مسیلمہ کذاب کے پاس رسول اللہﷺکا خط لے جانے والے حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کا مؤقف
علی محمد الصلابیسیدہ اُم عمارہ نسیبہ بنت کعب مازنیہ رضی اللہ عنہا کے فرزند سیدنا حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کا خط لے کر مسیلمہ کے پاس گئے، جب اس کو خط پیش کیا تو مسیلمہ کذاب نے ان سے کہا:
کیا تم اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں؟
فرمایا: ہاں۔
پھر اس نے کہا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟
فرمایا: میں بہرا ہوں سنتا نہیں۔
مسیلمہ بار بار یہی سوال دہراتا رہا اور آپؓ وہی جواب دیتے رہے، اور ہر مرتبہ جب سیدنا حبیبؓ اس کی مانگی مراد پوری نہ کرتے تو وہ ان کے جسم کا ایک عضو کاٹ لیتا۔ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ صبر و استقامت کا پہاڑ بنے رہے، یہاں تک کہ اس نے آپؓ کے ٹکڑے ٹکرے کر ڈالے۔ اس کے سامنے سیدنا حبیبؓ نے جام شہادت نوش کر لیا۔
(اسدالغابۃ: صفحہ 1049)
یہاں ایک طرف رسول اللہﷺ کو دیکھیے کہ کس طرح عہد و پیمان اور عالمی دستور کا احترام کرتے ہیں سفیروں کو قتل نہیں کرتے اگرچہ وہ آپﷺ کے سخت دشمن کافر ہوں، اگرچہ آپﷺ کے سامنے ہی کفر کیوں نہ کر رہے ہوں اور دوسری طرف مسیلمہ کذاب کو دیکھیے، تمام عہد و پیمان سے آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سفیروں کو قتل کرتا ہے، عام قتل نہیں بلکہ مثلہ کر کے شکلیں بگاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے قتل کرتا ہے۔ اسلام اور جاہلیت میں یہی فرق ہے۔ اسلام زبان کا احترام، انسان کا احترام کرتا ہے اور دشمن کے ساتھ شرافت و مردانگی کے ساتھ پیش آتا ہے اور جاہلیت فساد فی الارض اور خواہشات نفس کی اتباع کے علاؤہ کچھ نہیں جانتی۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 74)