اہلِ عمان اور بحرین کا ارتداد
علی محمد الصلابیاہل عمان کا ارتداد
اہلِ عمان نے اسلامی دعوت قبول کی اور رسول اللہﷺ نے ان کی طرف حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بھیجا پھر آپؓ کی وفات کے بعد لقیط بن مالک الازدی ان میں اٹھا، جس کا لقب ذوالتاج تھا اور یہ دور جاہلیت میں شاہ عمان جلندی کے ہم پلہ سمجھا جاتا تھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 334)
اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور عمان کے جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ یہ عمان پر قابض ہو گیا اور جلندی کے دونوں بیٹوں، جیفر اور عباد کو مغلوب کر لیا.
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 334)
اور انہیں ساحلی اور پہاڑی علاقہ میں محصور کر دیا۔ جیفر نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سے باخبر کیا اور مدد طلب کی۔ سیدنا ابوبکرؓ نے ان کے پاس دو امیر بھیجے، ایک حذیفہ بن محصن غلفانی حمیری اور دوسرے عرفجہ بارقی ازدی۔ حذیفہ کو عمان کی طرف اور عرفجہ کو مہرہ کی طرف روانہ کیا۔ ان دونوں کو حکم فرمایا کہ دونوں ایک ساتھ ہو کر اولا عمان جائیں اور حذیفہ بحیثیت امیر ہوں گے اور جب مہرہ کے علاقہ میں پہنچیں تو عرفجہ امیر ہوں گے اور ان کی مدد کے لیے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔ سيدنا ابوبکر صديق رضی اللہ عنہ نے عرفجہ اور حذیفہ کو لکھا کہ عمان پہنچ کر حضرت عکرمہؓ کی رائے پر عمل کریں۔ یہ جب عمان پہنچے تو جیفر سے مراسلت کی اور ادھر لقیط بن مالک کو اسلامی لشکر کے پہنچنے کی خبر ملی وہ اپنی فوج لے کر مقابلہ کے لیے نکلا اور دبا کے مقام پر فروکش ہوا، دبا اس ملک کا شہر اور مرکزی بازار تھا۔ عورتوں، بچوں اور مال و متاع کو اپنے پیچھے رکھا تاکہ اس سے جنگ میں تقویت ملے اور جیفر و عباد صحار کے مقام پر فروکش ہوئے اور سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ امراء کو مطلع کیا۔ وہ لوگ بھی مسلمانوں کے ساتھ آملے۔ دونوں افواج میں گھمسان کی جنگ ہوئی۔ مسلمانوں پر آزمائش کا وقت آیا۔ قریب تھا کہ بھاگ کھڑے ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے احسان فرمایا اور اس نازک گھڑی میں مدد نازل فرمائی، بنو ناجیہ اور بنو عبد القیس امراء کی ایک جماعت کے ساتھ پہنچ گئے۔ جب یہ لوگ پہنچے تو فتح و نصرت حاصل ہوئی اور مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور دس ہزار مقاتلین کو تہ تیغ کیا اور بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا، مال و بازار پر قبضہ کر لیا اور اس کا خمس عرفجہ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو روانہ کر دیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 335)
اس فتح عظیم کا سبب یہ بنا کہ عمان میں مسلمان اپنے امیر جیفر اور ان کے بھائی کے ساتھ ذوالتاج لقیط بن مالک ازدی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور محفوظ مقامات کو لازم پکڑا، یہاں تک اسلامی افواج ان سے جا ملیں اور اسی طرح بنو حدید، بنو ناجیہ اور بنو عبد القیس کا اسلام پر ثابت قدم رہنا اور مناسب وقت میں مسلمانوں کے ساتھ معرکہ میں شریک ہونا مسلمانوں کی فتح پر اثر انداز ہوا۔
(الثابتون علی الاسلام: صفحہ، 59/60)