امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پینتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پینتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

ایسی آیات میں معیت سے یہ مراد نہیں لیا گیا کہ ہر بات میں ان کا انداز اختیار کرو یہاں تک کہ مباحات و ملبوسات میں بھی ان کی رفاقت کے دائرہ سے باہر نہ نکلو۔ جیسے کہا جاتا ہے: ﴿کُنْ مَعَ الْمؤمنین﴾’’ایمان والوں کے ساتھ ہوجاؤ۔‘‘ ﴿کُنْ مَعَ الْاَبْرَارِ﴾’’نیکوکاروں کے ساتھ ہوجاؤ۔‘‘ یعنی اس وصف میں ان کے شریک و سہیم بن جاؤ۔اس سے مراد یہ نہیں کہ آپ پرہر چیز میں ان کی اتباع واجب ہوگئی ہے۔ 

٭ ساتویں بات: اس سے کہا جائیگا: جب اس سے مراد یہ ہے کہ مطلق طور پر سچوں کے ساتھ ہوجاؤ ؛اس کی وجہ یہ ہے کہ سچائی تمام نیکیوں کی طرف راہ دکھاتی ہے ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے : ’’تم پر سچ بولنا واجب ہے۔ سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے۔‘‘پس اس صورت میں یہ وصف ہر اس انسان کے لیے ثابت ہوگا جو ان صفات سے موصوف ہو۔

٭ آٹھویں بات: ان سے کہا جائے گا کہ : اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم صادقین کا ساتھ دیں ۔ اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ جن کا سچا ہونا تمہیں معلوم ہو۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَاَقِیْمُوا الشَّہَادَۃَ لِلَّہِ ﴾ [الطلاق ۲]

’’اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جن کو تم جانتے ہو کہ وہ تم میں سے عدل والے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَہْلِہَا﴾ [النساء ۵۸]

’’اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچا ؤ۔‘‘

یہ نہیں فرمایا کہ تم جنہیں جانتے ہوں کہ وہ امانت کے اہل ہیں ۔نیز ارشادفرمایا:

﴿وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالَعَدْلِ﴾ [النساء ۵۸]

’’جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل اور انصاف سے فیصلہ کرو ۔‘‘

اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ جس کو تم عدل سمجھتے ہو۔ لیکن اس حکم کو وصف کے ساتھ معلق کیا ہے۔

ہم پر واجب ہوتا ہے کہ حسب ِ امکان صدق و عدالت اوراہل امانت اور عدل کی معرفت میں اجتہاد کریں ۔ ہمیں اس بارے میں علم الغیب کا مکلف نہیں ٹھہرایا گیا۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی انصاف کرنے کا حکم دیا گیا تھا؛ آپ نے فرمایا:

’’تم اپنا جھگڑا میرے پاس لاتے ہو اور ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی دلیل کو دوسرے سے عمدہ طریقے سے بیان کرنے والا ہو اور میں اس کے لیے فیصلہ کردوں ۔ اس بات پر جو میں نے اس سے سنی پھر میں جس کے لیے اس کے بھائی کا حق دلا دوں تو اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں ۔‘‘[صحیح مسلم:ج: دوم:ح۱۹۸۱۔]

٭ نویں بات : تصور کیجیے : اس سے مراد وہ لوگ ہوں ؛ جن کے سچا ہونے کا علم ہو۔ لیکن یہ علم بھی اس علم کی طرح ہوگا جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿فَاِِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ﴾ [الممتحنۃ۱۰]

’’اگر تم انہیں مؤمنات جان لو۔‘‘

ایمان سچائی سے زیادہ مخفی ہوتا ہے۔جب یہاں پر علم کی شرط رکھی گئی ہے ؛ تو پھر جیسے یہاں پر یہ بات کہنا ممتنع ہے کہ معصوم کے علاوہ کسی کو یہ علم حاصل نہیں ہوسکتا ؛ ایسے ہی یہ بات کہنا بھی جائز نہیں کہ امام معصوم کے علاوہ کسی کا سچا ہونا معلوم نہیں ہوسکتا۔

٭ دسویں بات: تصور کیجیے : اس سے مراد : صدق کا علم ہمیں حاصل ہوگیا؛ لیکن یہ کہا جائے گا کہ : بیشک ابو بکر و عمر اور عثمان اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم جن کی صداقت معلوم ہے؛ اور جوعمداً جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے ؛ اگرچہ ان سے خطاء یا بعض گناہوں کا سرزد ہونا جائز ہوسکتا ہے ؛جب کہ جھوٹ توبلا ریب بہت بری چیز ہے ؛اس لیے کہ علمائے کرام رحمہم اللہ کے ایک قول کے مطابق صرف ایک جھوٹ بولنے کی وجہ سے گواہی رد کی جاسکتی ہے۔ اور امام احمد سے بھی دو روایتوں میں سے ایک یہی ہے ۔ اس بارے میں ایک مرسل حدیث بھی روایت کی گئی ہے۔تو ہم یقینی طور پر اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی جان بوجھ کر کسی حال میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولتا تھا۔اور ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ ہم جھوٹ کا منفی ہونا صرف اس کے بارے میں جان سکتے ہیں جس کے بارے میں ہمیں یقینی طور پر علم ہو کہ معصوم مطلق ہے۔ بلکہ بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اگر آپ پرکھیں گے تو پتہ چلے گا کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے۔ اگرچہ اس سے غلطیاں بھی ہوتی ہوں ؛ اور بعض دوسرے گناہ بھی سر زد ہوتے ہوں ۔ اور ہم یہ بات بھی تسلیم نہیں کرتے کہ جو کوئی معصوم نہیں وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے ۔

یہ بات خلاف واقع ہے۔اس لیے کہ عمداً جھوٹ صرف وہی انسان بول سکتا ہے جو لوگوں میں سب سے زیادہ برا ہو۔ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولتا ہو۔

اہل علم حضرات جیسے : مالک ؛شعبہ ؛ یحی بن سعید ؛ثوری؛ شافعی؛اوراحمد بن حنبل رحمہم اللہ جیسے لوگ یقینی طور پرجان بوجھ کر کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے تھے؛ نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور نہ ہی کسی دوسرے پر۔تو پھر ابن عمر ؛ ابن عباس اور ابوسعید رضی اللہ عنہم جیسے لوگوں کے متعلق ہم کیا کہہ سکتے ہیں ؟

٭ گیارھویں بات : اگریہ تسلیم کرلیا جائے کہ اس سے مراد معصوم ہی ہے ؛ تو پھر بھی ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے عصمت کی نفی پر اجماع کو تسلیم نہیں کرتے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا جاچکا ہے ۔بیشک بہت سارے وہ لوگ جو کہ رافضہ سے درجہا بہتر ہیں ؛ وہ اپنے شیوخ کے متعلق بھی اسی قسم کے دعوے کرتے ہیں ؛ اگرچہ انہوں نے اس عبارت میں تھوڑی سی تبدیلی کردی ہے۔ ہم ان کی عصمت کو بھی باقی لوگوں سے عصمت کی نفی کے ساتھ تسلیم نہیں کرتے ۔ اگر عصمت ہوگی تو سب کے لیے اور اگر اس کی نفی کی جائے گی تو سب سے نفی کی جائے گی۔


صفحہ 2 از 2