وفد بنو حنیفہ کی واپسی
علی محمد الصلابیبنو حنیفہ کا وفد جب یمامہ واپس پہنچ گیا تو مسیلمہ نے باقاعدہ نبوت کا دعویٰ کر دیا اور نبی کریمﷺ کے ساتھ نبوت میں شریک ہونے کا اعلان کر دیا، اس نے آپﷺ کے اس قول کو سہارا بنایا:
وہ تم سے برا نہیں۔
اور اپنی قوم کو مسجع عبارتیں سناتا، جس چیز کوچاہتا حلال کرتا، جس چیز کو چاہتا حرام کرتا اور اس طرح اپنی نبوت کا ڈھنڈورا پیٹتا۔ اس کے مزعومہ قرآن میں سے یہ عبارت ہے:
لقد انعم اللہ علی الحبلی، اخرج منہا نسمۃ تسعی، من بین صفاق وحشی۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 73)
فمنہم من یموت ویدَسُّ الی الثَّری، ومن یبقی الی اجل مسمّٰی واللہ یعلم السِّرَّ واخفی۔
ترجمہ: تحقیق اللہ تعالیٰ نے حاملہ پر انعام کیا، اس سے جھلی اور اوجھری کے درمیان سے دوڑتی ہوئی جان نکالی۔ ان میں سے کچھ مر جاتے اور زمین کے نیچے دبا دیے جاتے ہیں اور کچھ مقررہ وقت تک باقی رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے۔
(البدء والتاریخ للمَقْدِسی: جلد 5 صفحہ 162)
یا ضفدع بنت ضفدعین! نقِّی ما تنقِّین، أعلاک فی الماء واسفلک فی الطِّین، لا الشارب تمنعین ولا الماء تکدِّرین۔
ترجمہ: اے مینڈکی! دو مینڈکوں کی بیٹی! ٹر ٹر کرتی رہ۔ تیرا سر پانی میں اور تیری دم مٹی میں ہے، نہ تو تو پینے والے کو روکتی ہے اور نہ پانی کو گدلا کرتی ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 102)
مسیلمہ کذاب نے معانی کو بدلتے ہوئے قرآنی اسلوب کو چرانے کی کوشش کی تاکہ اس کو بگاڑ کر بدنما کر دے، جیسے اس کا یہ کہنا:
فسبحان اللہ اذا جائت الحیاۃ کیف تحیون والی ملک السماء ترقون، فلو انہا حبَّۃ خردلۃٍ لقام علیہا شہید یعلم ما فی الصدور ولاکثر الناس فیہا ثبور۔
ترجمہ: سبحان اللہ! جب زندگی آ جائے کیسے زندہ رہو گے اور آسمان کی سلطنت کی طرف چڑھو گے، اگر رائی کا دانہ ہو اس پر گواہ ہو گا جو سینوں کی باتوں کو جانتا ہے۔ اکثر لوگوں کے لیے اس میں ہلاکت ہے۔
(تفسیر ابن کثیر: جلد 4 صفحہ 547 طبعۃ الحلبی)
یہ بیہودہ اور غیر مربوط کلام کسی پر مخفی نہیں۔ ابنِ کثیر نے ذکر کیا ہے کہ اسلام لانے سے قبل حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب سے ملاقات کی، تو اس نے آپ سے پوچھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر قرآن میں سے کیا نازل ہوا ہے؟
سیدنا عمرو بن عاصؓ نے فرمایا: ان پر اللہ نے سورۃ العصر نازل فرمائی ہے۔ مسیلمہ نے فوراً کہا: مجھ پر بھی اللہ تعالیٰ نے اسی کے مثل نازل فرمایا ہے:
یا وبریا وبر انما انت اذنان وصدر وسائرک حفر نقر۔
ترجمہ: اے وبر اے وبر! تمہارے دو کان اور سینہ اور باقی جسم کھدا ہوا بدصورت ہے۔
(وبر: بلی سے مشابہ ایک جانور ہے جس کے کان لمبے ہوتے ہیں۔ تفسیر ابن کثیر: جلد 4 صفحہ 547) (مترجم)
(تفسیر ابن کثیر: جلد 4 صفحہ 547)
یہ سن کر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ اے مسیلمہ! تجھے علم ہے کہ میں جانتا ہوں کہ تو جھوٹ بکتا ہے۔
(تفسیر ابن کثیر: جلد 4 صفحہ 547)
علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے اس قول پر تعلیق میں فرماتے ہیں: مسیلمہ نے اس بکواس کے ذریعہ سے قرآن کا معارضہ کرنا چاہا لیکن اس وقت کے بت پرست پر بھی اس کا داؤ چل نہ سکا۔
(اعجاز القرآن: تحقیق سید صقر صفحہ 156)
ابوبکر باقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسیلمہ کذاب کا کلام اور جس کے بارے میں اس کا زعم تھا کہ قرآن ہے، اس سے کہیں گیا گزرا ہے کہ اس میں مشغول ہوا جائے اور اس سے کہیں گرا ہوا کلام ہے کہ اس میں غور و فکر کیا جائے۔ یہ تو صرف قارئین کے تعجب کے لیے اور عبرت و بصیرت حاصل کرنے کے لیے ہم نے نقل کیا ہے۔ گرا ہوا ہونے کے ساتھ گمراہ کن اور رکاکت کے ساتھ حق سے پھرا ہوا ہے اور میدان جہالت بہت وسیع ہے۔
(حروب الردۃ: احمد سعید صفحہ 147)