امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

اگر علمی وراثت یا امامت و خلافت مراد ہے تو شیعہ کا احتجاج آیت کریمہ:﴿وَ وَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاؤُدَ﴾ (النمل ۱۶) ’’اور سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث بنے ۔‘‘ 

اور آیت:﴿فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا٭ یَرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ﴾( مریم:۶) 

’’مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا کرجو میرا وارث اور آل یعقوب کا وارث بنے ۔‘‘ سے باطل ٹھہرا۔

جب لفظ وراثت میں دونوں چیزوں کا احتمال موجود ہے ؛ توممکن ہے کہ ان انبیائے کرام علیہم السلام سے بھی ایسے ہی وراثت ملی ہو جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وراثت ملی ۔

اہل سنت والجماعت یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علمی ورثہ عطا کیا تھا اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیض سب صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے عام تھا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ستر سورتیں یاد کی تھیں ۔[صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب القراء من اصحاب رسول اللّٰہ رضی اللّٰہ عنہم (ح۵۰۰۰)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل عبد اللّٰہ بن مسعود و امہ رضی اللّٰہ عنہما (حدیث:۲۴۶۲) ]

یہ امر بھی قابل غور ہے کہ علم مال کی طرح کسی فرد بشر کے ساتھ مختص نہیں ہوتا بلکہ ایک کے حصہ میں جو ورثہ آتا ہے ، دوسرا بھی اس سے فیض یاب ہو سکتا ہے۔ دونوں میں تزاحم و تصادم کا کوئی امکان نہیں ۔ مال کا معاملہ اس سے یک سر مختلف ہے۔یہ ناممکن ہے کہ مال کی ایک ہی چیز دو آدمی برابر لے لیں ۔

٭ پانچویں بات : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی بھائی کہا ہے ۔بخاری و مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام زید سے کہا:’’ آپ میرے بھائی اور مولیٰ ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الصلح، باب کیف یکتب ھذا ما صالح فلان....‘‘ (حدیث: ۲۶۹۹)، مطولاً۔]

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ان کی بیٹی کا رشتہ طلب کیا تھا توانہیں مخاطب کرکے فرمایا:

’’ میں آپ کا بھائی ضرور ہوں مگر تمہاری بیٹی میرے لیے حلال ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب تزویج الصغار من الکبار(حدیث:۵۰۸۱)، یہ مکالمہ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین ہے۔ واللّٰہ أعلم۔ ]

روایات صحیحہ میں آیا ہے کہ آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:

’’ اسلامی برادری سب سے بہتر ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، باب الخوخۃ والممر فی المسجد (حدیث: ۴۶۷، ۳۶۵۷)۔]

احادیث صحیحہ میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا:’’ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا ۔‘‘

صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟‘‘ فرمایا :نہیں ، تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ ہیں جومیرے بعد پیدا ہوں گے۔ وہ بلا دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔[صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب استحباب اطالۃ الغرۃ(حدیث:۲۴۹)۔]

مراد یہ ہے کہ تمہارے ساتھ ایک بھائی چارے سے بھی بڑھ کر مخصوص چیز ہے یعنی صحبت ۔ اور ان کے لیے صحبت کے بغیر بھائی چارہ ہے۔اللہتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں :

﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ﴾ (الحجرات:۱۰)

’’بیشک سب مومن بھائی بھائی ہیں ۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لا تقاطعوا ؛ولا تدابروا،ولا تباغضوا،ولا تحاسدوا،وکونوا عباد اللّٰہِ إخواناً))[متفق علیہ]

’’ آپس میں قطع رحمی نہ کرو۔اور نہ ہی آپس میں حسد کرو،اور نہ ہی بغض رکھو،اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرو، اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الادب، باب ما ینھی عن التحاسد والتدابر (حدیث:۶۰۶۴)، صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظن(حدیث:۲۵۶۳) ]

نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک مسلم دوسرے مسلم کا بھائی ہوتا ہے؛ وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظالموں کے سپرد کرتا ہے۔‘‘ [البخاری باب لا یظلم المسلم المسلم....‘‘(ح:۲۴۴۲)، مسلم، باب تحریم الظلم(ح:۲۵۸۰)۔]

نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((والذي نفسي بیدہ ! لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ من الخیر ما یحب لنفسہ))۔[بخاری۱۳]

’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی خیرنہ پسند کرے جسے وہ اپنے نفس کے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘

یہ تمام احادیث اور اس طرح کی دیگر روایات صحاح ستہ میں پائی جاتی ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلق مواخات کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بھائی چارہ قائم کرنے والوں میں کامل تماثل و تشابہ پایا جاتا ہے ۔ بنابریں اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ نبی کریم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا بھائی بنایا تھا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ سب سے افضل ہوں گے اورامام بھی۔‘‘

جب یہ بات صحیح ثابت ہوگئی ؛ تو پھر یہ کیوں کہا گیا کہ : اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مؤاخات والی حدیث اگر صحیح ثابت ہو جائے تواس کا مقتضی امامت اور افضلیت ہوتا ہے؟حالانکہ مؤاخات مشترکہ ہوتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو گہرا دوست بنانا چاہتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا؛ مگر تمہارا یہ ساتھی اللہ کا گہرا دوست ہے۔مسجد نبوی کی طرف کھلنے والی سب کھڑکیاں بند کردی جائیں مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کھلی رہے۔صحبت ورفاقت اور انفاق مال کے اعتبار سے ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے سب سے بڑے محسن ہیں۔‘‘[البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم’’لو کنت متخذا خلیلاً‘‘ (ح۳۶۵۸)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۲۳۸۲، ۶؍۲۳۸۳)۔]

صفحہ 2 از 4