امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل یہ آیت کریمہ ہے:

﴿ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْنَ﴾ (الحجر:۴۷)

’’ وہ بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔‘‘

مسند احمد میں حضرت زید بن ابی اوفیٰ سے مروی ہے کہ میں مسجد نبوی میں پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس میں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مواخات کا واقعہ بیان کیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’میری روح چلی گئی ؛ اور میری کمر ٹوٹ گئی ؛ جب آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ بیشک یہ مجھ پر اللہ کی ناراضگی کے سبب سے ہے ۔ اور آپ کے لیے آخرت میں عزت و کرامت ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا! میں نے تجھے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ) اپنے لیے منتخب کیا ہے آپ کو مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھا‘ البتہ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں کیا جائے گا۔‘‘

آپ میرے بھائی اور وارث ہیں آپ جنت کے محل میں میرے ہم راہ ہوں گے۔ اور وہاں میری بیٹی فاطمہ بھی ہو گی۔ تم میرے بھائی اور میرے دوست ہو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقَابِلِیْن﴾آپٍ کی وجہ سے محبت کرنے والے ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے ۔ مؤاخات مناسبت اور مجانست کو چاہتی ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے مواخات (بھائی چارہ) کے لیے مختص کیا تھا۔ لہٰذا آپ ہی امام ہوں گے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]

[جواب]:

٭ پہلی بات: ہم اس روایت کی صحیح سند پیش کرنے کامطالبہ کرتے ہیں ۔

ہم کہتے ہیں کہ یہ روایت مسند احمدمیں ذکر نہیں کی گئی۔اور نہ ہی امام احمد نے اسے روایت کیا ہے۔نہ ہی مسند میں اور نہ ہی الفضائل میں ۔اور نہ ہی آپ کے بیٹے نے یہ روایت نقل کی ہے۔ رافضی مصنف کا یہ کہنا کہ یہ روایت مسند أحمد میں ہے ‘ امام احمد بن حنبل پر ایک کھلا ہوا جھوٹ اور بہتان ہے۔ بلکہ یہ روایت بھی القُطیعی کے اضافات سے ہے جس میں باتفاق اہل علم جھوٹ اور موضوعات کی بھر مار ہے۔ القطیعی نے اپنی سند سے زید بن ابی اوفیٰ سے روایت کیا ہے۔

اس کی سند یوں ہے : عن عبدِ اللّٰہِ بنِ محمدِ بنِ عبدِ العزِیزِ البغوِیِ، حدثنا حسین بن محمد الذارِع، حدثنا عبد المؤمِنِ بن عباد، حدثنا یزِید بن معن، عن عبدِ اللہِّٰ بنِ شرحبِیل، عن زیدِ بنِ أبِی أوفی۔‘‘ 

نیز اس رافضی نے اس روایت کے پورے الفاظ بھی ذکر نہیں کیے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں جو رافضی نے قصداً حذف کردیے ہیں ۔جب آپ نے فرمایا:’’آپ میرے بھائی اور وارث ہیں ‘‘تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ سے ورثہ پاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: ’’وہی ورثہ جو انبیاء سابقین دوسروں کو دیا کرتے تھے۔آپ سے پوچھا گیا: پہلے کے انبیاء دوسروں کو کیا ورثہ دیتے تھے ؟ توآپ نے فرمایا: ’’کتاب اللہ اور سنت رسول۔‘‘

یہ اسناد ظلم و جہالت پر مشتمل ہے۔اس کے روایت کرنے میں عبد المؤمن بن عباد راوی ہے جو کہ مجروحین میں سے ایک ہے۔ ابو حاتم نے اسے یزید بن معن سے روایت کرنے میں ضعیف قرار دیا ہے۔اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ یزید بن معن کون ہے۔ شائد کہ جس نے عبداللہ بن شرحبیل کی زبان پر اس روایت کو ایجاد کر لیا ہووہ کوئی مجہول ہو۔جوکہ قریش میں سے ایک آدمی سے روایت کرتا ہے ؛ او روہ آدمی زید بن ابی اوفی سے روایت کرتا ہے ۔

٭ دوسری بات : یہ روایت باتفاق محدثین و اہل علم کذب ہے۔

٭ تیسری بات: مہاجرین و مہاجرین اور انصار و انصار کے مابین مؤاخات کی تمام روایات جھوٹ ہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مؤاخات قائم نہیں کی تھی ؛ اور نہ ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ کو عمر رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایاتھا۔یہ مواخات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کے درمیان قائم نہیں کی تھی، بلکہ مہاجر و انصار کے درمیان تھی۔جیسا کہ آپ نے عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ربیع کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ اور حضرت سلیمان الفارسی اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہم کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ایسے ہی حضرت علی اور حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما کے مابین بھائی چارہ قائم کیا تھا۔

مؤاخات کا واقعہ بنی نجار کے محلے میں پیش آیا تھا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ مسجد نبوی میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جیسے بعض جاہل لوگ موضوع روایت میں بیان کرتے ہیں ۔بلکہ یہ واقعہ بنی نجار کے محلے میں ان میں سے ایک آدمی کے گھر پر پیش آیا تھا۔یہی وہ مؤاخات ہے جس کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں ۔ عاصم بن سلیمان الاحول کہتے ہیں : میں نے انس سے کہا : میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

’’ اسلام میں کوئی حلف [اتحاد] نہیں ہے ۔‘‘توحضرت انس نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں قریش اور انصار کے درمیان اتحاد (یعنی بھائی چارہ] قائم کیا تھا ۔‘‘[رواہ البخاری ۳؍۹۶؛ ومسلم ۴؍۱۹۶۰ ]

٭ چوتھی بات : اس روایت کے یہ الفاظ آپ میرے بھائی اور میرے وارث ہیں ۔ درست نہیں ۔اہل سنت اور شیعہ کے قول کے مطابق یہ الفاظ باطل ہیں ۔کیونکہ اگر اس سے مالی وراثت مراد لی جائے تو ان کا یہ قول باطل ٹھہرے گا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ آپ کی وارث ہوئی تھیں ۔ ظاہر ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ موجود تھے توحضرت علی رضی اللہ عنہ چچا زاد بھائی ہونے کی صورت میں کیوں کر وارث ہو سکتے تھے؟ پھر یہ کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد اور بھی موجود تھے تو ان میں سے صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کس طرح وارث قرار پا سکتے تھے؟جب کہ یہ سارے ایک ہی درجہ میں ہیں ۔

صفحہ 1 از 4