امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

ہمیں اس بارے میں اہل فتوی میں سے کسی ایک کا بھی اختلاف معلوم نہیں ہوسکا۔سوائے حسن بن صالح بن حیّ کے ؛ان کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فضیلت دیتے تھے ۔ او ریہ بھی کہاگیا ہے کہ یہ آپ پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔اگر یہ بات صحیح بھی ثابت ہوجائے ؛ تب بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے نقل کردہ اجماع پر کوئی قدح وارد نہیں ہوسکتی۔اس لیے کہ حسن بن صالح نہ ہی صحابہ میں سے تھے اور نہ ہی تابعین میں سے۔جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقدیم پر اجماع نقل کیاہے۔اگر حسن بن صالح نے ایسی کوئی بات کہی بھی ہوگی تو لاکھوں ائمہ میں سے کسی ایک کا غلطی کرجانا کوئی اچھوتی بات نہیں ہے۔

روافض میں کوئی ایسا عالم نہیں ہے جو علوم اسلامیہ میں سے کسی چیز میں امام ہو‘ نہ ہی علم حدیث میں نہ فقہ میں ؛ نہ تفسیر میں ؛ نہ ہی قرآن میں ۔بلکہ رافضیوں کے مشائخ یا تو بالکل جاہل ہوتے ہیں یا پھر زندیق ہوتے ہیں جیسے اہل کتاب کے مشائخ ۔

سابقین اولین ائمہ اہل سنت والحدیث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تقدیم دینے پر متفق ہیں ۔ان کا یہ اجماع و اتفاق کسی رغبت یا لالچ کی وجہ سے یا کسی خوف و ڈر کی بنا پر نہ تھا۔حالانکہ ان حضرات کی آراء و افکار او رمقاصد و علوم مختلف تھے ؛ اور دوسرے علم مسائل میں ان کے مابین کثرت کے ساتھ اختلاف بھی پایا جاتاہے۔مگر اس کے باوجود صحابہ اورتابعین میں ائمہ اس نظریہ و عقیدہ پر متفق ہیں ۔ پھر ان کے بعد حضرت امام مالک بن انس ؛ او رابن ابی ذئب ؛ اور عبد العزیز بن الماجشون اوردوسرے علماء مدینہ طیبہ کا اس پر اتفاق ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ نے اپنے مشائخ و اساتذہ سے حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کی افضلیت پر اجماع نقل کیا اور فرمایا کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ ابن جریج؛ سعد بن سالم ؛ مسلم بن خالد زنجی؛ ابن عیینہ اور علماء مکہ رحمہم اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔ علاوہ ازیں امام ابوحنیفہ ‘ ثوری؛ شریک بن عبد اللہ؛ ابن ابی لیلی؛ اور دیگر علماء بصرہ اور شیعہ کے مرکز کوفہ کے علماء رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔یہاں تک کہ امام ثوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :

’’ جو کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتا ہے ؛ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتا ہوگا ۔‘‘[سنن ابی داؤد ۴؍۲۸۸۔]

مزید برآں حماد بن زید؛ حماد بن سلمہ؛ سعید بن ابی عروبہ ؛ اور ان کے امثال علماء بصرہ ؛ اوزاعی ؛ سعید بن عبد العزیز جیسے علماء شام ؛ اورمصری علماء میں سے عمر بن حارث و لیث بن سعد و ابن وہب ؛ پھر ان کے بعد عبد اللہ بن مبارک ؛ وکیع ابن الجراح ؛ عبد الرحمن بن مہدی؛ ابو یوسف ؛ محمد بن الحسن ؛ اور امام شافعی؛ احمد بن حنبل؛ اسحاق بن ابراہیم ؛ ابی عبید ؛ امام بخاری ؛ ابو داؤد ؛ ابراہیم الحربی؛ اور فضیل بن عیاض ؛ ابو سلیمان الدارانی ؛ معروف الکرخی؛ سری السقطی ؛ جنید ؛ سہیل بن عبداللہ التستری؛اور لا تعداد علماء رحمہم اللہ جن کی صحیح تعداداللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا؛ اسلام میں جن کی سچائیوں کے چرچے ہیں ؛یہ تمام حضرات حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تقدیم و فضیلت کا دو ٹوک اور قطعی عقیدہ رکھتے تھے۔اور ان دونوں اصحاب کو ائمہ بر حق مانتے تھے۔ ان حضرات کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت اور سنت پر عمل کی مشکورانہ کوششیں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان حضرات کو پتہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو تقدیم بخشتے تھے ۔اور محبت و ثناء اور مشاورت میں ان کو فضیلت دیتے تھے۔ان کے علاوہ بھی فضیلت کے کئی اسباب تھے۔


صفحہ 4 از 4