Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رجال بن عنفوہ حنفی

  علی محمد الصلابی

بنو حنیفہ میں مسیلمہ کذاب کی دعوت قوت پکڑ گئی۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے مکر و فریب کو قبول کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے اور اس فتنہ کا شکار رَجّال بن عنفوہ بھی ہو گیا جس نے رسول اللہﷺ کی طرف ہجرت کی تھی اور اسلام قبول کر کے قرآن پڑھا اور بعض سورتیں حفظ بھی کر لی تھیں۔ رسول اللہﷺ نے اس کو مسیلمہ کے پاس بھیجا تا کہ وہاں جا کر لوگوں کو اس فتنہ کی حقیقت سے آگاہ کرے اور اس طرح مسیلمہ کے پیروکار اس کا ساتھ چھوڑ کر راہِ راست پر آجائیں۔ لیکن مسئلہ اس کے برعکس ہو گیا، یہ وہاں پہنچ کر لوگوں کے سامنے اس بات کی شہادت دینے لگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مسیلمہ کو نبوت میں شریک کر لیا ہے۔ یہ بدبخت لوگوں کے لیے مسیلمہ سے بڑھ کر فتنہ ثابت ہوا۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 75 علامہ ابن کثیر کے بیان کے مطابق رجال کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اہل یمامہ کو ارتداد سے باز رکھنے اور اسلام کی طرف دعوت دینے اور ثابت قدم رکھنے کے لیے بھیجا تھا اور وہ وہاں پہنچ کر مسیلمہ کا دایاں بازو بن گیا۔ دیکھیے: البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 323 اور مؤلف نے آگے چل کر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جو روایت پیش کی ہے اس سے ابنِ کثیر کے بیان کی تائید ہوتی ہے کہ اس کے ارتداد کا واقعہ دور صدیقی کا ہے) (مترجم) 

رسول اللہﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں رجال کے برے انجام کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: میں کچھ لوگوں کے ساتھ نبی کریمﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، ہمارے ساتھ رجال بن عنفوہ بھی تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم میں ایک شخص ایسا ہے جس کا دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہو گا۔ اس مجلس میں شریک تمام افراد وفات پا گئے، صرف میں اور رجال باقی رہے۔ میں اس فرمان کی وجہ سے خوف زدہ رہتا تھا، یہاں تک کہ رجال نے مسیلمہ کے ساتھ خروج کیا اور اس کی نبوت کی شہادت دی۔ رجال کا فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے عظیم ثابت ہوا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 106 لیکن یہ روایت ابن اسحق نے ایک مجہول شخص کے واسطہ سے روایت کی ہے لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے) (مترجم)