امامت علی رضی اللہ عنہ کی چالیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی چالیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

پہلی وجہ :....[آپ کی تفسیر بھی ]ممنوع ہے۔ بلکہ لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی گزرے ہیں ‘جو اس آیت سے اور اس طرح کی بعض دوسری آیات سے خاص ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کو مراد لیتے ہیں ۔

دوسری وجہ :....کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس آیت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کو خاص کردیا گیا ہے ۔ جب کہ کسی دوسرے کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی اور کو اس آیت کی تفسیر کے ساتھ خاص کردیں ۔ تو یہ دونوں دلائل ایک ہی جنس سے ہوں گے۔ یہ بات شیعہ کی دلیل کے فاسد ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگرچہ اس طرح کی بات پہلے کسی نے نہ بھی کہی ہو۔ اس لیے کہ جب کوئی انسان جھوٹ بولتا ہے تو کسی دوسرے کے لیے اس جیسے جھوٹ کے ساتھ مقابلہ کرنا ممکن ہوتا ہے ۔ تو اس دلیل کا توڑ اس جیسی ہی دلیل سے ہوسکتا ہے ۔ تو پھر اس صورت میں واجب ہوتا ہے یا تو دونوں کی تصدیق کی جائے یا پھر دونوں کی تکذیب کی جائے۔

قاسم بن زکریا کی حکایت مشہور ہے؛وہ عباد بن یعقوب اسدی رافضی کے پاس گیا۔[وہ کہتا ہے] اس [رافضی ] نے مجھ سے کہا: ’’دریا کس نے کھودا؟‘‘

میں نے کہا:’’ اللہ تعالیٰ نے۔‘‘

اس نے کہا:’’ تم سچ کہتے ہو، مگر یہ بتاؤ دریا کس نے کھودا؟‘‘

میں نے کہا:پھر آپ ہی ارشاد فرمائیں ۔‘‘

عباد نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھودا تھا۔ ‘‘

پھر اس نے پوچھا :’’ دریا کو کس نے جاری کیا؟‘‘

میں نے کہا:’’ اللہ تعالیٰ نے۔‘‘

تم سچ کہتے ہو، مگر یہ بتاؤ دریا کس نے جاری کیا تھا؟‘‘

میں نے کہا:آپ ہی فرمائیں ۔

عباد نے کہا:’’ حسین نے جاری کیا۔‘‘

[[عباد نابینا تھا۔ جب میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو؛ میں نے اس کے پاس ایک تلوار اور ڈھال دیکھی تو پوچھا یہ کس کی ہے ؟ عباد کہنے لگا :میں نے مہدی کے ساتھ لڑنے کے لیے یہ تلوار رکھی ہے۔ میں اس کی باتیں سن کر فارغ ہوا اور]] جب جانے کے ارادہ سے کھڑا ہونا چاہا تواس نے پھر پوچھا : ’’دریا کس نے کھودا؟ ‘‘

میں نے کہا:’’ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے۔‘‘

پھر اس نے پوچھا اس میں پانی کس نے جاری کیا : میں نے کہا: یزید نے ۔

اس پر وہ بہت غصہ ہوا اور کھڑا ہوگیا۔‘‘ [حافظ ذہبی فرماتے ہیں یہ حکایت صحیح ہے، اسے ابن مظفر نے قاسم سے روایت کیا ہے۔ محمد بن جریر کہتے ہیں ، میں نے عباد بن یعقوب کو یہ کہتے سنا۔ جو نماز میں ہر روز اعداء اہل بیت پر تبرا نہ بھیجے اس کا حشر انہی کے ساتھ ہو گا]

قاسم کی غرض یہ تھی کہ وہ بھی اس پر ایسی ہی بات سے ردّ کرے جیسی بات وہ کہہ رہا ہے ۔ جبکہ تم اس بات کو نا پسند کرتے ہواور اس کو رد کرتے ہو؛ پس جس دلیل سے یہ قول رد ہوگا ‘ اس سے آپ کی دلیل بھی رد ہوجائے گی ۔ ایسے ہی یہی حال رافضیوں اور قرامطہ کی ان تاویلات کا ہے جو لوگوں کی زبان پر ہیں ؛ جیسے ان کا یہ قول :

﴿ فَقَاتِلُوْٓا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ ﴾ [التوبۃ۱۲]

’’ پس کفر کے ائمہ کو قتل کرو ۔‘‘

[اس سے مراد] طلحہ وزبیر ؛ ابو بکر و عمر اور معاویہ رضی اللہ عنہم ہیں ۔اس کے مقابلہ میں خوارج کا قول ہے جو کہتے ہیں : اس سے مراد حضرت علی ‘ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہم ہیں ۔یہ دونوں تفسیریں باطل ہیں ۔یہاں پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ جھوٹی دلیل کے مقابلہ میں ایسی ہی جھوٹی دلیل لے آتے ہیں ۔ او رجس دلیل سے اس قسم کی تفسیر کا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے وہ دونوں کے لیے عام ہے ۔ اس سے ان تمام دلائل کا باطل ہونا ثابت ہوا۔


صفحہ 2 از 2