Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل بحرین کا ارتداد

  علی محمد الصلابی

جب رسول اللہﷺ نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کے حاکم اور بادشاہ منذر بن ساوی عبدی کے پاس بھیجا تو وہ اور اس کی قوم سب مسلمان ہو گئے اور منذر نے لوگوں کے درمیان اسلام و عدل کو قائم کیا۔ منذر بن ساوی کا جواب یہ تھا: میں نے اس امر کے سلسلہ میں غور و فکر کیا جو میرے ہاتھ میں ہے تو میں نے دیکھا کہ یہ دنیا کے لیے ہے، آخرت کے لیے نہیں۔ میں نے جب آپﷺ کے دین کے بارے میں غور و فکر کیا تو اسے دنیا و آخرت دونوں کے لیے مفید پایا۔ لہٰذا دین کو قبول کرنے سے مجھے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ اس میں زندگی کی تمنا اور موت کی راحت ہے۔ کل مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا تھا جو اس کو قبول کرتے تھے اور آج ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو اس کو رد کرتے ہیں۔ آپﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ آپﷺ کی تعظیم و توقیر کی جائے۔

(التراتیب الاداریۃ: جلد 1 صفحہ 19)

جب رسول اللہﷺ وفات پا گئے اور آپﷺ کی وفات کے تھوڑے دنوں کے بعد منذر کا بھی انتقال ہو گیا تو بحرین کے لوگ مرتد ہو گئے اور منذر بن نعمان الغرور کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔

(حروب الردۃ: احمد سعید: صفحہ 146)

ماضی میں بحرین کا اطلاق کس سر زمین پر ہوتا تھا؟

سر زمین بحرین ایک تنگ پٹی ہے، جو ہجر کے ساتھ خلیج عرب کے ساحل پر واقع ہے، قطیف سے شروع ہو کر عمان تک پھیلی ہوئی ہے اور صحرائی علاقہ بعض کناروں پر سمندر سے ملتا ہے، اور یہ پٹی بالائی حصہ میں یمامہ سے جا ملتی ہے۔ دونوں کے درمیان ٹیلوں کا سلسلہ واقع ہے، جو ایک کو دوسرے سے جدا کرتے ہیں اور یہ ٹیلے نیچے ہیں جس کی وجہ سے پار کرنا آسان ہے۔

(حروب الردۃ: احمد سعید صفحہ 147)

لہٰذا ماضی میں بحرین کا اطلاق سعودی عرب کے مشرقی حصہ اور کویت کے علاوہ خلیج عرب کی دیگر امارتوں پر ہوتا تھا۔

(حروب الردۃ: احمد سعید: صفحہ 147)

بحرین میں فتنہ ارتداد کا قلع قمع کرنے میں وہاں کے ان مسلمانوں کا بڑا کردار رہا جو اسلام پر ثابت قدم رہے اور اس سلسلہ میں حضرت جارود بن معلی رضی اللہ عنہ نے اہم کردار ادا کیا، انہیں نبی کریمﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہوا اور دین کا علم حاصل کیا پھر اپنی قوم میں واپس آ کر انہیں اسلام کی دعوت دی، سب نے اسے قبول کیا بہت تھوڑے لوگ ایسے رہے جنہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ جب نبی کریمﷺ کی وفات ہو گئی تو بنو عبد القیس کے لوگ کہنے لگے: اگر محمدﷺ نبی ہوتے تو وفات نہ پاتے، اور پھر مرتد ہو گئے۔ سیدنا جارودؓ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپؓ نے سب کو جمع کیا اور ان سے خطاب کیا، فرمایا: اے بنو عبدالقیس! میں آپ لوگوں سے ایک سوال کرتا ہوں، اگر معلوم ہو تو جواب دینا اور اگر نہ معلوم ہو تو جواب مت دینا۔

لوگوں نے کہا: آپؓ جو چاہیں سوال کریں۔

فرمایا: کیا جانتے ہو کہ ماضی میں اللہ کے انبیاء رہے ہیں؟

کہا: ہاں۔

فرمایا: انہیں جانتے ہو یا انہیں دیکھ رہے ہو؟

کہا: ہم جانتے ہیں، دیکھتے نہیں۔

فرمایا: وہ کیا ہوئے؟

کہا: وفات پا گئے۔

فرمایا: تو محمدﷺ بھی وفات پا گئے جس طرح گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام وفات پا گئے اور میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔

یہ سن کر بنو عبد القیس کے لوگوں نے کہا: ہم بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور آپﷺ ہمارے آقا اور ہم میں سب سے افضل ہیں۔ پھر وہ اسلام پر ثابت قدم ہو گئے۔ حضرت جارود رضی اللہ عنہ کا یہ مؤقف قابل تعریف ہے، آپؓ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی قوم بنو عبد القیس کو ثابت قدم رکھا اور وہ اسلام پر ثابت قدم رہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے انبیائے سابقین علیہم السلام کی مثال بیان کرنے کا الہام کیا کہ جس طرح آخر میں انہیں موت آئی، اسی طرح رسول اللہﷺ کو بھی موت آئی۔ قوم کے لوگ مطمئن ہو گئے اور ان کا شک زائل ہو گیا۔ اس سے تفقہ فی الدین کی اہمیت اور خصوصیت نمایاں ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اعتقاد و سلوک کی سدھار میں اس کا کس قدر اثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب فتنہ رونماء ہوں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 97)

جواثا کی بستی اسلام پر قائم رہی، یہ پہلی بستی تھی جہاں مدینہ کے بعد پہلا جمعہ قائم کیا گیا جیسا کہ صحیح بخاری صفحہ 892 میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ مرتدین نے اس بستی کا محاصرہ کر لیا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ خور و نوش کی اشیاء بند کر دیں، سخت بھوک کا شکار ہوئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ مصیبت دور کی۔ بھوک کی شدت کا تذکرہ اور اس صورت کی عکاسی ان میں سے ایک شخص نے اپنے اشعار میں کی ہے جس کا نام عبداللہ بن حذف تھا، جس کا تعلق بنو بکر بن کلاب سے تھا:

ألا أبلغْ ابا بکر رسولًا

وفتیانَ المدینۃ اجمعینا

ترجمہ: کیا میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور مدینہ کے تمام سپوتوں کو پیغامبر نہ بھیجوں۔

فَہَلْ لکمُ الی قومٍ کرامٍ

قعود فی جواثا مُحْصَرِینا

ترجمہ: کیا آپ لوگوں کو ان اچھے لوگوں کی خبر ہے جو جواثا میں محصور پڑے ہیں۔

کان دمائَہُم فی کل فجٍّ

شعاع الشمس یُعشی النَّاظرینا

ترجمہ: ہر گلی کوچے میں ان کے خون، گویا کہ سورج کی شعاعیں ہیں جو دیکھنے والوں کی نگاہوں کو چکا چوند کر دیتی ہیں۔

توکلنا علی الرحمٰن إِنَّا

وجدنا النصر للمُتوکِّلینا

ترجمہ: ہم نے رحمن پر توکل کر رکھا ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ فتح و نصرت توکل کرنے والوں کے لیے ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 332)

ان مسلمانوں کے حق پر ثابت قدم رہنے کا یہ مؤقف قابل تعریف ہے جنہیں اعدائے اسلام نے جواثا میں محصور کر رکھا تھا، قریب تھا کہ وہ بھوک کی شدت سے ہلاک ہو جاتے اور عبداللہ بن حذف کے مذکورہ ابیات میں ان محصور مسلمانوں کے عمیق ایمان اور قوت توکل اور اللہ کی فتح و نصرت پر کامل یقین کی دلیل ہے۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 98)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا علاء بن حضرمیؓ کی قیادت میں بحرین ایک فوج روانہ کی اور جب یہ بحرین کے قریب پہنچے تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ اپنی قوم بنو سحیم کی ایک بھاری تعداد کے ساتھ آپؓ سے آملے اور اس علاقہ میں مسلمانوں کو ابھارا اور حضرت جارود بن معلی رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کے لوگوں کے ساتھ آپؓ کی مدد کی، اس طرح مسلمانوں کی ایک بڑی فوج اکٹھی ہو گئی جس کے ذریعہ سے سیدنا علاء رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے قتال کیا، اللہ نے اہل ایمان کی نصرت فرمائی۔ بحرین میں فتنہ ارتداد کا قلع قمع کرنے میں جن لوگوں نے حضرت علاءؓ کے ساتھ تعاون کیا ان میں سے سیدنا قیس بن عاصم مِنقری، سیدنا عفیف بن منذر اور سیدنا مثنیٰ بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہم سر فہرست تھے۔

(الثابتون علی الاسلام: صفحہ 63)