور دینداری پائی جاتی ہے ؛ یہی حال سارے فرقوں کا ہے۔ اور اگر اور کچھ بھی نہ ہوتا تو خوارج کی یہی خوبی کافی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں خبر دی تھی :

’’ تم میں سے کوئی ایک ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو اور ان کے روزہ کے مقابلہ میں اپنے روزہ کو حقیر سمجھے گا۔‘‘[یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے ] ۔

[ تو پھر روافض کو خوارج سے کیا نسبت ؟]

چھٹی بات:....اللہ تعالیٰ نے اس [تمہاری مذکورہ بالا استدلال والی آیت ] سے پہلے فرمایا ہے:

﴿اِِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ

’’بیشک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ لوگ بدترین خلائق ہیں ۔‘‘

پھر اس کے بعد فرمایا:

﴿ اِِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِ

’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں ۔‘‘

اس سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ مشرکین اور کفاراہل کتاب سے ہٹ کر کوئی دوسرے لوگ ہیں ۔قرآن میں بہت سارے مقامات پر ایمان لانے والوں او رنیک اعمال کرنے والوں کا ذکر کیاگیا ہے۔یہ تمام مقامات عام ہیں ۔ توپھراس طرح کی باقی آیات کوچھوڑ صرف خاص طور پر اس آیت سے استدلال کرنے کی کیا وجہ ہے ؟

صفحہ 2 از 3