امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تینتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تینتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

روافض یا ان کے علاوہ دوسرے اہل ہوی اور کافر لوگوں کااور ان کے علاوہ بہت سارے گمراہ فرقوں جیسے خوارج اور معتزلہ کا بھی یہی دعوی ہے کہ وہ ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کررہے ہیں ۔ جیسا کہ یہود ونصاری کا دعوی ہے :

﴿وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ oبَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ﴾ [البقرۃ ۱۱۱۔۱۱۲]

’’کہتے ہیں جنت میں یہود و نصاری کے سوا اور کوئی نہ جائے گا یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو ۔سنو جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔بیشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی۔‘‘

پس یہ حکم عام ہے ؛ جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی رضا کے لیے عمل کرے گا [وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہوگا] عمل صالح وہی ہوتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہو۔اور اسلام اپنے ارادہ و قصد میں اخلاص اور اپنے آپ کو اللہ کے لیے کر لینے کا نام ہے۔


صفحہ 3 از 3