امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

اس حدیث میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ان خصائص کا اثبات ہے جن میں کوئی دوسرا آپ کا سہیم و شریک نہیں ۔اور یہ حدیث اس باب میں انتہائی صریح ہے کہ روئے زمین پر آپ سے زیادہ کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب نہیں تھا۔اور نہ ہی کسی کا مقام و مرتبہ آپ سے بلند تھا۔ اور نہ ہی کسی کا درجہ آپ سے اونچا تھا۔ اور نہ ہی کسی کو آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر خصوصیت کا شرف حاصل تھا۔

حدیث صحیح میں منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا:

’’اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے کون آپ کو عزیز تر ہے؟ فرمایا:’’عائشہ رضی اللہ عنہا ۔‘‘

پھر پوچھا گیا : مردوں میں سے کون عزیز تر ہے ؟ آپ نے فرمایا: اس کا باپ یعنی حضرت ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ ۔‘‘

صحیحین میں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایاتھا :

’’ بلکہ آپ ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب سے زیادہ آپ کو چاہتے تھے۔‘‘

یہ وہ احادیث ہیں جن کی صحت اور قبولیت پر اہل علم کا اتفاق ہے۔اہل علم میں سے کسی ایک نے بھی ان احادیث پر تنقید نہیں کی۔اس سے واضح ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے چہیتے اور تمام لوگوں میں سے اونچی شان کے مالک تھے۔لیکن اس کے باوجوداگر مؤاخات کادرجہ اس سے کم ہے ؛تو بھی ان کا آپس میں کوئی تعارض نہیں ۔

اور اگر اس کا مرتبہ اس سے اعلی ہے ؛ تویہ صحیح احادیث اس قسم کی مؤاخات کوجھٹلا رہی ہیں ۔ہمیں اس تعارض کے بغیر بھی اس مؤاخات کی روایت کے جھوٹا ہونے کا علم تھا۔

یہاں پر یہ بتانامقصود ہے کہ صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر محبوب تھے۔ اور باقی لوگوں کی نسبت آپ کا مقام و مرتبہ بھی زیادہ تھا؛ اس کے شواہد بہت زیادہ ہیں ۔

اسّی[۸۰] سے زیادہ افراد نے تواتر کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے کہ آپ نے [کوفہ کے منبر پر تقریر کرتے ہوئے ] فرمایا:

’’ امت محمدی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر عمر رضی اللہ عنہ ۔‘‘ [صحیح بخاری،حوالہ سابق، (حدیث:۳۶۶۲)، صحیح مسلم، حوالہ سابق، (حدیث: ۲۳۸۴)۔]

یہی بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شایان شان تھی کیونکہ آپ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے حق کاباقی صحابہ سے زیادہ علم رکھتے تھے۔اور اسلام میں ان کی قدرو منزلت اور دین میں حسن ِ تأثیر سے خوب شناسا تھے؛یہاں تک کہ آپ تمنا فرمایا کرتے تھے کہ :

’’وہ اللہ سے اس حال میں ملیں کہ ان کے اعمال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ہوں ۔‘‘ رضی اللہ عنہم ۔

امام ترمذی اور دوسرے محدثین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے ؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’[یہ دونوں انبیا و مرسلین کے علاوہ] جنت کے تمام ادھیڑ عمر لوگوں کے سردار ہیں ۔ اے علی !تم انہیں اس کی خبر نہ دینا۔‘‘[جامع ترمذی:ج۲: ح ۱۶۳۱ ؛ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔]

اگر ان صحیح احادیث کا مقابلہ پرندے والی روایت ؛ یا مؤاخات والی روایت سے کیا جائے توبلا شک و شبہ یہ احادیث باتفاق مسلمین ان کی نسبت صحیح تر ہوں گی۔ توپھر جب ان کے ساتھ دوسری صحیح احادیث بھی ملادی جائیں جن کے صحیح ہونے میں کسی کو بھی شک نہیں ؛ تو ان کا کیا کہنا ۔کثرت کے ساتھ متعدد دلائل کی روشنی میں ان کا علم رکھنے والے کے لیے لازمی علم حاصل ہوجاتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام میں سے سب سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب؛ اور عمر و عثمان و علی اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی نسبت سے افضل تھے۔جو بھی انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے احوال کی معرفت رکھتا ہواسے ضرور اس بات کا اعتراف رہے گا۔مذکورہ صدر نصوص احادیث صحیحہ کے بارے میں وہی شخص شک و شبہ کا شکار ہو سکتا ہے جسے صحیح اور ضعیف میں کوئی تمیز نہ ہو؛ [یاجو جاہل ہو یا جس پر بدعت کا غلبہ ہو]۔وہ یا توتمام احادیث کی تصدیق کرتا ہے یا پھر تمام احادیث میں توقف کرتا ہے ۔

جب کہ محدثین اور فقہاء بہت اچھی طرح سے [یہ بات ]جانتے ہیں ؛ ان کو بھی چھوڑیے ؛اس میں کوئی شک نہیں کہ امت کا ہر ایک سچا عالم و عابد اور زاہد حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تقدیم دینے میں یک زبان ہیں ۔

امام بیہقی رحمہ اللہ اپنی سند کے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

’’صحابہ و تابعین میں سے کسی نے بھی حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کو افضل الصحابہ قرار دینے میں اختلاف نہیں کیا۔‘‘[مناقب الشافعي للبیہقي ۱؍۴۳۴۔]

ایسے ہی دیگر علماء اسلام نے بھی اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کیا۔ جیسا کہ حضرت امام مالک اور ان کے اصحاب ، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ،امام احمد اور ان کے اصحاب، ثوری اور ان کے اصحاب، لیث اور ان کے اصحاب، اوزاعی اور ان کے اصحاب، اسحاق اور ان کے اصحاب، داؤد اور ان کے اصحاب اور ابن جریر اور ان کے اصحاب؛ ابو ثور اور ان کے اصحاب اور دیگر تمام مشہور ائمہ سلف و خلف رحمہم اللہ سب یہی نظریہ رکھتے ہیں ۔اگر کسی نے اختلاف کیا بھی ہوگا تو کوئی ایسا ہوگا جس کے قول کی دو ٹکے کی اہمیت نہ ہوگی ؛ اور نہ ہی کوئی اس کی بات سنتا و مانتا ہوگا۔

صفحہ 3 از 4