Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل یہ آیت کریمہ ہے:

﴿ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْنَ﴾ (الحجر:۴۷)

’’ وہ بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔‘‘

مسند احمد میں حضرت زید بن ابی اوفیٰ سے مروی ہے کہ میں مسجد نبوی میں پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مواخات کا واقعہ بیان کیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’میری روح چلی گئی ؛ اور میری کمر ٹوٹ گئی ؛ جب آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ بیشک یہ مجھ پر اللہ کی ناراضگی کے سبب سے ہے ۔ اور آپ کے لیے آخرت میں عزت و کرامت ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا! میں نے تجھے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ) اپنے لیے منتخب کیا ہے آپ کو مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھا‘ البتہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں کیا جائے گا۔‘‘

آپ میرے بھائی اور وارث ہیں آپ جنت کے محل میں میرے ہم راہ ہوں گے۔ اور وہاں میری بیٹی فاطمہ بھی ہو گی۔ تم میرے بھائی اور میرے دوست ہو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْن﴾آپٍ کی وجہ سے محبت کرنے والے ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ۔ مؤاخات مناسبت اور مجانست کو چاہتی ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے مواخات (بھائی چارہ) کے لیے مختص کیا تھا۔ لہٰذا آپ ہی امام ہوں گے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]

[جواب]:

٭ پہلی بات: ہم اس روایت کی صحیح سند پیش کرنے کامطالبہ کرتے ہیں ۔

ہم کہتے ہیں کہ یہ روایت مسند احمدمیں ذکر نہیں کی گئی۔اور نہ ہی امام احمد نے اسے روایت کیا ہے۔نہ ہی مسند میں اور نہ ہی الفضائل میں ۔اور نہ ہی آپ کے بیٹے نے یہ روایت نقل کی ہے۔ رافضی مصنف کا یہ کہنا کہ یہ روایت مسند أحمد میں ہے ‘ امام احمد بن حنبل پر ایک کھلا ہوا جھوٹ اور بہتان ہے۔ بلکہ یہ روایت بھی القُطیعی کے اضافات سے ہے جس میں باتفاق اہل علم جھوٹ اور موضوعات کی بھر مار ہے۔ القطیعی نے اپنی سند سے زید بن ابی اوفیٰ سے روایت کیا ہے۔

اس کی سند یوں ہے : عن عبدِ اللّٰہِ بنِ محمدِ بنِ عبدِ العزِیزِ البغوِیِ، حدثنا حسین بن محمد الذارِع، حدثنا عبد المؤمِنِ بن عباد، حدثنا یزِید بن معن، عن عبدِ اللہِّٰ بنِ شرحبِیل، عن زیدِ بنِ أبِی أوفی۔‘‘ 

نیز اس رافضی نے اس روایت کے پورے الفاظ بھی ذکر نہیں کیے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں جو رافضی نے قصداً حذف کردیے ہیں ۔جب آپ نے فرمایا:’’آپ میرے بھائی اور وارث ہیں ‘‘تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ سے ورثہ پاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: ’’وہی ورثہ جو انبیاء سابقین دوسروں کو دیا کرتے تھے۔آپ سے پوچھا گیا: پہلے کے انبیاء دوسروں کو کیا ورثہ دیتے تھے ؟ توآپ نے فرمایا: ’’کتاب اللہ اور سنت رسول۔‘‘

یہ اسناد ظلم و جہالت پر مشتمل ہے۔اس کے روایت کرنے میں عبد المؤمن بن عباد راوی ہے جو کہ مجروحین میں سے ایک ہے۔ ابو حاتم نے اسے یزید بن معن سے روایت کرنے میں ضعیف قرار دیا ہے۔اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ یزید بن معن کون ہے۔ شائد کہ جس نے عبداللہ بن شرحبیل کی زبان پر اس روایت کو ایجاد کر لیا ہووہ کوئی مجہول ہو۔جوکہ قریش میں سے ایک آدمی سے روایت کرتا ہے ؛ او روہ آدمی زید بن ابی اوفی سے روایت کرتا ہے ۔

٭ دوسری بات : یہ روایت باتفاق محدثین و اہل علم کذب ہے۔

٭ تیسری بات: مہاجرین و مہاجرین اور انصار و انصار کے مابین مؤاخات کی تمام روایات جھوٹ ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مؤاخات قائم نہیں کی تھی ؛ اور نہ ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ کو عمر رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایاتھا۔یہ مواخات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کے درمیان قائم نہیں کی تھی، بلکہ مہاجر و انصار کے درمیان تھی۔جیسا کہ آپ نے عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ربیع کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ اور حضرت سلیمان الفارسی اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہم کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ایسے ہی حضرت علی اور حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔

مؤاخات کا واقعہ بنی نجار کے محلے میں پیش آیا تھا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ مسجد نبوی میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جیسے بعض جاہل لوگ موضوع روایت میں بیان کرتے ہیں ۔بلکہ یہ واقعہ بنی نجار کے محلے میں ان میں سے ایک آدمی کے گھر پر پیش آیا تھا۔یہی وہ مؤاخات ہے جس کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں ۔ عاصم بن سلیمان الاحول کہتے ہیں : میں نے انس سے کہا : میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

’’ اسلام میں کوئی حلف [اتحاد] نہیں ہے ۔‘‘توحضرت انس نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں قریش اور انصار کے درمیان اتحاد (یعنی بھائی چارہ] قائم کیا تھا ۔‘‘[رواہ البخاری ۳؍۹۶؛ ومسلم ۴؍۱۹۶۰ ]

٭ چوتھی بات : اس روایت کے یہ الفاظ آپ میرے بھائی اور میرے وارث ہیں ۔ درست نہیں ۔اہل سنت اور شیعہ کے قول کے مطابق یہ الفاظ باطل ہیں ۔کیونکہ اگر اس سے مالی وراثت مراد لی جائے تو ان کا یہ قول باطل ٹھہرے گا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ آپ کی وارث ہوئی تھیں ۔ ظاہر ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ موجود تھے توحضرت علی رضی اللہ عنہ چچا زاد بھائی ہونے کی صورت میں کیوں کر وارث ہو سکتے تھے؟ پھر یہ کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد اور بھی موجود تھے تو ان میں سے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کس طرح وارث قرار پا سکتے تھے؟جب کہ یہ سارے ایک ہی درجہ میں ہیں ۔

اگر علمی وراثت یا امامت و خلافت مراد ہے تو شیعہ کا احتجاج آیت کریمہ:﴿وَ وَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاؤُدَ﴾ (النمل ۱۶) ’’اور سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث بنے ۔‘‘ 

اور آیت:﴿فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا٭ یَرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ﴾( مریم:۶) 

’’مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا کرجو میرا وارث اور آل یعقوب کا وارث بنے ۔‘‘ سے باطل ٹھہرا۔

جب لفظ وراثت میں دونوں چیزوں کا احتمال موجود ہے ؛ توممکن ہے کہ ان انبیائے کرام علیہم السلام سے بھی ایسے ہی وراثت ملی ہو جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وراثت ملی ۔

اہل سنت والجماعت یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علمی ورثہ عطا کیا تھا اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیض سب صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے عام تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ستر سورتیں یاد کی تھیں ۔[صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب القراء من اصحاب رسول اللّٰہ رضی اللّٰہ عنہم (ح۵۰۰۰)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل عبد اللّٰہ بن مسعود و امہ رضی اللّٰہ عنہما (حدیث:۲۴۶۲) ]

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ علم مال کی طرح کسی فرد بشر کے ساتھ مختص نہیں ہوتا بلکہ ایک کے حصہ میں جو ورثہ آتا ہے ، دوسرا بھی اس سے فیض یاب ہو سکتا ہے۔ دونوں میں تزاحم و تصادم کا کوئی امکان نہیں ۔ مال کا معاملہ اس سے یک سر مختلف ہے۔یہ ناممکن ہے کہ مال کی ایک ہی چیز دو آدمی برابر لے لیں ۔

٭ پانچویں بات : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی بھائی کہا ہے ۔بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام زید سے کہا:’’ آپ میرے بھائی اور مولیٰ ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الصلح، باب کیف یکتب ھذا ما صالح فلان....‘‘ (حدیث: ۲۶۹۹)، مطولاً۔]

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ان کی بیٹی کا رشتہ طلب کیا تھا توانہیں مخاطب کرکے فرمایا:

’’ میں آپ کا بھائی ضرور ہوں مگر تمہاری بیٹی میرے لیے حلال ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب تزویج الصغار من الکبار(حدیث:۵۰۸۱)، یہ مکالمہ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین ہے۔ واللّٰہ أعلم۔ ]

روایات صحیحہ میں آیا ہے کہ آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:

’’ اسلامی برادری سب سے بہتر ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، باب الخوخۃ والممر فی المسجد (حدیث: ۴۶۷، ۳۶۵۷)۔]

احادیث صحیحہ میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا:’’ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا ۔‘‘

صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟‘‘ فرمایا :نہیں ، تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ ہیں جومیرے بعد پیدا ہوں گے۔ وہ بلا دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔[صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ(حدیث:۲۴۹)۔]

مراد یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ایک بھائی چارے سے بھی بڑھ کر مخصوص چیز ہے یعنی صحبت ۔ اور ان کے لیے صحبت کے بغیر بھائی چارہ ہے۔اللہتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں :

﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ﴾ (الحجرات:۱۰)

’’بیشک سب مومن بھائی بھائی ہیں ۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لا تقاطعوا ؛ولا تدابروا،ولا تباغضوا،ولا تحاسدوا،وکونوا عباد اللّٰہِ إخواناً))[متفق علیہ]

’’ آپس میں قطع رحمی نہ کرو۔اور نہ ہی آپس میں حسد کرو،اور نہ ہی بغض رکھو،اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرو، اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الادب، باب ما ینھی عن التحاسد والتدابر (حدیث:۶۰۶۴)، صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظن(حدیث:۲۵۶۳) ]

نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک مسلم دوسرے مسلم کا بھائی ہوتا ہے؛ وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظالموں کے سپرد کرتا ہے۔‘‘ [البخاری باب لا یظلم المسلم المسلم....‘‘(ح:۲۴۴۲)، مسلم، باب تحریم الظلم(ح:۲۵۸۰)۔]

نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((والذي نفسي بیدہ ! لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ من الخیر ما یحب لنفسہ))۔[بخاری۱۳]

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی خیرنہ پسند کرے جسے وہ اپنے نفس کے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘

یہ تمام احادیث اور اس طرح کی دیگر روایات صحاح ستہ میں پائی جاتی ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلق مواخات کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بھائی چارہ قائم کرنے والوں میں کامل تماثل و تشابہ پایا جاتا ہے ۔ بنابریں اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ نبی کریم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی بنایا تھا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ سب سے افضل ہوں گے اورامام بھی۔‘‘

جب یہ بات صحیح ثابت ہوگئی ؛ تو پھر یہ کیوں کہا گیا کہ : اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مؤاخات والی حدیث اگر صحیح ثابت ہو جائے تواس کا مقتضی امامت اور افضلیت ہوتا ہے؟حالانکہ مؤاخات مشترکہ ہوتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو گہرا دوست بنانا چاہتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا؛ مگر تمہارا یہ ساتھی اللہ کا گہرا دوست ہے۔مسجد نبوی کی طرف کھلنے والی سب کھڑکیاں بند کردی جائیں مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کھلی رہے۔صحبت ورفاقت اور انفاق مال کے اعتبار سے ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے سب سے بڑے محسن ہیں۔‘‘[البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم’’لو کنت متخذا خلیلاً‘‘ (ح۳۶۵۸)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۲۳۸۲، ۶؍۲۳۸۳)۔]

اس حدیث میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ان خصائص کا اثبات ہے جن میں کوئی دوسرا آپ کا سہیم و شریک نہیں ۔اور یہ حدیث اس باب میں انتہائی صریح ہے کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب نہیں تھا۔اور نہ ہی کسی کا مقام و مرتبہ آپ سے بلند تھا۔ اور نہ ہی کسی کا درجہ آپ سے اونچا تھا۔ اور نہ ہی کسی کو آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر خصوصیت کا شرف حاصل تھا۔

حدیث صحیح میں منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا:

’’اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے کون آپ کو عزیز تر ہے؟ فرمایا:’’عائشہ رضی اللہ عنہا ۔‘‘

پھر پوچھا گیا : مردوں میں سے کون عزیز تر ہے ؟ آپ نے فرمایا: اس کا باپ یعنی حضرت ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ ۔‘‘

صحیحین میں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایاتھا :

’’ بلکہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب سے زیادہ آپ کو چاہتے تھے۔‘‘

یہ وہ احادیث ہیں جن کی صحت اور قبولیت پر اہل علم کا اتفاق ہے۔اہل علم میں سے کسی ایک نے بھی ان احادیث پر تنقید نہیں کی۔اس سے واضح ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے چہیتے اور تمام لوگوں میں سے اونچی شان کے مالک تھے۔لیکن اس کے باوجوداگر مؤاخات کادرجہ اس سے کم ہے ؛تو بھی ان کا آپس میں کوئی تعارض نہیں ۔

اور اگر اس کا مرتبہ اس سے اعلی ہے ؛ تویہ صحیح احادیث اس قسم کی مؤاخات کوجھٹلا رہی ہیں ۔ہمیں اس تعارض کے بغیر بھی اس مؤاخات کی روایت کے جھوٹا ہونے کا علم تھا۔

یہاں پر یہ بتانامقصود ہے کہ صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر محبوب تھے۔ اور باقی لوگوں کی نسبت آپ کا مقام و مرتبہ بھی زیادہ تھا؛ اس کے شواہد بہت زیادہ ہیں ۔

اسّی[۸۰] سے زیادہ افراد نے تواتر کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے کہ آپ نے [کوفہ کے منبر پر تقریر کرتے ہوئے ] فرمایا:

’’ امت محمدی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر عمر رضی اللہ عنہ ۔‘‘ [صحیح بخاری،حوالہ سابق، (حدیث:۳۶۶۲)، صحیح مسلم، حوالہ سابق، (حدیث: ۲۳۸۴)۔]

یہی بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شایان شان تھی کیونکہ آپ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے حق کاباقی صحابہ سے زیادہ علم رکھتے تھے۔اور اسلام میں ان کی قدرو منزلت اور دین میں حسن ِ تأثیر سے خوب شناسا تھے؛یہاں تک کہ آپ تمنا فرمایا کرتے تھے کہ :

’’وہ اللہ سے اس حال میں ملیں کہ ان کے اعمال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ہوں ۔‘‘ رضی اللہ عنہم ۔

امام ترمذی اور دوسرے محدثین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’[یہ دونوں انبیا و مرسلین کے علاوہ] جنت کے تمام ادھیڑ عمر لوگوں کے سردار ہیں ۔ اے علی !تم انہیں اس کی خبر نہ دینا۔‘‘[جامع ترمذی:ج۲: ح ۱۶۳۱ ؛ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔]

اگر ان صحیح احادیث کا مقابلہ پرندے والی روایت ؛ یا مؤاخات والی روایت سے کیا جائے توبلا شک و شبہ یہ احادیث باتفاق مسلمین ان کی نسبت صحیح تر ہوں گی۔ توپھر جب ان کے ساتھ دوسری صحیح احادیث بھی ملادی جائیں جن کے صحیح ہونے میں کسی کو بھی شک نہیں ؛ تو ان کا کیا کہنا ۔کثرت کے ساتھ متعدد دلائل کی روشنی میں ان کا علم رکھنے والے کے لیے لازمی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام میں سے سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب؛ اور عمر و عثمان و علی اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی نسبت سے افضل تھے۔جو بھی انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے احوال کی معرفت رکھتا ہواسے ضرور اس بات کا اعتراف رہے گا۔مذکورہ صدر نصوص احادیث صحیحہ کے بارے میں وہی شخص شک و شبہ کا شکار ہو سکتا ہے جسے صحیح اور ضعیف میں کوئی تمیز نہ ہو؛ [یاجو جاہل ہو یا جس پر بدعت کا غلبہ ہو]۔وہ یا توتمام احادیث کی تصدیق کرتا ہے یا پھر تمام احادیث میں توقف کرتا ہے ۔

جب کہ محدثین اور فقہاء بہت اچھی طرح سے [یہ بات ]جانتے ہیں ؛ ان کو بھی چھوڑیے ؛اس میں کوئی شک نہیں کہ امت کا ہر ایک سچا عالم و عابد اور زاہد حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تقدیم دینے میں یک زبان ہیں ۔

امام بیہقی رحمہ اللہ اپنی سند کے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

’’صحابہ و تابعین میں سے کسی نے بھی حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کو افضل الصحابہ قرار دینے میں اختلاف نہیں کیا۔‘‘[مناقب الشافعي للبیہقي ۱؍۴۳۴۔]

ایسے ہی دیگر علماء اسلام نے بھی اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔ جیسا کہ حضرت امام مالک اور ان کے اصحاب ، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ،امام احمد اور ان کے اصحاب، ثوری اور ان کے اصحاب، لیث اور ان کے اصحاب، اوزاعی اور ان کے اصحاب، اسحاق اور ان کے اصحاب، داؤد اور ان کے اصحاب اور ابن جریر اور ان کے اصحاب؛ ابو ثور اور ان کے اصحاب اور دیگر تمام مشہور ائمہ سلف و خلف رحمہم اللہ سب یہی نظریہ رکھتے ہیں ۔اگر کسی نے اختلاف کیا بھی ہوگا تو کوئی ایسا ہوگا جس کے قول کی دو ٹکے کی اہمیت نہ ہوگی ؛ اور نہ ہی کوئی اس کی بات سنتا و مانتا ہوگا۔

ہمیں اس بارے میں اہل فتوی میں سے کسی ایک کا بھی اختلاف معلوم نہیں ہوسکا۔سوائے حسن بن صالح بن حیّ کے ؛ان کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فضیلت دیتے تھے ۔ او ریہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ آپ پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔اگر یہ بات صحیح بھی ثابت ہوجائے ؛ تب بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے نقل کردہ اجماع پر کوئی قدح وارد نہیں ہوسکتی۔اس لیے کہ حسن بن صالح نہ ہی صحابہ میں سے تھے اور نہ ہی تابعین میں سے۔جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقدیم پر اجماع نقل کیاہے۔اگر حسن بن صالح نے ایسی کوئی بات کہی بھی ہوگی تو لاکھوں ائمہ میں سے کسی ایک کا غلطی کرجانا کوئی اچھوتی بات نہیں ہے۔

روافض میں کوئی ایسا عالم نہیں ہے جو علوم اسلامیہ میں سے کسی چیز میں امام ہو‘ نہ ہی علم حدیث میں نہ فقہ میں ؛ نہ تفسیر میں ؛ نہ ہی قرآن میں ۔بلکہ رافضیوں کے مشائخ یا تو بالکل جاہل ہوتے ہیں یا پھر زندیق ہوتے ہیں جیسے اہل کتاب کے مشائخ ۔

سابقین اولین ائمہ اہل سنت والحدیث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تقدیم دینے پر متفق ہیں ۔ان کا یہ اجماع و اتفاق کسی رغبت یا لالچ کی وجہ سے یا کسی خوف و ڈر کی بنا پر نہ تھا۔حالانکہ ان حضرات کی آراء و افکار او رمقاصد و علوم مختلف تھے ؛ اور دوسرے علم مسائل میں ان کے مابین کثرت کے ساتھ اختلاف بھی پایا جاتاہے۔مگر اس کے باوجود صحابہ اورتابعین میں ائمہ اس نظریہ و عقیدہ پر متفق ہیں ۔ پھر ان کے بعد حضرت امام مالک بن انس ؛ او رابن ابی ذئب ؛ اور عبد العزیز بن الماجشون اوردوسرے علماء مدینہ طیبہ کا اس پر اتفاق ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ نے اپنے مشائخ و اساتذہ سے حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کی افضلیت پر اجماع نقل کیا اور فرمایا کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ ابن جریج؛ سعد بن سالم ؛ مسلم بن خالد زنجی؛ ابن عیینہ اور علماء مکہ رحمہم اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔ علاوہ ازیں امام ابوحنیفہ ‘ ثوری؛ شریک بن عبد اللہ؛ ابن ابی لیلی؛ اور دیگر علماء بصرہ اور شیعہ کے مرکز کوفہ کے علماء رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔یہاں تک کہ امام ثوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :

’’ جو کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتا ہے ؛ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتا ہوگا ۔‘‘[سنن ابی داؤد ۴؍۲۸۸۔]

مزید برآں حماد بن زید؛ حماد بن سلمہ؛ سعید بن ابی عروبہ ؛ اور ان کے امثال علماء بصرہ ؛ اوزاعی ؛ سعید بن عبد العزیز جیسے علماء شام ؛ اورمصری علماء میں سے عمر بن حارث و لیث بن سعد و ابن وہب ؛ پھر ان کے بعد عبد اللہ بن مبارک ؛ وکیع ابن الجراح ؛ عبد الرحمن بن مہدی؛ ابو یوسف ؛ محمد بن الحسن ؛ اور امام شافعی؛ احمد بن حنبل؛ اسحاق بن ابراہیم ؛ ابی عبید ؛ امام بخاری ؛ ابو داؤد ؛ ابراہیم الحربی؛ اور فضیل بن عیاض ؛ ابو سلیمان الدارانی ؛ معروف الکرخی؛ سری السقطی ؛ جنید ؛ سہیل بن عبداللہ التستری؛اور لا تعداد علماء رحمہم اللہ جن کی صحیح تعداداللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا؛ اسلام میں جن کی سچائیوں کے چرچے ہیں ؛یہ تمام حضرات حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تقدیم و فضیلت کا دو ٹوک اور قطعی عقیدہ رکھتے تھے۔اور ان دونوں اصحاب کو ائمہ بر حق مانتے تھے۔ ان حضرات کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اور سنت پر عمل کی مشکورانہ کوششیں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات کو پتہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو تقدیم بخشتے تھے ۔اور محبت و ثناء اور مشاورت میں ان کو فضیلت دیتے تھے۔ان کے علاوہ بھی فضیلت کے کئی اسباب تھے۔