Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رسول اللہﷺ کے نام مسیلمہ کا خط اور اس کا جواب

  علی محمد الصلابی

ہجرت کے دسویں سال جب رسول اللہﷺ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو اس خبیث کو جرأت ہوئی اور اس نے اس زعم میں مبتلا ہو کر رسول اللہﷺ کو خط تحریر کیا کہ اس کو آپﷺ کے ساتھ نبوت میں شرکت حاصل ہے۔ اس خط کو عمرو بن جارود حنفی نے لکھا اور عبادہ بن حارث حنفی معروف بہ ابن نواحہ کے ہاتھ ارسال کیا۔ اس خط کا متن یہ ہے:

مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہﷺ کے نام۔ اما بعد!

نصف زمین ہماری ہے اور نصف قریش کی لیکن قریش انصاف نہیں کرتے۔

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 386)

رسول اللہﷺ نے اس کے خط کا جواب دیا، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ جواب تحریر کیا جس کا متن یہ ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

محمد نبیﷺ کی طرف سے مسیلمہ کذاب کے نام۔ اما بعد!

زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، اس کا وارث بناتا ہے، اور انجام کار متقیوں کے لیے ہے، جو ہدایت کی پیروی کرے اس کو سلام۔

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 387)

مسیلمہ کذاب نے اپنا خط دو آدمیوں کے ذریعہ سے ارسال کیا تھا جن میں سے ایک ابنِ نواحہ مذکور تھا۔ جب رسول اللہﷺ اس خط سے مطلع ہوئے تو ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ نے کہا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر سفیروں کو قتل کرنا صحیح ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا۔

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 386)