شیعہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاویہ (رضی اللہ عنہ) ایک تابوت میں دوزخ کے نچلے درجے میں ہو گا اور کہے گا اس سے قبل میں نافرمان اور مفسد تھا۔
مولانا ابوالحسن ہزارویشیعہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاویہ (رضی اللہ عنہ) ایک تابوت میں دوزخ کے نچلے درجے میں ہو گا اور کہے گا اس سے قبل میں نافرمان اور مفسد تھا۔
جواب اہلسنّت
یہ مذکورہ روایت حدیث کی کسی بھی مشہور کتاب میں نہیں ہیں اور نہ صحاح ستہ میں ہے صحابہ کی تعریف میں سینکڑوں آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ کے مقابلے میں ایسی جھوٹی اور فرضی اور غیر معتبر روایات کے ذریعہ صحابہ کرام پر طعن و تشنیع کرنا شیعہ روافض کا ہی کام ہے اور ہوسکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جہنمی اور اسفل السافلین میں سے تھے تو ایسے شخص کا اسلام کیوں قبول کیا گیا۔ کاتب وحی، میر منشی کیوں بنایا گیا ان کے دینی اور جنگی خدمات کو کیوں قبول کیا؟ اس کے تعریف میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے کیوں احادیث بیان فرمائیں؟ فاروق اعظمؓ نے انہیں امیر شام کیوں بنایا؟ صحابہ کرامؓ اور بالخصوص علیؓ، حسنین رضی اللہ عنہ نے اس پر اعتراض کیوں نہیں کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ صلح کیوں کی؟ شیعہ کتابوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبانی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی کیوں تعریف موجود ہے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما نے صلح کے بعد ان کے ہاتھ پر کیوں خلافت کی بیعت کی تھی حسنین رضی اللہ عنہ ایسے شخص سے کیوں وظیفہ لیتے رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان سب واقعات صحیح سے بالکل عیاں ہے کہ اس قسم کی روایات شیعہ کی طرف سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دُشمنی میں چلائی گئی ہیں۔