Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مرتدین کی شکست

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا علاء رضی اللہ عنہ مرتدین کے لشکر سے قریب ہوئے جنہوں نے بہت سے لوگوں کو جمع کر رکھا تھا تو لشکروں نے قریب قریب پڑاؤ ڈالا، رات کے وقت حضرت علاءؓ نے مرتدین کے لشکر میں شور وغل سنا، لوگوں سے کہا: کون ان لوگوں کی خبر لے کر آئے گا؟ عبداللہ بن حذف تیار ہوئے اور ان میں گھس گئے، دیکھا وہ لوگ شراب پی کر مست ہیں۔ واپس آ کر خبر دی۔ سیدنا علاء رضی اللہ عنہ نے فوراً فوج لے کر ان پر چڑھائی کر دی اور انہیں خوب اچھی طرح قتل کیا، بہت کم لوگ بھاگ سکے، ان کے تمام مال ومتاع پر مسلمان قابض ہو گئے اور بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا۔ حطم بن ضبیعہ جو بنو قیس بن ثعلبہ کے سرداروں میں سے تھا، سویا ہوا تھا۔ اچانک مسلمانوں کے حملے سے خوف زدہ ہو کر بیدار ہوا، گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنا چاہا لیکن اس کی رکاب ٹوٹ گئی، کہنے لگا:

کوئی ہے جو میری اس رکاب کو درست کر دے؟

رات کے اندھیرے میں ایک مسلمان نے کہا: میں درست کرتا ہوں،اپنا پاؤں تو اٹھاؤ۔

جب اس نے اپنا پاؤں اٹھایا تو اس نے تلوار سے اس کا پاؤں کاٹ دیا۔

اس نے کہا: اب مجھے ختم ہی کر دو۔

مسلمان نے کہا: میں ایسا نہیں کرتا۔

وہ سواری سے گر پڑا، جو بھی اس کے پاس سے گزرتا اس سے کہتا: مجھے قتل کر دو۔ کوئی بھی اس کو قتل کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا یہاں تک کہ اس کے پاس سے قیس بن عاصم کا گزر ہوا۔

اس نے کہا: میں حطم ہوں مجھے قتل کر دو۔

قیس نے اسے قتل کر دیا، بعد میں جب دیکھا کہ اس کا پاؤں کٹا ہوا ہے تو اس کو قتل کرنے پر نادم ہوئے اور کہا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو اسے اسی حالت میں چھوڑ دیتا، اس کو حرکت تک نہ دیتا۔ پھر مسلمانوں نے بھاگنے والوں کا پیچھا کیا اور ہر موقع اور راستہ پر ان کو قتل کرنے لگے۔ جو لوگ بھاگنے میں کامیاب ہوئے انہوں نے کشتیوں پر سوار ہو کر دارین میں جا کر پنا لی۔ (دارین بحرین کی ایک بستی کا نام ہے)

ادھر حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت تقسیم کرنا شروع کیا، جب مال غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہوئے، مسلمانوں سے کہا: چلو ہم دارین چلتے ہیں تا کہ اعدائے اسلام سے وہاں قتال کریں۔ جلدی سے لوگ تیار ہو گئے۔ انہیں لے کر آپؓ روانہ ہوئے، سمندر کے ساحل پر پہنچے، کشتیوں پر سوار ہونا چاہا، دیکھا مسافت بعید ہے، کشتیوں کے ذریعہ سے وہاں جلدی نہیں پہنچا جا سکتا اور اتنے میں دشمن بھاگ جائیں گے۔ گھوڑے کے ساتھ سمندر میں کود پڑے اور یہ ذکر کرتے رہے:

یا ارحم الراحمین یا حکیم یا کریم یا احد یا صمد یا حی یا قیوم یا ذالجلال والاکرام لا الہ الا انت یا ربنا

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 333)

اور لشکر کو بھی حکم دیا کہ یہ ذکر کرتے رہیں اور سمندر میں گھس جائیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، اللہ کے حکم سے انہوں نے اسلامی فوج کو لے کر خلیج کو اس طرح پار کیا کہ گویا نرم ریت پر چل رہے ہوں، جس کے اوپر پانی ہو جو اونٹوں کے کھر اور گھوڑوں کے گھٹنوں تک نہ پہنچے۔ اس کی مسافت کشتیوں کے ذریعہ سے ایک دن اور رات کی تھی لیکن اسلامی فوج ایک دن میں جا کر واپس بھی آ گئی اور دشمن میں سے کسی کو خبر پہنچانے والا بھی نہ چھوڑا اور مال اور چوپائے اور عورتوں اور بچوں کو لے کر واپس ہوئے۔ سمندر میں مسلمانوں کی کوئی چیز غائب نہ ہوئی۔ صرف ایک مسلمان کے گھوڑے کا توبڑہ رہ گیا تھا، لیکن حضرت علاء رضی اللہ عنہ اسے بھی لوٹ کر واپس لے آئے۔ پھر مال غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا، فوج کی کثرت کے باوجود شہسواروں کو چھ ہزار اور پیادہ کو دو ہزار ملے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اس فتح و نصرت سے مطلع کیا۔ آپؓ نے ان کے اس کارنامے پر شکریہ ادا کیا۔

عفیف بن منذر نے سمندر میں سے گزرنے کا واقعہ ان اشعار میں بیان کیا ہے:

الم تر أنَّ اللہ ذَلَّلَ بَحْرَہٗ

وأنْزَلَ بالکفار إِحْدَی الجلائلِ

ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو تابع کر دیا اور کفار پر عظیم مصیبت نازل فرمائی۔

دَعَوْنا الی شقِّ البِحارِ فجائَ نا

باعجب من فَلْقِ البِحار الاوائل

ترجمہ: ہم نے سمندر کو پھاڑنے کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے زمانہ قدیم میں سمندروں کو پھاڑنے سے زیادہ عجیب وغریب چیز رونماء کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 334)

سیدنا علاءؓ کی ان کرامتوں کا مشاہدہ مسلمانوں کے ساتھ ہجر کے ایک راہب نے بھی کیا اور وہ اس کے بعد فوراً مسلمان ہو گیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تم نے کیوں اسلام قبول کیا؟ تو اس نے کہا: مجھے خوف لاحق ہوا کہ اگر میں ایسا نہ کروں گا تو اللہ تعالیٰ میری شکل مسخ کر دے گا کیونکہ میں نے آیات و کرامات کا مشاہدہ کر لیا ہے اور میں نے فضا میں سحر کے وقت ایک دعا سنی ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا وہ کون سی دعا تھی؟ اس راہب نے کہا: وہ دعا یہ تھی:

اللہم انت الرحمن الرحیم، لا الہ غیرک، والبدیع لیس قبلک شیئٌ، والدائم غیر الغافل، والذی لا یموت، وخالق ما یری وما لا یری، وکل یوم انت فی شان، وعلمت اللہم کل شیء علما۔

اس سے میں نے یہ جان لیا کہ ملائکہ کے ذریعہ سے ان لوگوں کی مدد اسی لیے کی گئی ہے کہ یہ اللہ کے دین پر قائم ہیں پھر اس کا اسلام پختہ ہو گیا اور وہ صحابہؓ اس کی باتیں سنتے تھے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 334)

مرتدین کی شکست کے بعد حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ بحرین واپس ہوئے۔ اسلام نے جڑ پکڑ لی، اسلام اور اہلِ اسلام کو قوت و عزت ملی اور شرک اور مشرکین ذلیل و خوار ہوئے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 105)

اگر مرتدین کے حق میں خارجی دخل اندازی نہ ہوتی تو طویل عرصہ تک مرتدین مسلمانوں کے مقابلہ میں مؤقف اختیار کرنے کی جرأت نہ کرتے لیکن اہل فارس نے مرتدین کو نو ہزار مقاتلین کی امداد بھیجی۔ عرب مرتدین کی تعداد تین ہزار تھی اور مسلمانوں کی تعداد چار ہزار تھی۔

(فتوح ابن اعثم: صفحہ 47 بحوالہ الثابتون علی الاسلام: صفحہ 64)

بحرین میں فتنہ ارتداد کی آگ بجھانے میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے بہت بڑا کردار ادا کیا۔ اپنی فوج کے ساتھ سیدنا علاء بن حضرمیؓ کا ساتھ دیا، اپنی فوج کے ساتھ بحرین سے شمال کی طرف روانہ ہوئے، قطیف اور ہجر پر قبضہ جمایا اور دجلہ کے دہانے تک پہنچ گئے۔ اپنے اس مشن میں لگے رہے، یہاں تک کہ فارسی فوج اور ان کے عمال پر غالب آئے جنہوں نے بحرین کے مرتدین کی مدد کی تھی۔ مرتدین سے قتال کے لیے ان علاقوں میں جو لوگ اسلام پر ثابت قدم رہے تھے انہیں لے کر حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ساحل کے ساتھ شمال کی طرف بڑھتے رہے، یہاں تک کہ دجلہ و فرات کے ڈیلٹا میں آباد عرب قبائل کے پاس پہنچ گئے، ان سے بات چیت کر کے ان سے معاہدہ کر لیا اور جس وقت خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا قیس بن عاصم مِنْقری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کوئی غیر معروف، مجہول النسب اور غیر شریف انسان نہیں، وہ تو سیدنا مثنیٰ بن حارثہؓ شیبانی ہیں۔

(فتوح البلدان للبلاذری: صفحہ 242 بحوالہ ابوبکر الصدیق: خالد جاسم: صفحہ 44)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ کے لیے حکم صادر فرمایا کہ وہ عراق میں عربوں کو اسلام کی دعوت جاری رکھیں۔ سیدنا مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جو کارنامے انجام دیے، انہیں حضرت ابوبکرؓ نے فتح عراق کے سلسلہ میں پہلا قدم قرار دیا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اسلامی فوج کی قیادت کے لیے وہاں بھیج کر فیصلہ کن قدم اٹھایا۔

(ابوبکر الصدیق: صفحہ 44 خالد الجنابی، نزار الحدیثی)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے طاقتوں کو تیار کرتے اور ہمتوں کو برانگیختہ کرتے تا کہ اچھے اور بلند نتائج حاصل ہوں اور لوگوں کے اندر پوشیدہ قوتوں کو کام میں لاتے اور ان کو اس طغیان اور سرکشی کو کچلنے کے لیے تیار کرتے جس نے زعمائے کفر و طغیان کے سروں میں بسیرا کر رکھا تھا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 98)