Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی کرامت

  علی محمد الصلابی

سیدنا علاء رضی اللہ عنہ کا شمار علمائے عباد اور مستجاب الدعوات صحابہ میں ہوتا ہے۔ اس غزؤہ میں آپؓ نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا،

(طبقات ابن سعد جلد 4 صفحہ 363)

رات کا وقت تھا اونٹ تمام سازو سامان کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے، لوگ ایک اونٹ کو بھی نہ پکڑ سکے، لوگوں کے پاس جسم کے کپڑوں کے سوا کچھ نہ رہا۔ لوگوں کو بے حد غم و پریشانی لاحق ہوئی اور ایک دوسرے کو وصیت کرنے لگے۔ حضرت علاء رضی اللہ عنہ کی طرف سے منادی نے نداء دی اور جب سب لوگ جمع ہو گئے تو سیدنا علاءؓ نے فرمایا: لوگو! کیا آپ لوگ مسلمان نہیں؟ کیا آپ اللہ کی راہ میں نہیں؟ کیا آپ اللہ کے انصار نہیں؟

لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور۔

فرمایا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ آپ جیسے لوگوں کو رسوا نہیں کرتا۔

طلوع فجر کے بعد صبح کی اذان ہوئی، آپؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز ختم ہو گئی، آپؓ اپنے دونوں گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور لوگ بھی گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے اور آہ وزاری کے ساتھ دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا میں لگ گئے، لوگوں نے بھی اسی طرح کیا، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، لوگ سورج کی شعاؤں کی طرف دیکھنے لگے، یکے بعد دیگرے شعاعیں بڑھتی رہیں اور آپؓ برابر دعا میں لگے رہے۔ جب تیسری ساعت کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی قریب ہی شیریں پانی کا ایک بڑا تالاب پیدا کر دیا پھر آپؓ اور لوگوں نے اس تالاب کے پاس جا کر پانی نوش کیا اور غسل کیا اور جب سورج بلند ہوا تو ہر جانب سے اونٹ اپنے تمام سازو سامان کے ساتھ واپس آ گئے۔ لوگوں نے اپنے سامان میں سے ایک دھاگا بھی غائب نہیں پایا پھر اونٹوں کو خوب پانی پلایا، لوگوں نے اس سریہ میں اللہ کی نشانیاں کا مشاہدہ کیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 333)