Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سینتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سینتیسویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کے منصب امامت پر فائز ہونے کی سینتیسویں دلیل یہ آیت ہے: 

﴿ وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَہْلِیْ﴾ (طٰہ:۲۹) ’’اور میر گھر والوں میں سے میرا وزیر بنادے۔‘‘

ابو نعیم حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں میرا اور علی کا ہاتھ پکڑا اور چار رکعت نماز ادا کی۔پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگی:’’ اے اللہ ! حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے بھی تجھ سے دعا کی تھی اور میں تیرا نبی محمد بھی تجھ سے دعا کرتا ہوں :’’اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں ۔اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیربنا دے۔ میرے کنبہ میں سے علی رضی اللہ عنہ کو میرا وزیر مقرر کردے اس کے ساتھ میری کمر کو مضبوط کر دے اور اسے میرے کام میں شریک کردے۔‘‘ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے ایک پکارنے والے کو سنا وہ پکارتا تھا۔‘‘ اے احمد! آپ کی دعا قبول ہوئی۔‘‘یہ روایت اپنے باب میں نص صریح ہے ۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]

[جواب]:پہلی بات:ہم اس حدیث کی صحیح سند پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔جیسا کہ پہلے بھی گزر چکا۔

٭ دوسری بات:ہم کہتے ہیں : محدثین کے نزدیک بالاتفاق اس حدیث کا موضوع ہونا ایک کھلی ہوئی بات ہے۔بلکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بد ترین جھوٹ ہے۔

٭ تیسری بات: یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے؛ توپہلے کا ایک عرصہ تو ابن عباس پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ابن عباس کی پیدائش اس وقت ہوئی جب بنو ہاشم شعب ابی طالب میں محصور تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما ہجرت سے قبل مکہ میں ایک شیر خوار بچہ سے زیادہ نہ تھے۔ابھی آپ اس قابل نہیں تھے کہ وضوء کرتے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے۔[ پھر وہ اس واقعہ میں کیوں کر شریک ہو سکتے ہیں ؟]۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاانتقال ہوا تو ابن عباس ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ ہجرت کے وقت آپ کی زیادہ سے زیادہ عمر پانچ سال سے بھی کم تھی۔ایسے بچے کو نہ ہی وضوء کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور نہ ہی نماز پڑھنے کا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کاحکم دو۔اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے سزا دو۔ اور ان کے بستر علیحدہ علیحدہ کردو۔‘‘ [سنن أبي داؤد ۱؍۱۹۳]

جوبچہ اس عمر کا ہو؛ وہ نماز کی سمجھ نہیں رکھتا؛ اورنہ ہی تلقین کے بغیر اس طرح کی دعا حفظ کرسکتا ہے۔صرف ایک بار سن لینے کی وجہ سے ایسی چیزیں حفظ نہیں ہوجاتی۔

٭ چوتھی بات : انہوں نے اس سے پہلے اس آیت: ﴿اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ﴾ [المائدۃ ۵۵]

’’(مسلمانوں )تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اسکا رسول ہے۔‘‘کی تفسیر میں نماز میں انگوٹھی صدقہ کرنے کا واقعہ پیش کیا تھا؛ اس روایت میں بھی یہی تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی۔اور یہاں پر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مکہ میں اس واقعہ سے کئی سال پہلے کی تھی۔ اس لیے کہ پہلی دعا سورت مائدہ کی تفسیر میں ہے۔ جو کہ مدینہ میں نازل ہونے والی آخری سورت ہے ۔جب کہ پھلا واقعہ مکہ مکرمہ کا ہے۔ جب آپ نے یہ دعا مکہ میں کی تھی اور اسے شرف قبولیت بھی مل گیا تھا تو پھر اتنے سالوں بعد دوبارہ مدینہ طیبہ میں یہی دعا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔[[اہل منطق کی اصطلاح میں اسے تحصیل حاصل کہتے ہیں ؛ جو کہ عام انسان کے حق میں بھی ممنوع ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق میں اسے کیسے تصورکیا جاسکتا ہے ۔ [ دراوی کشمیری]]

٭ پانچویں بات: قبل ازیں ہم اس دعوی کے بطلان پر دلائل دے چکے ہیں ۔ بلا شبہ یہ کلام کئی اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت بڑا جھوٹ باندھا گیا ہے۔لیکن یہاں پر انہوں نے کچھ چیزیں ایسی زیادہ کی ہیں جو پھلے گزری ہوئی دعا میں نہیں تھیں ۔یہاں پر انہوں نے دعا میں یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں :’’ اسے میرے کام میں شریک کردے۔‘‘یہ صراحت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ اس کام میں شریک تھے۔ جیسے ہارون حضرت موسیٰ کیساتھ شریک تھے، یہ ان لوگوں کا قول ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی مانتے ہیں ۔یہ صریح کفر ہے ؛ یہ امامیہ کا قول نہیں ؛بلکہ غالیہ کا قول ہے۔

کسی معاملہ میں شریک وہ نہیں ہوتا جو کہ بعدمیں خلیفہ بنے۔اس لیے کہ شیعہ آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امامت کے دعویدار ہیں ۔جب کہ اس کا مطلب آپ کے ساتھ زندگی میں آپ کے امور میں شراکت ہے۔امامیہ اگرچہ نبوت میں آپ کے ساتھ کسی کی شراکت کا کہنے والوں کو کافر کہتے ہیں ؛لیکن اس کے باوجود اہل سنت والجماعت کی مخالفت ؛ اولیاء اللہ سے بغض و عداوت اور ان کے بارے میں کافر اور مرتد ہونے کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے ؛ انہی لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں جو کفر و گمراہی کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔اور انہوں نے اصل دین کو پس پشت ڈال دیا ہے۔یہ ان ہی گمراہوں اور کفار کے مقال و رجال میں اضافہ کرتے ہیں ۔ گویا وہ اس مثل کے مصداق ہیں :

’’ رَمَتْنِیْ بِدَائِہَا وَانْسَلَّتْ ۔‘‘’’وہ اپنی بیماری مجھ پر پھینک کر کھسک گئی۔‘‘

٭ اس رافضی کذاب نے یہ دعوی کیا ہے کہ : ’’یہ روایت اس باب میں نص کا درجہ رکھتی ہے ۔‘‘

٭ تو اس رافضی شیطان سے پوچھا جائے گا: اے احمق انسان! کیا یہ نص اس بات پر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے امورمیں آپ کی زندگانی میں شریک تھے ؛ جیسے ہارون علیہ السلام موسی علیہ السلام کے ساتھ شریک تھے ؛ کیا تم اس نص کے بموجب یہی عقیدہ رکھتے ہو؟ یا پھر تم بھی جھوٹی روایات اور باطل حکایات کا سہارا لیکر کوئی نئی چیز گڑھ رہے ہو؟